وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی حکومت کی سب سے بڑی حلیف جماعت ہے جو حکومت میں شامل نہیں ہے تاہم اُس نے مسلم لیگ ن کے تعاون اور حمایت سے صدرِ مملکت، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی جیسے اعلیٰ ترین آئینی عہدے حاصل کر رکھے ہیں۔ ان کے علاوہ صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنرز کے عہدوں پر بھی پیپلز پارٹی کے نمائندے براجمان ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اکثریت میں ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو کسی اور سیاسی جماعت کے تعاون کی ضرورت نہیں البتہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے منتخب وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگتی اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لیے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ارکانِ صوبائی اسمبلی کی حمایت اور تعاون کے محتاج ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ایسی حلیف جماعتیں ہیں جنہیں اپنے اپنے حصے کے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ایک دوسرے کے تعاون اور حمایت کی ہمہ وقت ضرورت ہے۔ ان حالات میں دونوں جماعتوں اور اُن کے قائدین کا باہمی شیر و شکر ہونا اور ایک دوسرے کے خلاف کم سے کم بیان بازی کرنا وقت کی ضرورت سمجھا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ان دونوں جماعتوں کے قائدین اور حکومتی عہدیداروں کے درمیان باہمی چپقلش اور مخالفانہ بیان بازی کا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔ پنجاب حکومت کی ترجمان وزیرِ اطلاعات محترمہ عظمیٰ بخاری اور سندھ حکومت کے سینئر وزیر جناب شرجیل میمن ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کے درمیان سوالات، جوابات، الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ کب سے چلا آ رہا ہے، اسے معمول کی نوک جھونک سمجھ کر نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے تاہم پچھلے ایک آدھ ہفتے سے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز اور پیپلز پارٹی سندھ حکومت کے وزرا اور دوسرے درجے کے بعض قائدین خم ٹھونک کر جس طرح ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے ہوئے ہیں اسے کوئی عام سی بات یا معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاملات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے قائدین جن میں قومی اسمبلی میں اس کے اہم رہنما سید نوید قمر اور اسکے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن اور قمر الزمان کائرہ جیسے قائدین شامل ہیں وہ محترمہ مریم نواز کے بعض بیانات پر سیخ پا ہی نہیں ہیں بلکہ پارلیمنٹ میں حکومت کی حمایت سے دست کش ہونے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے بائیکاٹ کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور اس پر عمل بھی کر چکے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور اُس کے بعض قائدین کے خلاف جو بیانات دئیے ہیں وہ اُن پر پیپلز پارٹی کے قائدین سے معافی مانگیں ورنہ اس کے قومی اسمبلی کے ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور کسی طرح کی قانون سازی میں معاونت نہیں کریں گے۔
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز کا مؤقف ہے کہ وہ معافی کیوں مانگیں، کس لیے معافی مانگیں آخر کسی کے ساتھ کیا کیا ہے کہ معافی مانگیں؟ پنجاب کے حقوق کی بات کی ہے آئندہ بھی اگر کوئی پنجاب کو گالی دے گا، اُسے الزام تراشی کا نشانہ بنائے گا تو وہ اُس کا جواب دیں گی۔ پنجاب میں آفت آئی تو ایک صوبے کے لوگوں نے بلا مقصد تنقید کی۔ آصف علی زرداری میرے محترم ہیں اور بلاول بھٹو میرے چھوٹے بھائی ہیں پنجاب کے عوام پر دُکھ کی گھڑی آئی تو تین پریس کانفرنسیں کر کے مذاق اُڑایا گیا۔ پنجاب نے اپنے پیسے اور اپنے حصے کے پانی سے نہریں نکالنا چاہیں تو لوگوں کو گمراہ کر کے پنجاب کے خلاف سڑکوں پر نکالا گیا۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی بات نہیں کرے گی تو کون کرے گا۔ عوام تکلیف میں ہو اور کوئی تنقید کرے تو مریم نواز ضرور بولے گی۔ اب بات کریں گے تو زور دار جواب ملے گا۔ پنجاب میں بسنے والے کسی بھی شخص سے زیادتی نہیں ہونے دوں گی۔ واک آئوٹ کر کے کہتے ہیں کہ مریم نواز معافی مانگے۔ معافی نہیں مانگوں گی۔ قومیں غیرت سے جیتتی ہیں، عوام کی عزتِ نفس کی حفاظت میری ذمہ داری جسے میں ہر صورت میں پورا کروں گی۔
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے قائدین کے درمیان مخالفانہ اور مخاصمانہ بیان بازی کی نوبت یہاں تک آئی ہے تو اس کی بڑی وجہ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ میں پنجاب کے تین دریائوں چناب، راوی اور ستلج میں شدید سیلاب آنے کی ناگہانی صورتحال بنی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چناب، راوی اور ستلج دریائوں میں آنے والے ہولناک اور انتہائی اُونچے درجے کے سیلابوں کی وجہ سے پنجاب کے وسیع علاقے جن میں شمال مشرقی پنجاب، مشرقی پنجاب، وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب اور جنوب مغربی پنجاب کے علاقے شامل ہیں بُری طرح متاثر ہوئے۔ اللہ کریم نے کرم کیا کہ جانی نقصانات مقابلتاً کم ہوئے لیکن مالی اور انفرا سٹرکچر کے نقصانات اتنے وسیع پیمانے پر ہوئے کہ ماضی میں اس کی کم ہی مثال یا مثالیں ملیں گی۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ پنجاب حکومت اپنی انتہائی فعال اور مستعد وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز کی قیادت میں متاثرین ِ سیلاب کے مصائب، نقصانات اور پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے بہت سرگرم رہی۔ فوٹو سیشن بھی چلتے رہے جن کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا لیکن سیلاب کی تباہ کاریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے حکومتی سطح پر بلا شبہ بہت بھاگ دوڑ ہوئی اور اس میں حکومتِ پنجاب کے مختلف محکموں اور انتظامیہ وغیرہ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ سلسلہ ایک طرف جاری تھا کہ اسی دوران سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور پیپلز پارٹی کے کچھ دوسرے قائدین کی طرف سے ایسے بیانات آئے جن سے پنجاب حکومت پر تنقید کا پہلو ہی سامنے نہیں آیا بلکہ یہ تاثر بھی اُبھرا کہ پنجاب حکومت سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے حفظ ما تقدم کے طور پر پیشگی انتظامات کرنے میں ناکام رہی۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے کچھ قائدین کی طرف سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین سیلاب کی مدد کرنے اور بیرونِ ملک سے متاثرین سیلاب کے لیے امداد لینے بیانات بھی دئیے گئے۔ پریس کانفرنسیں بھی ہوئیں جن میں سندھ میں سیلاب کے اثرات اور تباہ کاریوں کو جو جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے مقابلے میں انتہائی کم تھیں بنیاد بنا کر اس طرح کی باتیں بھی کی گئیں کہ پنجاب حکومت اگر اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح عہدہ برآ ہوتی تو ان نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔ غرضیکہ معروضی صورتحال کا یہ ایسا پہلو تھا کہ جس نے پنجاب حکومت کی ترجمان وزیرِ اطلاعات محترمہ عظمیٰ بخاری کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز کو بھی اپنے اور اپنی حکومت کے دفاع میں بیان بازی پر مجبور کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ محترمہ مریم نواز جذبات کا شکار ہو کر کچھ زیادہ ہی پُر جوش ہوئیں جس سے پیپلز پارٹی کے قائدین نے زیادہ بُرا منایا۔
اس صورتحال کو سامنے رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں جماعتوں کے لیے کوئی زیادہ خوش کن اور حوصلہ افزا نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ دونوں جماعتوں کے قائدین تحمل اور برداشت سے کام لیں اور باہمی تعاون کے سلسلے میں دراڑیں نہ پڑنے دیں۔ یہ حقیقت دونوں جماعتوں کے قائدین کے سامنے رہنی چاہیے کہ مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے تعاون سے وفاق میں برسرِ اقتدار ہے تو پیپلز پارٹی کو بھی مسلم لیگ ن کے تعاون اور حمایت سے ملک کے مقتدر ترین آئینی عہدوں پر براجمان ہونے کا موقع ملا ہے۔