’’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘‘ ایک وزیر اعظم ساڑھے تین سال امریکی صدر کے فون کا انتظار کرتے جیل پہنچ گیا۔ دوسرے وزیر اعظم کے لیے امریکی صدر آنکھیں بچھائے وہائٹ ہائوس میں سراپا انتظار، بازی پلٹ گئی، ایک کا غرور اور انا لے ڈوبی، دوسرے کی دانش، ذہانت اور سیاسی تجربے نے دور جاتے امریکا کو اتنا قریب کر لیا کہ پاکستان کو نہ صرف اسلامی سپر پاور تسلیم کر لیا گیا بلکہ عالمی سپر پاور کے صدر نے اس کے وزیر اعظم اور آرمی چیف کو مذاکرات کے لیے مدعو کر لیا، ایک گھنٹہ 20 منٹ کی ملاقات، ایجنڈا ابھی تک خفیہ، لیکن ذرائع کے مطابق بنیادی نکات میں غزہ میں جنگ بندی، دو ریاستی فارمولہ، جنگ کے خاتمہ کے لیے علاقہ میں اقوام متحدہ یا اسلامی ممالک کی فوجوں کی تعیناتی شامل، اولین مسئلہ جنگ بندی، سات جنگیں بند کرائیں، آٹھویں جنگ بند کرائیں تو نوبل پرائز کے حقدار ٹھہریں گے، اپنے لاڈلے نیتن یاہو کے گلے میں پٹا ڈالو، ٹرمپ کا جواب جنگ بندی جلد ممکن ہے، اسرائیل کو مغربی کنارے کا انضمام نہیں کرنے دیں گے۔ غزہ کے مظلوموں پر ایک ایک لمحہ بھاری، حماس کو غیر فعال کرنے کی شرط عائد کر دی، مقناطیسی شخصیت کے مالک ہفت زبان پاکستانی وزیر اعظم نے ٹرمپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کشمیر کے حل کا وعدہ پورا کریں، دو دنوں میں تین ملاقاتیں 7 دنوں میں 35 سربراہوں سے ملے، کمال کا اسٹیمنا، کسی تیل ویل کی ضرورت نہیں، قوم اور ملک کی خدمت کا جذبہ سلامت شہباز شریف اقوام متحدہ میں مرکز نگاہ بنے رہے، ایک فاتح وزیر اعظم کی حیثیت سے ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات چیت کی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چمکتی آنکھوں اور پُر عزم چہرے کے ساتھ قدم بقدم ساتھ رہے۔ اللہ کا کرم جس نے پاکستان کو اقوام عالم میں عزت و تکریم بخشی، میجر عدنان جیسے بہادر جوانوں غازیوں اور شہیدوں نے ہمارے سر فخر سے بلند کر دئیے، نیو یارک اور واشنگٹن میں مثالی پروٹوکول امریکا میں 35 سال سے رہائش پذیر جہلم کے دو صحافیوں راجہ کبیر اور راجہ رزاق نے اعتراف کیا کہ امریکا میں آج تک ایسا شاندار پروٹوکول کسی سربراہ یا وزیر اعظم کو نہیں ملا۔ مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچے تو درجنوں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے پروٹوکول میں انہیں وائٹ ہائوس لایا گیا۔ اوول آفس میں مذاکرات ہوئے مذاکرات میں صرف 5 افراد شریک۔ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر ٹرمپ، نائب صدر اور امریکی وزیر خارجہ۔ اس سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ میں عظیم شاندار پاکستانی وزیر اعظم اور گریٹ فیلڈ مارشل سے ملاقات کروں گا۔ اسلامی اور عرب ممالک سے ملاقات میں بھی ٹرمپ نے فخریہ انداز میں پاکستان کا ذکر کیا، فاتحین کی ملاقات میں حاکم و محکوم کے فاصلے مٹ گئے، شہباز شریف کی مسکراہٹ اور فیلڈ مارشل کے چہرے کی چمک کہہ رہی تھی۔ ’’لے تو آئے ہیں انہیں راہ پر ہم باتوں میں، اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں‘‘
امریکی صدر کی جانب سے عزت افزائی، نوازش کرم کیوں؟ بڑا سوالیہ نشان، دنیا بدل رہی ہے، امریکا کی مکمل حمایت اربوں کھربوں ڈالر کی امداد اور مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کے باوجود اسلامی اور یورپی ممالک اسرائیل کی ہٹ دھرمی، گریٹر اسرائیل منصوبے اور فلسطین ریاست کے خاتمہ کو قبول کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب اور دیگر ممالک نے اس مسئلہ پر ٹرمپ پر واضح کر دیا کہ انہیں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی چودھراہٹ قبول نہیں، پاکستان نے 10 مئی کی جنگ جیت کر پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ عرب ممالک کی توجہ واحد اسلامی سپر پاور پاکستان پر مرکوز ہو گئی۔ انہیں احساس ہو گیا کہ دولت کی فراوانی ریل پیل انہیں اسرائیل اور امریکا کے میزائلوں اور بموں سے نہیں بچا سکتی۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بعد انہوں نے بھی پاکستانی ایٹمی چھتری کے نیچے پناہ لینے کے ارادوں کا اظہار کیا۔ اسرائیل کے ایران پر حملوں نے اسلامی ممالک کے اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے چین، روس، ترکیہ، ایران، آذر
بائیجان سمیت پورے مشرق وسطیٰ کو اتحاد کا پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اس اتحاد سے جہاں اسرائیل اور بھارت کے سینوں پر آگ بھڑکی، وہاں صدر ٹرمپ بھی دباؤ کا شکار ہوئے۔ برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا سمیت یورپی ممالک کے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات نے بھی ٹرمپ کو اسرائیل کی سرپرستی سے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے اسلامی عرب بلاک کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انہوں نے امریکا سے خطہ کے امن کے لیے گارنٹیاں طلب کر لی ہیں۔ ٹرمپ ہمارے خان کی طرح یو ٹرن لینے میں ماہر لیکن تجارتی ذہن کے مالک، پاکستان میں معدنیاتی ذخائر میں اربوں کھربوں کمانے کا لالچ، افغانستان میں دوبارہ تعیناتی تاکہ خطہ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھ سکے۔ ایک خیر خواہ نے وزیر اعظم سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا ’’تو پُر خلوص ہے لیکن زمانہ ہے عیار، خدا کرے کہ تجھے ٹرمپ کی ہوا نہ لگے‘‘ امریکا بدل رہا ہے، دنیا بدل رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ امریکا کے حالیہ دورے کے بعد اتحادی حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے خارجہ پالیسی درست سمت میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے، چین کے صدر شی اور امریکی صدر ٹرمپ سے بیک وقت پیار کی جپھی دوستوں کے لیے باعث اطمینان اور دشمنوں کے لیے حیران کن ہے، دشمن انگاروں پر لوٹ رہے ہیں، انگاروں کی تپش اڈیالہ جیل میں قید مائی ڈیئر خان تک بھی جا پہنچی ہے وہ سخت طیش میں ہیں صحافیوں کو گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں، اسلام آباد کے سینئر صحافی اعجاز احمد کے سوال پر بھڑک اٹھے بکواس نہ کرو جواب ملا آپ بھی بکواس نہ کریں، کیا فائدہ ہوا، جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے۔ ہاتھ روکے جا سکے نہ زبانیں، اپنی ٹوئٹس میں گندی گالیاں دینے والی فلک جاوید جو اسلام آباد فیز 10 کے ایک اپارٹمنٹ میں چھپی سکھ چین سے رہ رہی تھی گرفتار کر لی گئی۔ اللہ کی شان نک دا کوکا پر جلسوں میں ڈانس کرنے والے بے وضو اذانوں پر اتر آئے۔ مشن نور مشن نار بن گیا، تنقید ہوئی تو نام حکم اذاں رکھ دیا، آستینوں میں لات و منات اذانوں سے کیا فائدہ اب مشن فتور، پشاور میں جلسہ سے بھی رہائی نہ ہو پائے گی۔ پنڈی کے ایک جی دار صحافی نے نعرہ لگایا ’’جی اوئے وڈے تھانیدار‘‘ پارٹی کے 80 فیصد لیڈر بڑوں کے تابعدار ایک سیانے نے کہا ’’گیم خان کے ہاتھ سے نکل گئی۔‘‘