بوائے کٹ چٹے سفید بالوں کے ساتھ سلیو لیس کرتے اور پینٹ میں ملبوس اُس خاتون کی عمر میرے اندازے کے مطابق ستر بہتر سال ہو گی۔ فضول قسم کی شوخیوں اور زور زبردستی سے میک اپ میں چھپائے جھریوں زدہ چہرے کے ساتھ سلیو لیس کرتے میں اُن محترمہ کا کندھوں اور بازوؤں کا لٹکتا ہوا گوشت ایک عجیب و غریب تاثر پیدا کر رہا تھا۔ ممکن ہے کچھ مخصوص ذہنیت کے لوگ اسے میری تنگ نظری سے تعبیر کریں مگر سچ یہی ہے کہ نانیوں، دادیوں کی عمر کی وہ خاتون اپنی بزرگی کے برعکس اپنے مضحکہ خیز حلیے اور ’’اوور ایکٹنگ‘‘ کی وجہ سے مجھے پہلی ہی نظر میں کچھ عجیب و غریب لگی تھی۔ ہو سکتا ہے کسی نام نہاد ’’اپرکلاس‘‘ میں اس قسم کے حلیے اور حرکتوں کو ’’سٹیٹس سمبل‘‘ کے طور پر لیا جاتا ہو۔ مگر ہمارے ہاں عام طور پر یہی سوچا اور سمجھا جاتا ہے کہ بزرگوں کی یہ عمر اللہ اللہ کرنے کی ہوتی ہے اور ہم نے اپنے ارد گرد اکثر دیکھا بھی یہی ہے کہ اس عمر کے بابے بابیاں اللہ اللہ کرنے کے ساتھ اکثر اپنے عمر بھر کے تجربے، مشاہدے اور علم کی بنیاد پر نوجوان نسل کو زندگی کی اونچ نیچ سکھا رہے ہوتے ہیں۔ مگر یقین کریں کہ نوجوان بچے بچیوں اور اُن کے والدین کی موجودگی کی پروا کیے بغیر جب اس ’’بابی‘‘ نے بے باکی سے بولنا شروع کیا تو اس نے میرے سمیت وہاں موجود تقریباً سبھی کی ’’توبہ توبہ‘‘ کرا دی۔ ایسی فحش گفتگو شاید اس مخصوص بازار کے مکین بھی نہ کرتے ہوں جن کا نام لوگ گالی کے طور پر لیتے ہیں۔ کسی خاتون کی زبانی اس قسم کی بازاری گفتگو سننے کا میرا یہ پہلا موقع تھا اس لیے مجھ سے یہ بیہودگی برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو رہا تھا۔ مگر ناچاہتے ہوئے بھی مجھے مجبوراً وہاں بیٹھنا پڑا کیونکہ میں اس ایونٹ میں اپنے بیٹے کے ہمراہ شریک تھا اور وہاں اپنے کسی ردعمل سے بدمزگی پیدا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ قارئین چند ماہ پہلے کا یہ افسوسناک واقعہ لاہور کے پوش ایریا میں واقع ایک بہت بڑی نجی یونیورسٹی کا ہے جہاں مختلف یونیورسٹیز کے طلبہ کی تیار کردہ شارٹ موویز کے مقابلے میں شرکت کی غرض سے بچے اور اُن کے والدین بھی موجود تھے۔ وہیں ایک کامیڈی سیشن میں یہ نام نہاد سٹینڈ اپ کامیڈین پرفارم کرنے آئی تھیں۔ سچی بات ہے اُس ’’سٹینڈ اپ گرل‘‘ نے تمام تر شرم و حیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہاں کامیڈی کے نام پر جس قسم کی بے شرم گفتگو کرنا شروع کی اُسے احاطہ تحریر میں لانا تو درکنار کسی شریف انسان کو سنایا بھی نہیں جا سکتا۔ اس ’’سٹینڈ اپ گرل‘‘ کے اس ’’بیان‘‘ کی حدت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس حدت سے گھبرا کر وہاں موجود چند ایک کمزور ایمان والے فوراً اُٹھ کر باہر نکل گئے۔ مگر اس احتجاج پر بجائے اس کے کہ وہ نام نہاد کامیڈین شرمندہ ہوتی اُلٹا اس نے ’’واک آئوٹ‘‘ کرنے والوں کو قدامت پسند کہہ کر اُن کا خوب تمسخر اُڑایا۔ خدا خدا کر کے جیسے ہی اس اذیت ناک سیشن کا اختتام ہوا اور وہ موصوفہ وہاں سے رخصت ہوئیں تو میں نے اپنی سیٹ سے اُٹھ کر وہاں موجود بچوں کو بڑے پیار سے کہا ’’بچو اگر آپ لوگ بُرا محسوس نہ کریں تو میں اس سیشن کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں‘‘۔ بچوں نے کہا ’’جی فرمایئے‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’یہ خاتون کامیڈی کے نام پر ابھی یہاں جو کچھ الٹا سیدھا بول کر گئی ہیں یہ اخلاقی اور تکنیکی دونوں حوالوں سے کسی طرح بھی کامیڈی یا مزاح کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ ملک عزیز کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں آپ جیسے بچوں کو اس قسم کی مادر پدر آزادی اور بے راہروی کی تعلیم و تربیت دے کر گمراہ کرنا کھلم کھلا دین اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ ہماری صفوں میں شامل چند بیوقوف یا کالی بھیڑیں اپنی جہالت یا کسی بیرونی آقا کے ایما پر ہماری نوجوان نسل کو فحاشی، عریانی اور منشیات کا یہ زہر دے کر انہیں اپنے اصل مقصد سے دور کرنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہیں جنہیں شناخت کرنا اور ان سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ آپ سب اس قوم کا اثاثہ اور پاکستان کا مستقبل ہیں اور مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں۔ آپ کو ہر حال میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا ملک پاکستان
ہمارے بڑوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر اپنے لاکھوں پیاروں کی جان اور بے شمار مال و اسباب کی قربانی دے کر اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ ہم اس میں اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے ساتھ شرم و حیا اور غیرت پر مبنی اپنی دینی اور اخلاقی اقدار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ الحمدللہ ہم سب مسلمان اور پاکستانی ہیں ہمارا مذہب، ہماری ثقافت، ہمارے رسم و رواج اور روایات سمیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہمارا رہن سہن دیگر اقوام عالم سے مختلف ہے۔ ہمارے بزرگوں کی یہی سوچ اور فکر تھی جس پر دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی اور جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ آپ سب سے میری گزارش ہے کہ آپ نے کسی کے بہکاوے میں آ کر اپنی دینی اور اخلاقی اقدار و روایات کو ہرگز نہیں بھلانا‘‘۔ سب بچوں نے بڑے تحمل سے میری بات سنی پتا نہیں میری گفتگو کا اُن پر کچھ اثر ہوا یا نہیں لیکن مجھے ایک اطمینان اور یقین ضرور ہے کہ میری اس گفتگو سے وہ اس نکتے پر کچھ نہ کچھ ضرور سوچیں گے۔ البتہ میری بچوں کے والدین اور اُن کے ساتھ ارباب اختیار سے بھی یہ گزارش ہے کہ آپ بھی اپنے بڑے بڑے کاموں سے کچھ وقت نکال کر اس پر سوچیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں گھسے نظریہ پاکستان اور ہماری دینی و اخلاقی اقدار سے متصادم مادر پدر آزاد قسم کے رویوں کے حامل یہ کون لوگ ہیں اور ان کا ایجنڈا کیا ہے۔ یہ لوگ کن قوتوں کے ایما پر پاکستانی معاشرے بالخصوص نوجوان نسل میں آزاد خیالی، فحاشی، نشہ اور بے راہروی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والاہمارا پیارا ملک پاکستان ایک ایسا دیس ہے جس میں مختلف رنگوں نسلوں، زبانوں اور مذہبوں کے لوگ آباد ہیں جن کی صدیوں پرانی اپنی اپنی تہذیب اور شاندار روایات ہیں مگر اس کے باوجود ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ ان سب کی بنیاد ایک دوسرے کیلئے پیار محبت، امن، برداشت، ہمدردی، شرم و حیا اور غیرت جیسی انمول اقدار پر قائم ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس کالم کی اشاعت کے بعد مجھے چند نام نہاد ترقی پسندوں کی اچھی خاصی تنقید اور شاید گالیوں کا بھی سامنا کرنا پڑے مگر مجھے اس کی قطعاً پروا نہیں ہے اس لیے کہ میں اس سے پہلے بھی کئی دفعہ اس مادر پدر آزاد گروہ کے خلاف لکھ کر ان کی تنقید اور گالیاں سن چکا ہوں۔