Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی سماعت: جسٹس محمد علی مظہر کا آرٹیکل 191 اے پر اہم بیان

سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی سماعت: جسٹس محمد علی مظہر کا آرٹیکل 191 اے پر اہم بیان

 اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 8 رکنی آئینی بینچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں آرٹیکل 191 اے کی قانونی حیثیت پر غور شروع کر دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ہے کہ آرٹیکل 191 اے آئین کا جائز حصہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال بھی سماعت میں شامل ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ آرٹیکل 191 اے کی قانونی حیثیت کے فیصلے کا اختیار کس فورم کو حاصل ہے؟ جسٹس عائشہ ملک نے اس ضمن میں خدشات کا اظہار کیا کہ اگر آئینی بینچ تشکیل نہ دیا گیا تو سپریم کورٹ آئینی معاملات کی سماعت سے انکار کر سکتی ہے، اور فل کورٹ کی تشکیل ممکن نہیں رہے گی۔

عدالت نے مزید دلائل سننے کے لیے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

ٹیگز: