Wed, September 16, 2026

معافی ۔۔حضور معافی 

معافی ۔۔حضور معافی 


پاکستان کا جشن آزادی منایا جاچکا،پانچ اگست بھی گزر گئی لیکن ملک میں کوئی انقلاب نہیں لایا جا سکا۔ یہ انقلابی دعوے،یہ وعدے ،نعرے اور بڑھکیں سب سیاست اور وقت گزارنے کا بہانہ ۔نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید۔ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان عیسیٰ خان کے پاکستان آنے کی شرلی چھوڑی گئی لیکن میں نے اسی وقت لکھا تھا کہ وہ دونوں اس وقت پاکستان نہیں آئیں گے اور نہ ہی ان سے کوئی توقعات وابستہ کی جائیں ۔ پاکستان وہ فی الحال آئیں گے نہیں اور عالمی دنیا میں اپنے والد کی کوئی رہائی ڈیل کے لیے وہ ابھی کافی زیادہ ناکافی ہیں۔ ان کو امریکا لے جایا گیا وہاں پی ٹی آئی کے لوگوں نے لابنگ فرمز کے ذریعے جن چند سینٹرزکو اپنے ”وش“ میں کررکھا ہے انہی سے ان جوانوں کی ملاقاتیں کرواکے واپس بھیج دیا گیا ۔نتیجہ اس کا بھی وہی کہ عمران خان صاحب اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
کیا عمران خان کو جیل سے باہر آنا چاہئے ؟ اس کا جواب تو ہے کہ قانون کا سامنا کرکے ان کو بالکل باہر آناچاہئے لیکن سوال اصل یہ ہے کہ کیا وہ ایسے باہر آجائیں گے؟ اس کا جواب فی الحال تو بہت بڑی ”نا“ میں ہے ۔مصالحت کیسے ممکن ہوسکتی ہے ؟ کیا فوج کے ساتھ مذاکرات سے یہ ممکن ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب بھی یہ ہے کہ صرف مذاکرات سے ممکن نہیں ہوسکتا۔میں کافی عرصہ سے یہ کہہ رہاہوں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا مسئلہ حل کیے بغیر ملک میں سیاسی امن نہیں آسکتا۔ سیاسی استحکام میں نے اس لیے نہیں لکھا کیوں کہ سیاسی استحکام پاکستان کی قسمت میں سرے سے ہے ہی نہیں اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی امید رکھی جاسکتی ہے کیونکہ سیاسی استحکام کےلئے ہار اور شکست کو مان کر ملک کےلئے اپوزیشن میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے جو یہاں کسی بھی سیاسی پارٹی کو گوارا نہیں ہوتا اس لیے سیاسی استحکام والا معاملہ یہاں بس خواب ہی رہے گا۔
عمران خان صاحب کے قضیے کا حل کیا ہے ؟ میں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو استاد محترم سہیل وڑائچ صاحب کا کالم شائع ہوچکاہے ۔انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پہلی ملاقات کے عنوان سے کالم لکھا ہے ،اس کالم میں فیلڈ مارشل کی شخصیت پر کافی تفصیل سے لکھا ہے لیکن میں نے جو نتیجہ نکالا ہے سہیل صاحب نے نام لیے بغیر عمران خان کے مسئلے کا حل ان سے دریافت کیا اور ان کا جواب بھی رقم کیا ۔اس جواب میں بین السطور جواب جو میں اخذ کرپایا ہوں وہ وہی ہے کہ ”صدق دل سے معافی “یہی بات پہلے آن ریکارڈ ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چودھری کرچکے ہیں ۔ نومئی پر معافی اور اظہار ندامت عمران خان صاحب کی رہائی کی پہلی شرط ہے۔باقی مذاکرات اور آگے بڑھنے کا راستہ اسی معافی سے نکلنا ہے ۔
میں نے کالم لکھنے کا ارادہ کیا تو میرے سامنے خیبر پختونخوا میں سیلاب، بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے جاں بحق ہونے والے تین سو افراد کی خبر ہے۔ یہ تباہی اس صوبے میں آئی ہے یہاں پر عمران خان صاحب کی پارٹی کی بارہ سال سے تیسری بار حکومت ہے۔سب سے زیادہ تباہی بونیر میں ہوئی ہے لیکن باجوڑ، بٹگرام اور سوات میں بھی نقصان ہوا ہے ۔اب ایک تو ہے کہ اس کو حسب معمول قدرتی آفت پر ڈال پر اپنا پلہ جھاڑ دیا جائے اور اگلے سال پھر اسی قسم کی تباہی کا انتظار کیا جائے لیکن میری سوچ اس سے بالکل مختلف ہے ۔میں اس کو ”مین میڈ“بحران سمجھتا ہوں۔کیونکہ سوال اہم ہے کہ کیا ان ہلاکتوں کا ذمہ دار صرف آسمانوں سے برسنے والا پانی ہی ہے یا پھر وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جن کو اس صوبے میں انتظام و انصرام کی ذمہ داری بصورت اقتدار دی گئی ہے؟جن کے تصرف میں سیکڑوں ارب کا بجٹ تھا ان بارہ سالوں میں لیکن ان کی ترجیحات اپنے صوبے کی گورننس کی ضروریات کے بجائے صرف سیاست بن گئی ہے؟
مجھے نہیں معلوم کہ وہاں کے سسٹم میں کوئی مسئلہ ہے یا وہاں کے حکمرانوں کے ڈی این اے میں کوئی ایسا فالٹ ہے جو بے حسی کو جنم دیتا ہے۔مجھے تو اس وقت سے مایوسی ہے جب دوہزار چودہ میں خیبربختونخوا میں سیلات سے تباہی آئی ہوئی تھی۔ اس وقت بھی لوگ موت کے منہ میں جارہے تھے لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اسلام آباد کے دھرنے کے اسٹیج پر باقاعدہ ڈانس کررہے تھے۔اب بھی وہی سوچ ہے کہ صوبہ میں حالات شدید ابتر ہیں اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا فرمان ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے 
ہر حد پار کرلیں گے ۔وزیراعلیٰ صاحب کو خبر ہو کہ ان کی حدود اپنے صوبے کے عوام کو آفات سے بچانے کا مستقل بندوبست کرنا ہے۔دریاو¿ں کو ان کا راستہ دینا ہے۔تجاوزات کا خاتمہ کرنا ہے۔اپنے عوام کی جانیں بچانے کے لیے ریسکیو کے سسٹم کو بہت بہتر بناناہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ قدرتی آفات کہاں نہیں ہوتیں۔۔؟ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں، کلا¶ڈ برسٹ آتے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مگر قدرتی آفات کی تباہ کاریاں اس شدت کی نہیں ہوتیں، جیسا کہ خیبرپختونخوا میں دیکھی جا رہی ہیں۔ فرق صرف گورننس، موثر منصوبہ بندی، قبل از وقت الرٹس، انفراسٹرکچر کی بہتری، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مربوط نظام کے نہ ہونے کا ہے۔
سوال یہ بھی ہونا چاہئے کہ پی ٹی آئی کی دہائی بھر کی حکومت نے صوبے کے عوام کو کیا دیا ہے؟ ۔اس طویل دورِ اقتدار میں اگر یہ جماعت چاہتی تو صوبے کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنا سکتی تھی، پی ڈی ایم اے کو جدید خطوط پر استوار کر سکتی تھی، برساتی نالوں کی صفائی، پہاڑی علاقوں میں پانی کی نکاسی، ہنگامی رسپانس سسٹم، اور سیلاب سے بچا¶ کے لئے پشتے بنا سکتی تھی، مگر بدقسمتی سے اس جماعت نے اپنی توجہ عوامی خدمت کی بجائے سیاسی دنگا فساد، اقتدار کی لڑائی اور کرپشن کے معاملات پر مرکوز رکھی۔
پی ٹی آئی نے صوبہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے پر ووٹ لیا، مگر خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن کو خود انہوں نے بند کیا۔ منصوبوں میں مبینہ کرپشن، مالم جبہ کیس، بی آر ٹی اسکینڈل اور بلین ٹری سونامی میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن پر نہ کوئی جواب ملا، نہ ہی کوئی کارروائی۔ اگر وہی توانائی جو اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے میں لگائی گئی، گورننس کی بہتری میں لگائی جاتی تو آج شاید سیکڑوں جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
آج اس قدرتی آفت نے یہ ثابت کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس نہ تو کوئی فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم ہے اور نہ ہی انفراسٹرکچر کی بہتری پر کوئی توجہ بیشتر ریسکیو آپریشنز میں افواج پاکستان اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت حصہ لیا۔ قدرتی آفات آتی ہیں لیکن ان سے نمٹنا، انسانی جانوں کو بچانا یہ حکومت وقت کی ذمہ داری تھی ہے اور رہے گی ۔اب بھی وقت ہے ۔اپنی توانائی درست جگہ پر لگائیں۔ عمران خان صاحب کی رہائی آپ کے بس میں نہیں ہے اس کا فیصلہ خود عمران خان صاحب نے کرنا ہے آپ کے کرنے کا کام اپنے صوبے کے لوگ ہیں۔ اس لیے جس کام کی ذمہ داری ملی ہے اس کو انجام دیجئے باقی سب ٹھیک ہوجائے گا۔

ٹیگز: