دبئی / ریاض :مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات (UAE) نے ایران کے ساتھ اپنے تمام سفارتی تعلقات ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ تہران کی جانب سے حالیہ فوجی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت کے بعد یو اے ای نے تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے اور اپنے سفیر کو فی الفور وطن واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور حالیہ حملوں کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ سفارت خانے کی تالا بندی: ایران میں متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ باقاعدہ طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سفارتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔
اماراتی سفیر کو ہنگامی طور پر تہران سے واپس بلا لیا گیا ہے، جو کہ بین الاقوامی سیاست میں تعلقات کی مکمل خرابی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ دوسری جانب، خطے کی اہم طاقت سعودی عرب نے بھی تہران کو دوٹوک پیغام بھیج دیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے حالیہ حملوں پر شدید احتجاجی مراسلہ تھما دیا ہے۔ سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملے پورے خطے کی سلامتی کے لیے ناقابلِ قبول ہیں اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔