جو کوئی بھی جنگ میں اخلاقیات کی تلاش میں ہے اس کو خبر ہوکہ جنگ کی ا خلاقیات صرف تباہی ہوتی ہے۔دشمن کی تباہی ۔مکمل تباہی، اس کے علاوہ کوئی اخلاقی جواز نہ کوئی اصول۔امریکا کے ایران پر حملے کا بھی کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔نہ صرف یہ جنگ بلکہ امریکا کی آج تک کسی بھی جنگ کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔نہ عراق پر حملے کا کوئی جواز تھا نہ لیبیاکو تاراج کرنے کاکوئی اخلاقی جواز اور نہ ہی شام اور نہ ہی افغانستان ۔عراق پر حملے کا جوازتباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عراق کے پاس ایسے کوئی کیمیائی ہتھیار کبھی نہیں تھے لیکن وہ جنگ ہوئی اور صدام حسین کو ماردیا گیا اس کے خاندان کو ختم اور عراق کو طویل تباہی میں مبتلاکر کے وہاں رجیم چینج کردیا گیا ۔
ایک بات سب پر واضح ہوگئی ہے کہ نہ ہی امریکا کا مسئلہ ایران کے جوہری ہتھیار تھے اور نہ ہی کوئی میزائل پروگرام ۔امریکا کا مسئلہ ایران خود ہے ۔اس بات کا اظہار اب امریکی صدر نے بھی کردیا ہے کہ ان کا ٹارگٹ ایران کا وجود ختم کرنا ہے ۔اسرائیل ایران کو غزہ بنانا چاہتا ہے اور ساری مہم جوئی ایران کو غزہ بنانے کے لیے ہی ہے سوال اب صرف یہ ہے کہ کیا اسرائیل اور امریکا ایران کو غزہ بناسکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب نہ میں ہے کہ ایران فلسطین نہیں ہے لیکن حالات فلسطین سے کم بھی نہیں ہیں ۔ہماری جذباتی وابستگی ایران کے ساتھ ہے یہ الگ بات کہ ایران نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی بنانے کی کوشش نہیں کی ۔ ایران تاریخی طورپرہندوستان کے ساتھ وابستہ رہا لیکن ہندوستا ن اسرائیل کا بچہ تھا ،بچہ ہے اور بچہ ہی رہے گاکیونکہ بھارت اور اسرائیل کا ڈیزائن ایک ہی ہے۔اب مشکل ترین وقت میں بھی بھارت اور مودی ایران کے حوالے سے منہ میں دہی جماکر بیٹھے ہیں ۔ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے باجود تعزیت تک ہندوستان سے نہیں آئی ۔اوپرسے ایران کا بحری جہاز ہندوستان نے خود تباہ کروادیا ۔
امریکا کو اس بات کا گمان تھاکہ وہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے گا۔سپریم لیڈر کو شہید کرے گا تو ایرانی عوام سڑکوں پر نکل کر امریکا کو خوش آمدیدکہنے آجائے گی ۔کچھ ا سی طرح کی خوش فہمی ہندوستان کو بھی پاکستان کے بارے میں تھی کہ پاکستانی عوام شہبازحکومت سے تنگ ہیں اور پوری عوام عمران خان کے ساتھ ہے اس لیے یہی موقع ہے کہ پاکستان پر حملہ کرکے یہاں بھی رجیم چینج کردیا جائے لیکن ہندوستان کے حملے کے ساتھ ہی پوری پاکستان قوم یک جان ہوگئی اور ہندوستا ن کو ذلیل ہوکر بھاگنا پڑا۔ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنائی نے شہادت قبول کرکے پورے ایران کو ایک بار پھر یکجا کردیا۔ ایرانی قوم سڑکوں پر ضرور نکلی لیکن ایرا ن کے لیے نکلی ۔سپریم لیڈر کی شہادت کا سوگ منانے کے لیے نکلی اور امریکا کے خلاف نکلی ۔ایک امکان تھا کہ اگر سپریم لیڈر شہادت پر زندگی کو ترجیح دے دیتے تو شاید ایرانی عوام میں تقسیم پیدا ہوجاتی لیکن سپریم لیڈر کی قربانی نے ایرانیوں کو متحد کردیا اور امریکا کے منصوبے خاک ہوئے۔
ایرانی متحد ہیں لیکن بے بس بھی کہ اب تک ہزاروں ٹن بارود ایران پر داغا جاچکا ۔امریکا اور اسرائیل فرسٹریٹ ہوکر اندھادھند بمباری کررہے ہیں تاکہ ایران سے بھی ویسی تصویریں سامنے آئیں جیسی غزہ سے آتی ہیں ۔اگر ایران اس جنگ کو اسی طرح مزید دو تین ہفتے اور برداشت کرگیا اور ساتھ ساتھ اس کے حملہ کرنے کی صلاحیت بھی کسی نہ کسی طرح براقرار رہی تو امریکا اور اسرائیل کے لیے اپناآپ بچانا مشکل ہوجائے گا۔ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل نے وہ چالیں چلنا شروع ہوکردی ہیں جس سے مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی براہ راست ایران پر حملہ آور ہوجائیں اور مسلم ممالک آپس میں لڑنا شروع ہوجائیں اس طرح سے ایران کی تباہی بھی یقینی ہوجائے گی اور اس خطے میں جنگ کی بربادی بھی ۔اسرائیل ایک تیر سے دوشکار کرنے نکلا ہے ۔ابھی تک مشرق وسطیٰ کے ممالک اسرائیل کی اس چال میں نہیں پھنسے ہیں ۔اسرائیل نے اپنے ڈیزائن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فالس فلیگ آپریشن بھی شروع کررکھا ہے ۔سب سے پہلے سعودی عرب کو نشانہ بنایا اور نام ایران کا لگادیا لیکن اس سازش کوپاکستا ن نے اس طرح ناکام بنایا کہ پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم کی ہدایت پر دونوں ملکوں سے رابطہ کیا دونوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرکے اسلامی ممالک کو آپس میں لڑنے سے بچالیا ۔سعودی عرب نے اپنی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی تو ایران نے بھی اپنے اسلامی بھائی کا شکریہ اداکیا۔پھر ترکی پر ڈرون حملہ کروایا یہاں بھی بات نہ بنی تو آڈربائیجان کی طرف ڈرون بھیج دیے لیکن اللہ کا شکر اور اس کی نصرت کہ ان ممالک نے براہ راست ایران کو جواب دینے سے گریز کیا۔
اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک آپس میں لڑیں اور اس کا کام آسان کردیں ۔اسرائیل نے غزہ میں حماس کی طاقت ختم کرنے کے بعد لبنان میں حزب اللہ کو ٹارگٹ کیا حزب اللہ کے بعد برسوں سے چلنے والا شامی محاذ بھی بند کروا دیا۔ ایران کا حامی بشارالاسد کی جگہ امریکی حمایت یافتہ ارینجمنٹ شام میں لاگو کردیا ۔جب اس کو یقین ہوا کہ ایران کے حمایتی یا اس کی پراکسیز مکمل ختم ہوچکی ہیں اور صرف ایران اکیلا میدان میں ہے تو اس نے امریکا کو ایران پر براہ راست حملے پر راضی کرلیا ۔اس وقت بھی امریکا کے اندازوں کے برعکس نتائج نکل رہے ہیں ۔اگر متحدہ عرب امارات اکیلا اسٹینڈ لے لے تو ایران کے ساتھ ساتھ اس خطے میں امن واپس آسکتا ہے لیکن شاید متحدہ عرب امارات کی مجبوری ہے کہ وہ امریکا کو انکار کرنے کی ہمت نہیں کرپارہا لیکن ایک اماراتی بزنس گرو پ کے لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس خطے کو جنگ میں جھونکنے کی مذمت ہی نہیں بلکہ جواب بھی مانگا گیا ہے ۔کیونکہ اس خطے میں جنگ کا مطلب ہے کہ یہ عام دوملکوں کے درمیان لڑائی نہیں بلکہ عالمی جنگ بن جائے گی ۔یہ خطے پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اگر یہ جنگ اسی طرح ایک ماہ جاری رہی تو متحدہ عرب امارات اور مڈل ایسٹ کی برسوں کی محنت سے بنائی گئی معیشت دھڑام سے زمین بوس ہوجائے گی ۔اس وقت دبئی میں آیا ہوا ہر شخص بھاگنے کے لیے جتن کررہا ہے ۔عرب امارات ،قطر،بحرین کویت میں زندگی رک گئی ہے ۔متحدہ عرب امارات اور مڈل ایسٹ میں اسی فیصد سے زائد خوراک باہر کے ممالک سے آتی ہے سوچیں اس جنگ سے پوری دنیا تو توانائی کے بحران کا شکار ہوگی لیکن مڈل ایسٹ غذائی اور پانی کے بحران کا شکار ہوجائے گا ۔تو کیا مڈل ایسٹ ایرا ن سے پہلے برباد ہونے کے لیے تیارہوجائے گا؟۔