اسلام آباد :اسلام آباد میں خارجہ پالیسی کے ایوانوں میں ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے مودی کے ان دعوؤں کو جھوٹ اور سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے شکست کھا کر جنگ بندی کی درخواست کی۔
ترجمان نے نہ صرف اس الزام کی تردید کی بلکہ یاد دلایا کہ جنگ بندی ایک مشترکہ عالمی کوشش تھی، جس کا سہرا کئی دوست ممالک کو جاتا ہے ، پاکستان کسی دباؤ یا کمزوری سے مجبور نہیں ہوا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں، اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
مودی کا کہنا تھا کہ "پانی اور خون ساتھ نہیں بہہ سکتے" ، ایک ایسا جملہ جو دہلی کے جارحانہ عزائم اور خطے کے امن پر ممکنہ اثرات کی نشان دہی کرتا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے: کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہی واحد راستہ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ الفاظ کی جنگ صرف سفارتی سطح پر محدود رہتی ہے یا کسی خطرناک رخ اختیار کرتی ہے۔