Wed, September 16, 2026

گالیاں دینا منع ہے!

گالیاں دینا منع ہے!

قارئین کرام! پہلے آپ ایک پرانا واقعہ سُن لیں اگلی بات پھر کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ چند برس پہلے 14 فروری کے دن جسے عرف عام میں ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے۔ ایف ایم 101، ریڈیو پاکستان لاہور پر بطور سینئر پروڈیوسر کام کرنے کے دوران میرے پاس ایک نئی آر جے اپنے لائیو شو کا ٹاپک ڈسکس کرنے آئی۔ اس نے اپنے شو کا جو موضوع بتایا وہ تھا ”اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں توکیا اُس کا کھلم کھلا اظہار کر دینا چاہیے یا نہیں“۔ واضح رہے کہ ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے اس روز اکثر نجی ٹی وی اور ریڈیو چینلز سے بڑے زور شو سے اسی موضوع پر خصوصی رنگا رنگ فُل ڈے نشریات ہو رہی ہوتی ہیں۔ پچھلے چند برس سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بھر پور تعاون سے ان چینلز پر اس دن کو خصوصی اہتمام کے ساتھ باقاعدہ ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں لڑکیاں اور لڑکے میسجز کے ذریعے بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک چینلز تو اب باقاعدہ سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہوئے ان لڑکے اور لڑکیوں کو لائیو فون کالز کے ذریعے ایک دوسرے سے محبت کے کھلم کھلا اظہار کا موقع بھی دینے لگے ہیں۔ یقینا ایف ایم 101 کی اس نئی آر جے نے بھی انہی چینلز سے متاثر ہو کر اپنے شو کے لیے اس دن کی مناسبت سے اس موضوع کا انتخاب کیا تھا۔ جو لوگ ریڈیو پاکستان کی تاریخ سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیںکہ ریڈیو پاکستان ایک ایسا قومی ادارہ ہے جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور سننے والوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ انہیں ایک صحت مند تفریح کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ہمارے ملک میں ریڈیو پاکستان وہ واحد نشریاتی ادارہ ہے جسے ایک مکمل فیملی چینل ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جب کہ اکثر نجی ٹی وی اورریڈیو چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر میں تمام تر اخلاقی اور صحافتی اقدارکو بے دردی سے پامال کر رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے تمام پروگراموں میں آج بھی اُن سنہری اقدار کی پاسداری کی جاتی ہے جو بطور پاکستانی ہماری تہذیب و ثقافت کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کسی بھی سکرپٹ کو نشر کرنے سے پہلے اس کا ایک ایک لفظ کو پوری ذمہ داری کے ساتھ پرکھا جاتا ہے۔ ان جزئیات کا خیال ناصرف ریکارڈ کیے جانے والے پروگراموں میں رکھا جاتا ہے بلکہ براہ راست نشریات بھی اسی ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں جس کے لیے نئی آوازوں اور پروڈیوسرز کی خاص طور پر تربیت کی جاتی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے یہی وہ قاعدے ہیں جن کے پیشِ نظر میں نے اپنی آر جے سے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی روایات ہمیں ایسے کھلے ڈُھلے موضوعات پر اس انداز میںبولنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ جواب میں اُس آر جے نے کہا ”سر آپ منفی انداز میں کیوں سوچ رہے ہیں“۔ میں نے عرض کیا کہ بطور براڈکاسٹر یہ بات ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ ہم ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے موضوعات کا ہر پہلو سے جائزہ لیں۔ لہٰذا ہمیں اپنی ذاتی پسند یا نا پسند سے ہٹ کر ہر ممکن احتیاط برتنا ہوتی ہے کہ ریڈیو پاکستان سے کوئی ایسی گفتگو یا بات نشر نہ ہو جو ہماری تہذیب یا جس کا سننے والوں پر کوئی منفی اثر پڑنے کا ایک فیصد بھی امکان ہو۔ ایک ذمہ دار براڈکاسٹر کی حیثیت سے ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہوتی ہے کہ ہمارے سننے والوں میں معاشرے کے ہر طبقہ فکر سے مختلف عمر، جنس اور سوچ کے حامل پڑھے لکھے، اَن پڑھ یا کم تعلیم یافتہ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے کسی بھی پروگرام کی بنیاد پر عین ممکن ہے اپنے اپنے خاندانی و علاقائی پس منظر، تعلیم اور ذہنی استعداد کے مطابق اپنی موجودہ یا آئندہ زندگی کا کوئی اہم فیصلہ یا رخ متعین کریں“۔ وہ آر جے کہنے لگیں ”سر وہ کیسے؟“۔ میں نے کہا ”فرض کریں آپ اپنے سوچے ہوئے موضوع پر براہ راست پروگرام کرتی ہیں اور ایف ایم ریڈیو کے فارمیٹ کے مطابق اس میں سننے والوں کی آرا بھی شامل کرتی ہیں جس میں ممکن ہے چند آزاد خیال لوگ اس موقف کی تائید کریںکہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تو اس کا کھلم کھلا اظہار ضرور کرنا چاہیے۔ اب آپ سوچیں آپ کا پروگرام کسی ایسے شخص نے سنا ہے جو کسی ایسی لڑکی کی 
محبت میں یکطرفہ طور پر مبتلا ہے جو بڑے مشکل حالات میں گھر سے نکل کر پڑھنے یا ملازمت کے لیے جاتی ہے۔ آپ کے پروگرام سے شہ پا کر اگلے روز وہ مجنوں تمام اخلاقیات کو بالائے طاق طرف رکھتے ہوئے بھرے بازار میں اس معصوم اور مجبور لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے تو آپ کو اندازہ ہے کہ اس کے بعد وہاں کیا کچھ ہو سکتا ہے“۔ اس پر اس آر جے نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا“۔ میں نے کہا ”عین ممکن ہے لڑکے کی اس حماقت پر لڑکی یا لڑکے میں سے کوئی ایک یا دونوں غیرت کے نام پر مارے جائیں اور پھر ان دو خاندانوں کی دشمنی کی آگ میں خدانخواستہ پتا نہیں اور بھی کتنے لوگ جان سے چلے جائیں“۔ میں نے اپنی بات کو مزید جاری رکھتے ہوئے کہا اس طرح کی بظاہر ایک چھوٹی سی غیر ذمہ دارانہ غلطی سے معاشرے میں وہ بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے جس کا بعد میں ازالہ ممکن نہیں“۔ اس ساری گفتگو کے بعد اس آر جے نے مجھ سے باقاعدہ معذرت کرتے ہوئے نا صرف شو کےلئے فوری طور پر اپنا موضوع تبدیل کر لیا بلکہ آئندہ کے لیے اپنے طرز فکر میں بھی تبدیلی کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد اگلی بات یہ ہے کہ اب آپ اس واقعہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمسایہ ملک بھارت کی صف اول کی سیاسی رہنما سونیا گاندھی کے اس بیان کو یاد کریں جس میں اس نے کہا تھا ”اب ہمیں پاکستان سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ ہم نے پاکستان کو ثقافتی محاذ پر فتح کر لیا ہے“۔ یاد رہے کہ سونیا گاندھی نے یہ بیان آج سے چند برس پہلے اُس وقت دیا تھا جب پاکستان میں سونی اور سٹار پلس ٹی وی کے ڈراموں کا راج تھا۔ اب تو خیر سے ہمارے اپنے چینلز بے حیائی اور بے راہ روی کی اس دوڑ میں سونی ٹی وی اور سٹار پلس جیسے انڈین چینل کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ ملک میں مادر پدر آزادی کے حامی لبرل طبقوں کے نام نہاد نمائندوں سے میری گزارش ہے کہ آج اتنے برس بعد سونیا گاندھی کے اس بیان کو ذہن میں رکھ کر گذشتہ دنوں عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر مچائے جانے والے غدر اور اس میں بے شرمی پر مبنی کیے جانے والے مطالبات کے ساتھ چند برس پہلے نجی تعلیمی ادارے میں ایک لڑکی اور لڑکے کی طرف سے سر عام بے باکانہ انداز میں ایک دوسرے سے محبت کے ”کھلم کھلا“ اظہار کے حالیہ واقعہ کو ذہن میں لائیں اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ملک کی نظریاتی سرحدوں اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت کےلئے برسرِ پیکار ہمارے جیسے گنوار، تنگ نظر، قدامت پسند اور ذہنی مریضوں کو طعنے اور گالیاں دئیے بغیر یہ بتائیں کیا سونیا گاندھی نے غلط کہا تھا۔

ٹیگز: