بلا شبہ جیسے جیسے لاہور کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے بہت سے مسائل بھی ہیں جن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اوران مسائل میں سر فہرست جرائم میں اضافہ تھا ۔ اللہ کے فضل و کرم کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازکی بہترین کاوشوں اور افسران کے چناﺅ میں میرٹ کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لاہور میں بھی بطور ڈی۔آئی۔جی آپریشنز، فیصل کامران کی تعیناتی ایک بہترین فیصلہ تھا۔ بطور طالبعلم اینتھروپولوجی میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے کسی بھی بڑے شخص کی خدمت انسانی کے حوالے سے ترجیحات کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے کسی بھی فقرے کولیں اور غور کریں ، آپ پر اس کی سنجیدگی اور طرز حکمرانی سمیت خدمت انسانی سے متعلقہ تمام حقائق واضح ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جناب عمر فارقؓ کی دور خلافت کا آپ سے اس فقرے سے بخوبی انداز ہ لگا سکتے ہیں کہ اگر دریا فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا رہ گیا تو عمرؓ اس کا جواب دہ ہوگا۔ اسی طرح لاہور میں بڑے بڑے بدمعاشوں اور کرائم کنٹرول کے حوالے سے ڈی۔آئی۔جی آپریشنز فیصل کامران نے حالیہ دنوں میں ایک نیوز اینکر کے ساتھ پوڈکاسٹ کیا جس میں سوال کیا گیا کہ لاہور میں اس وقت کتنے ڈون ہیں؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ہاتھ میں تھامے ہوئے چائے کے کپ سے چسکی لگائی اور انتہائی جرا¿ت آمیز اور دلیرانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ کوئی ”ڈون“ نہیں ہے ، اگر آپ کی نظر میں ہے تو بتائیں میں آج شام تک پکڑ کے لا دیتا ہوں ۔ ان کی باڈی لینگوئج ان کے الفاظ کا ساتھ دے رہی تھی اور محسوس ہوتا تھا کہ یہ جو اتنا بڑا دعویٰ کر رہے ہیں اس کے پیچھے اٹھارہ ماہ کی سخت محنت ہے اور یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔
قارئین کرام! یہ بھی اللہ کا ایک بہت بڑا فضل ہے کہ پورے پنجاب اور بالخصوص لاہور میں قانون کی حکمرانی ہے اور جو پاکستانی کے دیگر صوبوں کا حال ہے ۔ جیسے قانون کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں، لوگوں کی عزتوں کو سر بازار نیلام کیا جا تا ہے، لوگوں کے مال اور خاندان تک محفوظ نہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہیںکر پاتے۔ اس کے بر عکس لاہور میںمحترمہ وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بہت بہتر رہی ہے اور فیصل کامران کے بطور ڈی۔آئی۔جی آپریشز تعیناتی کے دوران گذشتہ اٹھارہ مہینوں میں جرائم کی شرح میں انقلابی کمی دیکھنے کو ملی ہے اور یہ کمی لاہور پولیس کے پی۔آر۔او کی زبانی نہیں بلکہ مجھ سمیت کئی دیگر صحافیوں نے 15کا کالز ریکارڈ چیک کیا اور دیگر کئی چیزوں کو کاﺅنٹر چیک کیا یہاں تک کہ اپنی تعیناتی کے دوران ڈی۔آئی۔جی نے کس بڑے کے گھر میں حاضری دی، کیا مال بنایا اور رات کو کس معروف ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہیں ، یعنی پولیس کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کی دھن میں کئی روز خاک چھا ننا پڑی، پولیس افسران کے خلاف پولیس کے مخبروں کے ترلے کرنا پڑے لیکن مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنا پڑ رہی ہے کہ مجھے ان تمام چیزوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مخبروں نے تو پہلی دفعہ کسی افسر کے بارے میں مثبت حقائق بیان کئے اور فیصل کامران کے بارے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ لاہور تعینات ہوئے ہیں یہ کبھی اپنی فیملی کے ساتھ بھی کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے بھی نہیں گئے ۔
قارئین کرام !ان کے اس پروفیشنلزم کو دیکھتے ہوئے ہمارا بھی دل کیا کہ اس افسر سے ملا جائے ۔ اس کو سنا جائے اور اس کے کام کو دیکھا جائے ۔ یہ ایک بہترین انسان ہونے کے ساتھ ایماندارافسر ہیں بلکہ با ادب ہیں ۔ گفتگو کے دوران کسی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جب اپنے والد کا ذکر کیا تو ان کی آنکھیں نمناک تھیں ۔ یہی وہ وجو ہات ہی کہ قدرت بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے ۔ لاہور کی تاریخ کے یہ واحد ڈی۔آئی ۔جی ہیں جو اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ہر خاص و عام کے لئے ان کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں ۔ یہ اپنے دفتر میں عام سائلین کے لئے روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری لگاتے ہیں اور لوگوں کی داد رسی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ان کی کھلی کچہری کی وجہ سے ایس۔ایچ۔او اور دیگر عملہ بھی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ روزانہ 3تا شام 5بجے تک لاہور کے تمام تھانوں کے ایس۔ایچ۔اوز تھانوں میں موجود ہوتے ہیں اور لوگوں کی درخواستوں پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ ڈی۔ آئی۔ جی کی کھلی کچہری سے مستفید ہونے والے لوگوں کی تعداد پینتیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور پھر ان لوگوں سے کال کے ذریعے فیڈ بیک حاصل کی جاتی ہے کہ کیا ان کے مسائل ہوئے، حیرت انگیز طور پر لوگوں نے 80فیصد اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔
قارئین کرام ! میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایسے افسران کی قدر کرنی چاہئے جو حقیقی معنوں میں سسٹم میں بہتری لانے اور عام عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں دیوانہ وار مصروف ہے ۔ مجھے یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ فیصل کامران علی الصبح اپنے دفتر آجاتے ہیں اور رات گئے تک عام سائلین کے لئے بیٹھے رہتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح یہ اور ان کی پوری ٹیم کام کر رہی ہے بہت جلد پھولوں کا شہر کرائم فری ہو جائے گا اور یہ سلسلہ اب چل نکلا ہے ۔