پنجاب کی آبادی 14کروڑ سے تجاوز کر گئی ،لاہور پنجاب کا دل ہے لاہور کی آباد ی ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی …وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاہور سمیت صوبے بھر میں کرائم کی صورتحال بگڑتی گئی،،،،،،گزشتہ ایک سال بالخصوص اگر بات کی جائے تو لاہور کی تو سنگین نوعیت کے کرائم سمیت ہر طرح کے کرائم میں واضح کمی ہوئی ، ایک سال قبل لاہور پولیس میں ایک ایسے افسر کو ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات کیا گیا جن کو لاہور میں پولیسنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوا ز شریف نے فیصل کامران کا انتخاب کرتے ہوئے ان کو ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات کیا ، لاہور جیسے بڑے شہر کی آپریشن ونگ کی کمان کرنا آسان کام نہیں لاء اینڈ آڈر، کرائم کنٹرول سمیت دیگر اہم چیلنجز آئے روز لاہور میں رونما ہوتے ہیں ، ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران نے اپنی تعیناتی سے ثابت کیا کہ اگر ان کی لاہور میں پہلی بار تعیناتی ہوئی تو لاہور شہر ان کے لیے اجنبی نہیں انہوںنے اپنی ٹیم جس میں ایس ایس پی آپریشن لاہور تصور اقبال سمیت دیگر افسران شامل کے ساتھ ملکر لاہور شہر میں کرائم کنٹرول ، لاء اینڈ آڈر اور مختلف میگا ایونٹس کی سکیورٹی انتظامات کو بخوبی احسن طریقے سے نبھایا ، فیصل کامران نے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنے دفتر میں کھلی کچہریاں لگا نے کا سلسلہ شروع کیا جبکہ جمعہ کے روز کسی نہ کسی مسجد میں کھلی کچہر ی لگا کر عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا شروع کیا ، عوامی مسائل حل ہونے سے فیصل کامران عوام میں اپنی مقبولیت بنانے میں کامیاب ہو گئے ، عوام کا پولیس پر جو اعتماد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو رہا تھا ان کی عوامی رابطہ مہم سے وہ بحال ہونا شروع ہو گیا ، ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران نے تھانوں کا ماحول بہتر کیا تھانوں کے دروازے عام عوام کے لیے کھول دیئے ہر خاص و عام کو تھانے میں یکساں سہولیات میسر آنے لگیں جس سے عوام کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی ہونے لگی ، اب بات کریں چند سال قبل ایک سابق سی سی پی او لاہور نے بھی نیمبیو (NEMBIO)عالمی ایجنسی کی جاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ لاہور شہر میں کرائم کم ہو رہا ہے اب لاہور کا شمار دنیا میں کرائم کے حوالے سے 173ویں نمبر پر ہے ،،جس پر پولیس افسران نے اسوقت کی حکومت کو اعتماد میں لیا کہ لاہور میں کرائم کنٹرول کر رہے کرائم کی صورتحال میں بہتری آرہی ہے ، آج اگر بات کی جائے تو اسی عالمی ایجنسی نیمبیو (NEMBIO)نے 249ممالک کی کرائم انڈیکس ریٹنگ جاری کی جس میں لاہورمیں کرائم کی بتدریج کمی ہوئی 37ویں نمبر پر آگیا جبکہ دنیا کے محفوظ ترین شہریوں کی فہرست میں 63ویں نمبر پر آگیا ، لاہور پولیس کے سربراہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کی اگر(باقی صفحہ4بقیہ نمبر3)
بات کی جائے تو ان کی جارخانہ پولیسنگ بھی ڈھکی چھپی نہیں انہوں نے مؤثر حکمت عملی کے باعث کرائم سمیت لاہور میں اہم چیلنجز کو بخوبی قبول کرکے ان میں بہتری لانے میں کامیاب ہوئے، سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ پولیس ملازمین کی فلاح وبہود میں بھی کوشاں ہیں ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کا انتخاب بھی لاہور پولیس کے لیے اچھا ثابت ہوا انہوں نے بھی انویسٹی گیشن ونگ میں بہتر لانے اور مقدمات کی تفتیش کو بہتر بنانے اور شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے ،سید ذیشان رضا کی جانب سے تمام انویسٹی گیشن ونگ کے افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مقدمات کی تفتیش میرٹ پر کی جائے شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے ، شہریوں کی داد رسی نہ کرنے والے افسران کو سیٹوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید بھی کھلی کچہریاں لگا کر شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔لاہور پولیس کا ایک محنتی ایس پی جو کینٹ ڈویژن آپریشن ونگ میں تعینات ہیں کیپٹن ریٹائرڈ علی رضا وہ بھی اپنے کام کی وجہ سے لاہور پولیس میں ایک نمایاں مقام بنا چکے ہیں لاہور میں ایک ایسا افسر بھی ہے جو ہر سیٹ پر کام کرنے کا ماہر جانا جاتا ہے ، ڈی آئی جی ایڈمنسٹریشن لاہو رعمران کشور وہ افسر ہیں جو لاہور میں ہر سیٹ پر کام کر چکے ہیں ، لاہور میں ڈی آئی جی او سی لاہور کی سیٹ پر تعیناتی کے دوران او سی یو نے ایک سال میں ریکارڈ سات ارب روپے کی ریکوری کی جو لاہور پولیس کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی اگر بات کی جائے تو انہوں نے بھی ریکارڈ اپنی تعیناتی کے دوران ملازمین و افسران کو ترقیاں دی اور تھانوں کی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ، صوبے بھر کی عوام کو انصاف انکی دہلیز پر فراہم کیا جا رہا ہے ، عوامی شکایات کا ازالہ فوری ہو رہا ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں کرائم کم ہونے پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ ، ڈی آئی جی ایڈمنسٹریشن لاہور عمران کشور،ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کو دو روز قبل وزیر اعلیٰ آفس ظہرانے پر طلب کرکے شاباش دی اور کہا کہ لاہور پولیس کے افسران کی محنت سے لاہور میں کرائم کم ہوا ہے جو قابل ستائش ہے ، کرائم کی صورتحال لاہور میں بہتر ہونا کسی معجزے سے کم نہیں کیا آنے والے وقت میں لاہور پولیس اسی طرح محنت کرکے شہر لاہور میں کرائم کو مزید کم کرنے میں کامیاب ہو گی یا نہیں اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔