افغانستان ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں سیاسی غیر یقینی، کمزور حکمرانی اور داخلی تقسیم نے شدت پسند تنظیموں کے لیے نئی گنجائش پیدا کر دی ہے۔ عبوری افغان حکومت کے قیام کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ ملک کئی دہائیوں پر محیط بدامنی سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھے گا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس منظر پیش کر رہے ہیں۔ القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر بین الاقوامی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں جو تیزی آئی ہے، وہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو القاعدہ (AQ) کی ازسرِنو تنظیم ہے، جو عبوری افغان حکومت کے بعض عناصر کی خاموش سرپرستی یا کم از کم عدم مزاحمت کے سائے میں دوبارہ اپنے قدم جما رہی ہے۔ سیاسی ابہام اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے کمزور نفاذ نے القاعدہ کو وہ ماحول فراہم کر دیا ہے جس میں وہ بغیر کسی فوری خطرے کے اپنی قیادت، نیٹ ورکس اور آپریشنل منصوبہ بندی کو مستحکم کر سکتی ہے۔ یہ محض ایک داخلی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہیں۔اسی تناظر میں افغانستان میں عرب غیر ملکی جنگجووں کی بڑھتی ہوئی آمد ایک اور خطرناک پیش رفت ہے۔ غیر نگرانی شدہ سرحدی راستوں اور مقامی سہولت کاروں کے ذریعے داخل ہونے والے یہ جنگجو نہ صرف ماضی کے جنگی تجربات رکھتے ہیں بلکہ بم سازی، سائبر آپریشنز اور سرحد پار حملوں جیسی جدید مہارتیں بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ان کی موجودگی القاعدہ کی عملی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے اور اسے دوبارہ ایک موثر عالمی دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
القاعدہ کی حکمتِ عملی محض افرادی قوت بڑھانے تک محدود نہیں۔ وہ دانستہ طور پر افغانستان میں موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر میں خود کو ضم کر رہی ہے جن میں پرانے تربیتی کیمپ، لاجسٹک مراکز اور محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔ عبوری حکومت کی محدود یا غیر موثر نگرانی کے باعث یہ ڈھانچے بدستور فعال ہیں، جس سے القاعدہ کو تربیت، بھرتی اور فنڈنگ کو خفیہ طور پر منظم کرنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو اسے افغانستان سے باہر، خصوصاً جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطی میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے قابل بناتے ہیں۔دوسری جانب القاعدہ کے مختلف شدت پسند گروہوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے اتحاد صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ طالبان پاکستان (TTP) کے ساتھ روابط القاعدہ کو پاکستان میں موجود نیٹ ورکس، مقامی معلومات اور سرحد پار نقل و حرکت تک رسائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کے ذریعے القاعدہ وسطی ایشیا اور چین تک اپنی رسائی بڑھا رہی ہے۔ ان اتحادوں کے نتیجے میں نہ صرف افرادی اور لاجسٹک وسائل کا تبادلہ ہو رہا ہے بلکہ بم سازی، گوریلا حربوں اور سائبر صلاحیتوں جیسی مہارتیں بھی مشترکہ طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
ان تنظیموں کے درمیان مشترکہ پروپیگنڈا مہمات بھی قابلِ توجہ ہیں، جن کے ذریعے عالمی ہمدردوں کو متوجہ کیا جاتا ہے اور فنڈنگ و بھرتی کے نئے ذرائع پیدا کیے جاتے ہیں۔ القاعدہ خود کو ان تمام گروہوں کے درمیان ایک مرکزی نکتے کے طور پر پیش کر رہی ہے، جس کا مقصد ایک ایسا مربوط دہشت گرد فریم ورک قائم کرنا ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر اثر انداز ہو سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان تیزی سے دہشت گرد تعاون کے مرکز میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔داعش خراسان (ISKP) کی سرگرمیاں بھی کم تشویشناک نہیں ہیں ، اس تنظیم نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھا دیا ہے، جس نے روایتی انسدادِ دہشت گردی مالیاتی نظام کو شدید چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ کرپٹو لین دین کی گمنامی، تیز رفتاری اور سرحدوں سے ماورا نوعیت ISKP کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر ہمدردوں سے فنڈز اکٹھے کرے، وہ بھی بغیر کسی نمایاں سراغ کے ، اس کے علاوہ خفیہ آن لائن پلیٹ فارمز اور عارضی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے چندہ مہمات نے دہشت گردی کی مالیات کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔
خطے کے اکثر ممالک ابھی تک بلاک چین نگرانی، ڈیجیٹل مالیاتی سراغ رسانی اور قانونی فریم ورک کے حوالے سے مکمل طور پر تیار نہیں جس کا فائدہ ISKP جیسے گروہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صلاحیت سازی، تفتیش کاروں کی تربیت، مالیاتی انٹیلی جنس یونٹس کی مضبوطی اور بین الاقوامی تعاون اب محض ضرورت نہیں بلکہ ناگزیر تقاضا بن چکے ہیں۔
صورتحال کو مزید خطرناک بنانے والا اہم عنصر عبوری افغان حکومت کے اندرونی اختلافات بھی ہیں۔ حکومت کے بعض باغی اور ناراض عناصر، جو طاقت کی کشمکش یا نظریاتی اختلافات کے باعث خود کو نظرانداز شدہ محسوس کرتے ہیں، داعش خراسان کا رخ کر رہے ہیں۔ ISKP ان افراد کو مقصد، شناخت اور مالی مراعات دے کر اپنی صفوں میں شامل کر رہی ہے تاہم یہ منحرف عناصر مقامی انٹیلی جنس، حساس معلومات اور رسائی کے راستے ساتھ لاتے ہیں، جس سے ISKP کی حملہ آور صلاحیت اور بچ نکلنے کی اہلیت میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کو عبوری افغان حکومت کے بعض عناصر کی جانب سے مبینہ میزبانی اور مکمل سرپرستی ایک سنگین بین الاقوامی مسئلہ بن چکی ہے۔ دور دراز صوبوں میں محفوظ پناہ گاہیں، مالی و مادی مدد اور آپریشنل تحفظ ETIM کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اسے خطے میں مزید متحرک بھی بنا رہے ہیں۔ القاعدہ، TTP اور دیگر گروہوں کے ساتھ اس کا تعاون افغانستان کو ایک ایسے مرکز میں بدل رہا ہے جہاں سے سرحد پار دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد ممکن ہو رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے بھی حالیہ میڈیا کانفرنس میں افغان عبوری حکومت کی جانب سے دہشت گرد عناصر کو حاصل مبینہ پشت پناہی پر سنجیدہ اور ٹھوس نکات پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کے تانے بانے افغانستان کی سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں کالعدم تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں، نقل و حرکت کی آزادی اور لاجسٹک سہولتیں میسر ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان نے بارہا شواہد کے ساتھ افغان حکام کو آگاہ کیا ہے، مگر موثر اور فیصلہ کن کارروائی کی کمی کے باعث دہشت گرد نیٹ ورکس اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
الغرض یہ تمام حقائق ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ افغانستان میں موجود سیاسی خلا، کمزور احتساب اور داخلی تقسیم شدت پسند عناصر کے لیے آکسیجن کا کام کر رہی ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مذموم عزائم نہ صرف افغان عوام کے مستقبل کو تاریک کریں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیں گے۔ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ خطرہ ہے جس کا مقابلہ صرف مشترکہ عزم، مضبوط حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔