امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اب ایک طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ پانچویں ہفتے میں داخل اس جنگ کے ضمن میں کچھ تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جہاں پالیسی کی سطح پر ری ایڈجسٹمنٹ اور ری الائنمنٹ واضح ہو رہی ہے۔ اب لوگ یہ نہیں پوچھ رہے کہ جنگ کب ختم ہوگی، بلکہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کے دوران زندہ کیسے رہا جائے۔ معاشرہ تیزی سے ان سخت حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے اور ایک ایسی دنیا کے اثرات کو سنبھالنا سیکھ رہا ہے جو اس تنازع کے بعد ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہے، جبکہ بظاہر تین بڑے بلاکس بھی تشکیل پا رہے ہیں۔ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اب اس جنگ کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے دوری اختیار کرنے کی کوششوں کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، کیونکہ امریکی عوام یورپی اتحاد کو ایک ناگزیر سکیورٹی ستون سمجھتے ہیں۔ ممکنہ کساد بازاری اور ایل این جی و تیل کی برآمدات میں شدید کمی کے باعث خلیجی ریاستیں اب اس جنگ میں محض تماشائی نہیں رہیں۔ خلیجی ممالک کو احساس ہو چکا ہے کہ وہ اپنے خطے میں ایک مستقل جنگ برداشت نہیں کر سکتے، کیونکہ اہم تنصیبات پر حملے ان کی دہائیوں کی معاشی ترقی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس ہنگامی صورتحال میں پاکستان ایک مخلص اور متحرک امن ساز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جہاں دیگر جنگی ماحول کو ہوا دے رہے ہیں، وہیں پاکستان کی قیادت نے ابتدا سے ہی ایک واضح ہدف رکھا: جنگ کا خاتمہ۔ پاکستان نے خود کو مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر منوایا ہے، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ اصل طاقت جنگ نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جن میں سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون شامل ہے، اور موجودہ قیادت نے سفارتی محاذ کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے تاکہ اس جنگ کو ختم کیا جاسکے ۔مگر ان سارے حالات میں کچھ ایسے چیلنجز بھی ہیں جو ہر ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان جہاں سفارتی میدان میں حالات کی بہتری کی کوششیں کر رہا ہے وہیں عالمی پٹرولیم بحران سے بھی نمٹنا پڑ رہاہے ۔ مشکل فیصلے کرنا پڑرہے ہیں۔ وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے مقرر کر دی گئی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ پاکستانیوں کے لئے بہت تلخ ہے مگر یہ ایک ایسی مشکل سٹیج ہے جہاں سے نکلنا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں۔ مثال کے طور بھارت میں اس وقت پٹرولم سٹیشنوں پر کئی کلومیٹر طویل لائنیں دیکھی جا رہی ہیں۔ فلپائن نے بہت مشکل سے اپنے جہاز آبنائے ہرمز سے نکلوانے کی کوشش کی جو کامیاب ہوئی، وہاں بھی بحران سنگین ہے اگرچہ پاکستان میں حکومتی حکمت عملی سے بڑا بحران پیدا نہیں ہو پایا مگر عوام کومہنگا پٹرول برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کہ دنیا کو نئے چیلنجز کی جانب لے جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ چیلنجز کساد بازاری کی صورت میں بھی نظر آ سکتے ہیں۔ ادھر یورپ میں تیل کے ساتھ ساتھ گیس بحران بھی سر اٹھا رہا ہے۔ کئی یورپی ممالک مہنگائی کی نئی لہر میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں کسی کے لئے بھی ممکن نہیں کہ وہ اس عالمی بحران سے متاثر نہ ہو۔ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت اس وقت مرکز نگاہ ہے۔ کئی ممالک یہی سوچ رہے ہیں کہ جن ممالک نے یہ جنگ رکوانی ہے اور دنیا کو کساد بازار سے بچانا ہے اس میں ایک پاکستان بھی شامل ہے۔ چین، روس اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی اسی مشن پر فوکس کر رہا ہے کہ اپنے معاشی حالات بہتر کرنے اور دنیا کو تباہ کن جنگ کے اثرات سے بچانے کے لئے بھرپور کردار ادا کرے کیونکہ درحقیقت مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی یہی چاہتے ہیں۔ یہ جنگ عالمی منظر نامہ تبدیل کر رہی ہے، جیسا کہ میں نے کہا عالمی صف بندی اور نئے بلاک سامنے آ رہے ہیں ان سب بلاکس اور صف بندی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔