سپریم کورٹ کی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مو¿قف کودرست ثابت کر دیا اور دباو¿ کی سیاست کو مسترد کر دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کے مطابق مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔عدالت کی رائے نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مو¿قف کو مسترد کر دیا کہ آئینی مطالبات سڑکوں کے دباو¿ سے منوائے جا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب اسمبلی کے سپرد کیے جائیں۔عدالت نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار سے ہی ممکن ہے۔آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے، احتجاج یا سیاسی تنازع اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن سڑکوں کی بندش، دھونس اور معمولاتِ زندگی میں خلل آئینی تحفظ حاصل نہیں کرتے۔عدالتی رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کو مزید مضبوط کردیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئینی تبدیلی کا راستہ اسمبلی اور ووٹ ہے۔ دباو¿ اور محاذ آرائی نہیں۔باقی ماندہ دو مطالبات پر حکومت کا مو¿قف درست ثابت ہوا، آئینی مسائل کا حل صرف آئینی طریقہ کار سے ممکن ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ آئینی سوالات کا فیصلہ منتخب نمائندے کریں گے، نہ کہ سڑکوں پر دباو¿ ڈالنے والے گروہ۔ سپریم کورٹ کی رائے نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاست کے امن و استحکام کے تحفظ کے مو¿قف کو تقویت دی۔ مہاجرین کی 12 نشستوں کے تنازع کو بارہا انتظامی یا سیاسی مسئلہ قرار دیا گیا، لیکن عدالت نے اس مو¿قف کو مسترد کر دیا۔ آرٹیکل 22(1)(a)(ii) اور (iii) کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ مہاجر نشستیں قانون ساز اسمبلی کے آئینی ڈھانچے کا حصہ ہیں، لہٰذا انہیں صرف آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ختم، کم یا تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت یا وزیر اعظم کے پاس انتظامی اختیارات کے ذریعے جے اے اے سی کے مطالبات تسلیم کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں تھا، چاہے سیاسی دباو¿ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ا س لیے حکومت کا مذاکراتی مو¿قف مکمل طور پر آئین کے مطابق تھا۔ حکومت کی قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے جے اے اے سی کے ساتھ مذاکرات کیے اور 38 میں سے 36 مطالبات پر اتفاق رائے حاصل کر لیا۔ باقی دو مطالبات آئینی نوعیت کے تھے۔ چونکہ آئینی معاملات انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، اس لیے حکومت کا انہیں منتخب نمائندوں کے سپرد کرنا مذاکرات سے انکار نہیں بلکہ آئینی حدود کا احترام تھا۔ مشاورتی رائے کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں آئینی تبدیلی کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کوئی فرد، گروہ، تنظیم یا تحریک تشدد، دھمکی، سڑکوں کی بندش، انتخابات میں رکاوٹ یا سرکاری اداروں کو مفلوج کر کے آئینی ترمیم پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایسا طرزِ عمل آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔ جے اے اے سی کا مو¿قف تھا کہ وہ اپنے جمہوری حقوق استعمال کر رہی ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ اجتماع اور انجمن سازی کی آزادی آئینی حقوق ہیں، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ حقوق عوامی نظم و ضبط کی پابندیوں کے تابع ہیں اور ان میں شاہراہیں بند کرنا، معاشی سرگرمیاں معطل کرنا، انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا یا دوسرے شہریوں کے حقوق سلب کرنا شامل نہیں۔ آئین پرامن احتجاج کا تحفظ کرتا ہے، لیکن ایسے جابرانہ طریقوں کا نہیں جو آئینی نتائج مسلط کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ عدالت نے انتخابات کے معاملے کو بھی حتمی طور پر واضح کر دیا۔ آرٹیکل 22(4) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ عام انتخابات آئینی طور پر لازمی ہیں اور مقررہ مدت میں منعقد ہونا ضروری ہیں۔ سیاسی تنازعات، احتجاج یا آئینی اختلافات انتخابات میں تاخیر کا جواز نہیں بن سکتے۔ عدالت کے مطابق تمام ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ انتخابی عمل کو سہولت اور تحفظ فراہم کریں۔ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کیونکہ حکومت کا مو¿قف بھی اسی آئینی ذمہ داری پر مبنی تھا۔ جب انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا تو آئینی اصلاحات کے لیے جمہوری راستہ دستیاب تھا۔ جو بھی گروہ مہاجر نشستوں کے آئینی درجے میں تبدیلی چاہتا تھا، وہ انتخابات میں حصہ لے کر عوامی مینڈیٹ حاصل کر سکتا تھا اور اسمبلی کے ذریعے ترمیم کی کوشش کر سکتا تھا۔ تاہم انتخابی میدان میں آنے کے بجائے تحریک کے بعض حلقے تصادم اور احتجاج پر اصرار کرتے رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی مطالبات صرف بلند آواز میں پیش کیے جانے کی وجہ سے جائز نہیں ہو جاتے۔ ان کی قانونی حیثیت آئینی طریقہ کار، عوامی مینڈیٹ اور نمائندہ اداروں کی پابندی سے پیدا ہوتی ہے۔ بہرحال یہ عیاں ہے کہ سپریم کورٹ نے اس طرح ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں حکمرانی کا بنیادی اصول سڑکوں کا دباو¿ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے۔