سیاست کا کھیل کبھی خالی میدان میں نہیں کھیلا جاتا۔ اس کی بساط ہمیشہ تاریخ بچھاتی ہے، حالات مہرے ترتیب دیتے ہیں اور عوام اپنی خاموش انگلی سے فیصلہ لکھتے ہیں۔ بعض انتخابات صرف نمائندوں کا انتخاب نہیں ہوتے، وہ آنے والے سیاسی موسموں کی پیش گوئی بھی ہوتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے آنے والے انتخابات بھی اسی نوعیت کے ہیں، جہاں صرف ووٹ نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ مستقبل کی سیاسی سمت بھی متعین ہو گی۔ کشمیر ہمیشہ صرف ایک خطہ نہیں رہا بلکہ یہ احساس کا نام ہے، قربانی کی علامت ہے اور سیاسی شعور کا وہ چراغ ہے جو ہر بحران میں بھی بجھنے سے انکار کرتا ہے۔ اسی لیے کشمیر کی سیاست کو محض نشستوں کے حساب سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہاں ہر انتخاب عوامی اعتماد، قیادت کی بصیرت اور سیاسی کردار کا امتحان ہوتا ہے۔ ایسے نازک موڑ پر جب بعض سیاسی قوتیں انتخابی عمل سے فاصلے پر کھڑی دکھائی دیتی ہیں اور بعض جماعتیں اپنی داخلی مشکلات میں الجھی ہوئی ہیں، استحکام پاکستان پارٹی نے پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پینتیس نشستوں پر امیدواروں کا اعلان محض انتخابی فہرست نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی اعلان ہے کہ جماعت خود کو کشمیر کی آئندہ سیاست میں ایک سنجیدہ قوت کے طور پر منوانا چاہتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت کی اصل شناخت اس کے منشور سے کم اور اس کی قیادت کے فیصلوں سے زیادہ بنتی ہے۔ امیدواروں کا انتخاب سیاست کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں اکثر جماعتیں اندر سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ خواہشات، سفارشات، دبائواور ناراضیاں قیادت کے صبر اور تدبر کا امتحان لیتی ہیں۔ ایسے مرحلے میں اگر کوئی جماعت نسبتاً منظم انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اس کے پس منظر میں ایک سوچ، ایک نظم اور ایک فیصلہ کن قیادت موجود ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں عبدالعلیم خان کا کردار قابلِ توجہ ہے۔ ان کی سیاست کا انداز شور سے زیادہ ترتیب پر یقین رکھتا ہے۔ وہ ہجوم جمع کرنے سے پہلے صفیں درست کرنے کے قائل دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست صرف جلسوں کی گھن گرج نہیں بلکہ تنظیم، منصوبہ بندی اور بروقت فیصلوں کا فن بھی ہے۔ بعض سیاست دان تقریروں
سے پہچانے جاتے ہیں اور بعض اپنے فیصلوں سے۔ عبدالعلیم خان کا سیاسی تعارف بھی زیادہ تر اسی دوسرے باب سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔ آزاد کشمیر میں امیدواروں کے انتخاب سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انہوں نے صرف ناموں کی فہرست مرتب نہیں کی بلکہ مختلف علاقوں کی سیاسی حرکیات، مقامی قیادت اور تنظیمی ضرورتوں کو سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر یہ تاثر عملی نتائج میں بھی ڈھل گیا تو یہ استحکام پاکستان پارٹی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی بھرپور سیاسی موجودگی نے بھی اس انتخابی مہم کو نئی توانائی بخش دی ہے۔ تین حلقوں سے ان کی امیدواریت صرف ایک انتخابی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس اعتماد کا اظہار بھی ہے جو پارٹی ان کی سیاسی صلاحیت پر رکھتی ہے۔ کشمیر کے سیاسی مزاج سے ان کی واقفیت اور عوامی رابطہ یقینا جماعت کے لیے اہم سرمایہ ہے۔ اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم کارکنوں اور رہنما¶ں کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشمیر کی سیاست میں نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ سیاست میں جب کارکن راستہ بدلتے ہیں تو اس کا مطلب صرف جماعت کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ وہ عوامی فضا میں رونما ہونے والی خاموش تبدیلیوں کی بھی خبر دیتے ہیں۔
عبدالعلیم خان کے بارے میں ایک بات نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ وہ سیاست کو وقتی جذبات کے بجائے طویل المدتی تعمیر کے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اینٹیں گننے کے بجائے عمارت کا نقشہ بنانے والے سیاست دان بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تو عوام کریں گے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عبد العلیم خان استحکام پاکستان پارٹی کو ایک منظم سیاسی شناخت دینے کی کامیاب کوشش میں مصروف ہیں۔
سیاست میں سب سے آسان کام وعدے کرنا اور سب سے مشکل کام توقعات کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ آج عوام نعروں سے زیادہ کردار دیکھتے ہیں، تقریروں سے زیادہ کارکردگی چاہتے ہیں اور وابستگیوں سے زیادہ اہلیت کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وہ معیار ہے جس پر ہر نئی سیاسی قوت کو اپنا وجود ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی واقعی ایک مختلف سیاسی روایت قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف انتخابات نہیں جیتنے، بلکہ عوام کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہو گی۔ میرٹ، شفافیت، جواب دہی اور عوامی خدمت کو اگر عملی شکل دی گئی تو یہ جماعت ایک مستقل سیاسی قوت بن سکتی ہے۔ عبدالعلیم خان کے لیے بھی یہ محض انتخاب نہیں، ایک امتحان ہے۔ سیاست میں بعض لوگ اقتدار کے معمار ہوتے ہیں اور بعض اداروں کے۔ تاریخ ہمیشہ دوسرے گروہ کو زیادہ احترام سے یاد رکھتی ہے۔ اگر وہ کشمیر میں ایسی قیادت سامنے لانے میں کامیاب ہوتے ہیں جو عوامی خدمت، دیانت اور سیاسی برداشت کی نئی مثال قائم کرے تو یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔ کشمیر کے پہاڑ صدیوں سے خاموش ہیں مگر وہ ہر آنے والے قافلے کے قدموں کی چاپ محفوظ رکھتے ہیں۔ وقت بھی سیاست دانوں کے وعدے نہیں، ان کے کردار محفوظ رکھتا ہے۔ اقتدار کی کرسی چند برس کی مہمان ہوتی ہے، مگر خدمت کی خوشبو نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ سیاست کا فیصلہ بیلٹ بکس سے پہلے تاریخ کرتی ہے۔ تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ کسی رہنما نے کتنی نشستیں جیتیں البتہ وہ یہ ضرور پوچھتی ہے کہ اس نے اپنے دور میں کتنے دل جیتے، کتنے ادارے مضبوط کیے، کتنے کارکنوں کو اعتماد دیا اور کتنی امیدوں کو مایوسی سے بچایا۔ آزاد کشمیر کے یہ انتخابات اسی سوال کا جواب تلاش کریں گے۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی عبد العلیم خان کی قیادت میںاپنی تنظیمی قوت، سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کے دعووں کو عملی صورت دے سکی تو یہ صرف ایک جماعت کی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ کشمیر کی سیاست میں ایک نئی روایت کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اس روایت کی بنیاد میرٹ، شائستگی، مشاورت اور عوامی اعتماد پر رکھی گئی تو عبدالعلیم خان کا سیاسی سفر محض ایک رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے معمار کے طور پر یاد کیا جائے گا جس نے سیاست کو انتشار کے بجائے تنظیم اور نعروں کے بجائے تعمیر کا عنوان دینے کی کوشش کی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب ”دخترِ مشرق“ میں 1985ءکے انتخابات کو اپنی بدترین سیاسی غلطی تسلیم کیا ہے کیونکہ اُن کے خیال کے مطابق اُس بائیکاٹ کے نتیجہ میں میاں نواز شریف سیاست میں اِن ہو پائے۔ تحریک انصاف اگر کشمیر الیکشن کا بائیکاٹ کرتی ہے تو اُس کا ووٹر بھی کسی نہ کسی کو ووٹ ضرور دے گا کیونکہ الیکشن کا بائیکاٹ کرکے الیکشن رکوانے کی پوزیشن میں پی ٹی آئی بالکل نہیں ہے سو یہ فیصلہ انتہائی غلط اورغیر سیاسی ہے۔
c