چودہ اگست کی صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو پاکستان سبز و سفید رنگوں میں ڈھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ گلیوں میں لہراتے پرچم، دکانوں پر سجی جھنڈیوں کی قطاریں، بچوں کے چہروں پر قومی پرچم کی تصویریں، گاڑیوں پر لگے اسٹیکرز اور فضا میں گونجتے ملی نغمے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ایک قوم اپنی آزادی کا جشن منا رہی ہے۔ مگر انہی سڑکوں پر کہیں ایک ٹریفک سگنل توڑا جا رہا ہوتا ہے، کہیں قومی پرچم چند گھنٹوں بعد کچرے کے ڈھیر میں پڑا ہوتا ہے، کہیں ہوائی فائرنگ کسی ماں کی دعاو¿ں کو ماتم میں بدل دیتی ہے اور کہیں جشن کے اختتام پر شہر پلاسٹک، شور اور غفلت کے ملبے میں ڈوب جاتا ہے۔یہ تضاد صرف ایک منظر نہیں ہے بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا عکس ہے۔ہم آزادی سے محبت ضرور کرتے ہیں لیکن کیا ہم اس ذمہ داری سے بھی محبت کرتے ہیں جو آزادی اپنے ساتھ لاتی ہے؟ہر قوم کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف ماضی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ حال کا احتساب بھی کرتے ہیں۔ چودہ اگست بھی ایسا ہی دن ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اسے زیادہ تر جشن تک محدود کر دیا ہے حالانکہ یہ دن ہم سے ایک سوال بھی پوچھتا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا کیا؟
آزادی صرف سرحدوں کا نام نہیں۔ آزادی ایک سوچ ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک اخلاقی عہد ہے۔ جب ایک قوم آزاد ہوتی ہے تو اس کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس آزادی کو اپنے کردار سے محفوظ بنائے۔ اگر شہری قانون شکنی کو ذہانت، بدعنوانی کو مجبوری، جھوٹ کو مصلحت اور قومی وسائل کے ضیاع کو معمولی بات سمجھنے لگیں تو آزادی کا جسم باقی رہ جاتا ہے مگر اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے مسائل کا شکار ہیں، انصاف میں تاخیر ہے، ماحول آلودہ ہے اور اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے۔ یہ تمام مسائل اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ایک سوال ہمیں خود سے بھی پوچھنا ہوگا۔ کیا ان تمام مسائل کا ذمہ دار صرف نظام ہے یا ہم بھی اس کہانی کے کردار ہیں؟ہم چاہتے ہیں کہ شہر صاف ہوں مگر اپنے ہاتھ سے کچرا سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پانی ہر گھر تک پہنچے، مگر نل کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم بدعنوانی کے خلاف تقریریں کرتے ہیں مگر اپنا کام جلدی نکلوانے کے لیے سفارش یا رشوت کو برا نہیں سمجھتے۔ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں مگر ٹریفک سگنل توڑتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ قانون صرف دوسروں کے لیے نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ شاید یہی ہے کہ ہم نے حب الوطنی کو جذبات تک محدود کرتے ہوئے کردار سے الگ کر دیا ہے۔
حب الوطنی صرف قومی پرچم لہرانے کا نام نہیں ہے بلجی محبتِ وطن یہ بھی ہے کہ ایک دکاندار ملاوٹ نہ کرے، ایک استاد ایمانداری سے علم دے، ایک ڈاکٹر مریض کو صرف فیس کی نظر سے نہ دیکھے، ایک سرکاری ملازم عوام کو عزت دے، ایک طالب علم نقل سے انکار کرے اور ایک شہری اپنے شہر کو اپنا گھر سمجھے۔ یہی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو کسی بھی ریاست کی اصل طاقت بنتے ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ایک تقریر میں قانون، دیانت اور نظم و ضبط کو ریاست کی کامیابی کے بنیادی اصول قرار دیا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان کے اقوال تو یاد رکھے مگر ان کی روح کو اپنی عملی زندگی میں جگہ نہ دے سکے۔ ہم ہر سال ان کی تصویر پر پھول رکھتے ہیں لیکن اگر ان کے اصولوں کو اپنی زندگی میں جگہ دے دیں تو شاید یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہو گا۔
آج دنیا کی کامیاب قوموں پر نظر ڈالیں تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے۔ وہاں قانون صرف کتابوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے رویوں میں نظر آتا ہے۔ وہاں قومی مفاد ذاتی مفاد سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔ وہاں صفائی، وقت کی پابندی، ایمانداری اور ذمہ داری کو معمولی اخلاقی باتیں نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔پاکستان بھی اسی دن بدلنا شروع ہوگا جب ہم ریاست سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ کریں گے۔آج ماحولیاتی تبدیلی بھی ہمارے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، آلودہ فضا اور تیزی سے ختم ہوتے جنگلات ہمیں مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی زمین، دریا، درخت اور ہوا سے بھی محبت کرنا ہو گی۔ وطن صرف نقشے کا نام نہیں، وطن وہ مٹی ہے جس پر ہم چلتے ہیں، وہ پانی ہے جو ہم پیتے ہیں اور وہ فضا ہے جس میں ہماری آنے والی نسلیں سانس لیں گی۔مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو وسائل کی کمی نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا احساسِ ذمہ داری کی کمی نے پہنچایا ہے۔ ہمارے پاس باصلاحیت نوجوان ہیں، زرخیز زمین ہے، قدرتی وسائل ہیں، مضبوط ادارے بنانے کی صلاحیت ہے، لیکن ان سب کو جوڑنے والا عنصر اجتماعی کردار ہے۔ اگر کردار کمزور ہو تو وسائل بھی ضائع ہو جاتے ہیں اور اگر کردار مضبوط ہو تو محدود وسائل بھی قوموں کو آگے لے جاتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ آزادی صرف ہمیں ورثے میں نہیں ملی، اسے قربانیوں سے حاصل کیا گیا تھا۔ اس لیے اس کی حفاظت صرف سرحدوں پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ کلاس روم میں بیٹھے طالب علم، عدالت میں بیٹھے جج، ہسپتال میں موجود ڈاکٹر، کھیت میں کام کرتے کسان، دفتر میں بیٹھے سرکاری ملازم، دکان پر کھڑے تاجر اور سڑک پر چلنے والے ہر شہری کی ذمہ داری بھی ہے۔شاید اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ چودہ اگست کو ہمیں صرف آتش بازی، ریلیوں اور نعروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ہمیں اسے ایک قومی آئینے میں بدل دینا چاہیے، ایسا آئینہ جس میں ہر پاکستانی اپنی ذات کو دیکھ سکے اور خود سے صرف ایک سوال پوچھے کہ "کیا میں اس پاکستان کا ویسا ہی شہری ہوں، جیسا پاکستان میرے خوابوں میں ہے؟"اگر اس سوال کا جواب "نہیں" ہے تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یہیں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی خامیوں سے نظریں نہیں چراتیں، ان کا سامنا کرتی ہیں۔وہ دوسروں کے احتساب سے پہلے اپنا احتساب کرتی ہیں۔جس دن پاکستان کا ہر شہری یہ سمجھ لے گا کہ اس کی دیانت، اس کی ذمہ داری، اس کا اخلاق اور اس کا کردار بھی قومی سلامتی کا حصہ ہے، اس دن شاید ہمیں حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے بہت زیادہ نعرے لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔تب 14 اگست صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسا دن بن جائے گی جب پوری قوم اپنے ماضی پر فخر کرے گی، اپنے حال کا بے لاگ احتساب کرے گی اور اپنے مستقبل کے ساتھ ایک نیا عہد باندھے گی۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ آزادی صرف حاصل نہیں کی جاتی، اسے ہر نسل اپنے کردار سے زندہ بھی رکھتی ہے۔