Wed, September 16, 2026

اسرائیل اور حماس مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر پیش رفت کی کوششیں جاری

اسرائیل اور حماس مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر پیش رفت کی کوششیں جاری

شرم الشیخ :  مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا ہے، جس میں قیدیوں کے تبادلے کے شیڈول اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات بالواسطہ طریقے سے جاری ہیں اور آج بھی بات چیت کا تیسرا دن ہے۔ آج کے اجلاس میں قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی اور امریکی ثالث بھی شریک ہوں گے۔

مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شرم الشیخ پہنچ چکے ہیں، جب کہ ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کی سربراہی میں ترک وفد بھی بات چیت میں شامل ہے۔

حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے مصری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حماس معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے جنگ کے مکمل خاتمے کی تحریری ضمانت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اسرائیل پر بھروسہ نہیں کر سکتے، جب تک یقین نہ ہو جائے کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی۔"

حماس کے ایک اور عہدیدار نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کو اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا سے منسلک کرنے پر گفتگو ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حماس نے اپنے مطالبات میں مستقل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، انسانی امداد کی بلارکاوٹ ترسیل، بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، غزہ کی تعمیرِ نو اور قیدیوں کے منصفانہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو آئندہ چند دنوں میں ایک ابتدائی معاہدے کا فریم ورک سامنے آ سکتا ہے، تاہم دونوں فریق اب بھی کئی اہم نکات پر متفق نہیں ہو سکے۔

ٹیگز: