Wed, September 16, 2026

عالمی جریدے کے ذریعے نیا پراپیگنڈا

عالمی جریدے کے ذریعے نیا پراپیگنڈا

پی ٹی آئی کے بانی نے آرمی چیف کو خطوط لکھنے اور کوئی جواب نہ آنے پر ایک نئے پراپیگنڈے کی کوشش شروع کر دی۔ گو کہ آرمی چیف نے واضح کیا تھا کہ انہیں کوئی خط نہیں ملا اور اگر ملا بھی تو وہ اسے نہیں پڑھیں گے۔ آرمی چیف کی میڈیا سے اس غیر رسمی گفتگو کے بعد بہت سے حلقوں میں سپہ سالار کے بیان کو سراہا گیا تھا۔ آرمی چیف نے اپنے آئینی کردار کو بہت خوبصورتی سے واضح کیا اور یہ کلیئر کر دیا کہ اس طرح کے خطوط پر جوابات دینے بیٹھ جانا فوج کا کام نہیں۔ ایک طرف آرمی چیف کا پروفیشنلزم اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے دن رات متحرک رہنا اور دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کا پراپیگنڈا اب عوام کو بھی سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے۔ عمران خان نے ٹائم میگزین میں آرٹیکل لکھ کر ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ علی ملک اور جبران نے عمران کی ہدایت پر اے آئی کی مدد سے یہ آرٹیکل لکھا ہے۔ اس آرٹیکل میں لکھا ہے کہ جب سے میری حکومت گئی ہے پاکستان ریجن کے لیے ایک سکیورٹی رسک بن چکا ہے۔ عمران کی ہدایت کے مطابق لکھا گیا کہ پاکستان کے اندر سکیورٹی حالات بہت بگڑ چکے ہیں، اور اگر دہشت گرد یوں ہی کارروائیاں کرتے رہے تو پاکستان کے ایٹمی ہتھیار غیر محفوظ ہو جائینگے۔ عمران نے لکھوایا کہ پاکستان کی فوج اور پاکستان کا آرمی چیف میرے خلاف ہو گئے ہیں، مغربی دنیا میری مدد کرے میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جس کی مغربی دنیا کو ضرورت ہے۔ سی پیک اور پاکستان معدنیات میں سرمایہ کاری پر لکھا کہ دہشت گردی کے واقعات سی پیک اور پاکستان میں معدنیات میں بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ ان پروجیکٹس کو بند کر کے مسلح گروہوں سے بات چیت کی جائے۔ عمران نے اس بوڑھی داشتہ کی طرح جس کے گاہک آنا بند ہو گئے ہیں اور وہ اپنی جوانی کے قصے گلی میں سنا کر گاہک گھیرنے کی کوشش کرتی ہے کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کی ”میں ہر خدمت کے لیے تیار ہوں میرا فیملی بیک گراو¿نڈ آپ جانتے گولڈ اسمتھ اور روتھ چائلڈز جیسے خاندان میری ہرگارنٹی لینے کو تیار ہیں لیکن عمران کو شاید نہیں معلوم کہ ٹرمپ نے تین ہفتے پہلے ٹائم میگزین کو ایسے ہی ذلیل کیا ہے جیسے ریحام اور حاجرہ کی کتاب میں عمران کو ذلیل کیا گیا تھا۔ اس آرٹیکل میں عمران نے جو باتیں کیں اس کا خلاصہ یوں بنتا ہے۔ یعنی عمران خان دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن رہا ہے اور اسکے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہے۔ پاکستان میں سی پیک اور معدنیات میں غیر ملکی سرمایہ کاری روکی جائے۔ دہشتگرد گرد تنظیموں سے مذاکرات کریں۔ آرمی چیف مجھ سے بات کریں، میرے پاس سارے مسائل کا حل، پاکستان آرمی کمزور ہو گئی ہے میں ہی اس کو مضبوط کر سکتا ہوں۔ میرے عالمی دنیا میں تعلقات ہیں، مغربی ممالک کے کئی سیاستدان میرے دوست ہیں، گولڈ اسمتھ اور روتھ چائلڈز سے میرے تعلقات ہیں۔ یہ سب ہونے کے بعد بھی اگر کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ پروجیکٹ عمران دارصل پروجیکٹ UndoPakistan ہے یا تو وہ کٹر عمرانڈو ہو گا، یا پھر مراد سعید کی طرز پر سیاست کرنے والا جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر صرف عمران خان کی ہاں میں ہاں ملانے والا ہو گا۔ اب عام پاکستانی کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ آخر جیل میں بیٹھا شخص کیسے آرٹیکل لکھوا سکتا ہے؟ تحریک انصاف اور ان کے بین الاقوامی سہولت کاروں کی ایک اور چال یقینی طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ عمران خان، جو جیل میں قید ہے، اچانک ٹائم میگزین جیسے ادارے میں جمہوریت کی بحالی پر کیسے مضمون لکھوا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مضامین اصل میں کون لکھ رہا ہے؟ عمران خان کو انگریزی میں ایک صفحہ لکھنا بھی نہیں آتا، تو اتنے منظم انداز میں آرٹیکل کیسے لکھ سکتا ہے؟ جیل کے عملے کو عمران خان کی کسی بھی قسم کی تحریری سرگرمی کا علم نہیں، تو پھر یہ مضامین کہاں سے آ رہے ہیں؟ اس کا ٹوئٹر اکاو¿نٹ چلانے والا کون ہے؟ ایک سزا یافتہ قیدی کا سوشل میڈیا اکاو¿نٹ کون اور کیسے چلا رہا ہے؟ یقینی طور پر گولڈ اسمتھ فیملی اور مغربی لابیز اس کا ٹوئٹر اکاو¿نٹ چلا رہی ہیں۔ لندن میں بیٹھے لوگ یہ ”مضمون نویسی“ کا ڈرامہ رچ رہے ہیں۔ عمران خان اب ایک کمرشل پروڈکٹ بن چکا ہے، اس پر پیسہ کمایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی جمہوری جدوجہد نہیں، بلکہ ایک مہنگا بین الاقوامی پراجیکٹ ہے۔ پاکستانی جانتے ہیں کہ عمران خان کی یہ عالمی سازش پہلے کی طرح ناکام ہو گی۔ بعض سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ عمران خان نے آرٹیکل لکھوا کر اپنی رہی سہی مقبولیت بھی کم کر لی۔ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر سیاسی مقدمات بنائے گئے، دوران اسیری ن لیگ کے لیڈروں نے کبھی اس طرح کا پراپیگنڈا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ عمران خان نے اس طرح کے ملک کے خلاف آرٹیکل لکھوا کر سیاسی نا پختگی کی سند فراہم کر دی۔ ن لیگ کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کے حالیہ بیان پر تحریک انصاف کی خاموشی واضح ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ امریکی میگزین ”ٹائم“ میں شائع ہونے والا عمران خان کا مضمون، عالمی سطح پر پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کی انتہائی قابل مذمت کوشش ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کے مضمون میں حکومت، عدلیہ، مسلح افواج اور تمام دوسرے اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے پاکستان کی صورت حال کو ”سیاہ عہد“ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مضمون میں یہ جھوٹا، غلط اور بے بنیاد دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران انہیں (عمران خان کو) اڈیالہ جیل سے نکال کر ہاو¿س اریسٹ کی پیشکش کی گئی تھی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ انہیں کسی بھی مرحلے پر سرے سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی، بہتر ہو گا کہ عمران خان بتا دیں کہ یہ پیشکش کس کی طرف سے؟ کس نے؟ کب ان تک پہنچائی؟ اس سے پہلے بھی ن لیگی رہنما عمران خان کے اس دعوے کو رد کر چکے تھے مگر ریاست کے خلاف مسلسل پراپیگنڈا کرنا عمران خان کی سوچ کی واضح عکاسی کرتا ہے!

ٹیگز: