چپ سائیں چوپال میں اخبار کی ورق گردانی کر رہے تھے، محو مطالعہ تھے کہ چاچا رفیق کی آواز نے سکوت توڑا۔ چاچا رفیق کے ساتھ آج ’’بھولا‘‘ بھی آیا تھا۔ بھولا سیدھا سادھا نوجوان تھا لیکن اس کا دماغ ایک بچہ کی طرح تھا لیکن اس کے سوالات میں بزرگی و دانائی کی جھلک تھی۔ نتھو اور پھتو نے بھولے کو دیکھتے ہی کہا ۔۔ واہ بھی واہ آج تو چوپال میں بھولا بھی آیا ہے۔۔ کیسے ہو بھولے؟۔۔۔ میں بھلا چنگا ہوں ۔۔۔ آپ سارے سنائو کیسے ہو؟۔۔۔ سائیں جی ۔۔۔ سائیں جی آپ بتائیں ٹھیک ہیں ناں؟۔ چپ سائیں نے کہا میں بھلا چنگا ہوں بھولا، بتائو آج کیسے چاچا رفیق کے ساتھ یہاں کا رخ کر لیا۔ بھولا بولا سائیں جی۔۔ میری اماں نے مجھے کچرے کا ایک تھیلا دیا اور کہا کہ جا بھولے اسے پھینک آئو۔ میں گھر سے باہر نکلا تو کچھ دور لکھا ہوا تھا کہ یہاں کچرا پھینکنا منع ہے لیکن وہاں پر کچرے کا ڈھیر تھا۔ میں نے سوچا کہ یہاں پر ہی پھینک دیتے ہیں۔ چاچا رفیق نے آواز لگائی بھولے یہ کچرا یہاں نہیں پھینکنا ۔۔۔ میں نے کہا چاچا جی یہاں نہ پھینکوں تو کہاں پھینکوں۔ یہاں تو پہلے بھی ڈھیر لگا ہوا ہے۔۔ چاچا رفیق بولے بیٹا پاس ہی کچرے کا ڈرم ہے وہاں پھینکو۔۔۔ اس کے بعد بھولا بولا ۔۔۔ جب لکھا ہوا ہے کہ یہاں کوڑا پھینکنا منع ہے! تو لوگ وہاں پر ہی کیوں کچرا پھینک رہے ہیں۔ سائیں جی ہم کون لوگ ہیں؟ ۔۔۔ ہمیں جس کام سے منع کیا جاتا ہے ہم وہی کام کرتے ہیں۔ کون لوگ ہیں ہم؟۔
چپ سائیںتوقف کے بعد بولے۔۔ بھولے بیٹا صفائی نصف ایمان ہے۔ یہ نہ صرف مذہبی تعلیمات کا حصہ ہے بلکہ ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی بھی پہچان ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں صفائی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔ گلیوں، سڑکوں، پارکوں اور بازاروں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا معمول بن چکا ہے۔ چپ سائیں بولے دیوار پر لکھا ہے ’’کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘ لیکن دیوار کے نیچے کوڑے کا ڈھیر پڑا ہے۔ یہ جملہ ایک وارننگ ہے یا ایک طنز؟ یا شاید یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا نوحہ ہے۔ یہ جملہ ہم میں سے ہر شخص نے کہیں نہ کہیں ضرور پڑھا ہے، لیکن شاید ہی کسی نے اس پر عمل کیا ہو۔ اور جو عمل کرتا ہے، وہ اس تحریر کا مخاطب ہی نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی تنبیہ ہے جو ان کے لیے ہے جو تنبیہ سننا ہی نہیں چاہتے۔
صاحبو! ’’کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘ یہ پانچ الفاظ آپ نے بھی ضرور کسی نہ کسی دیوار، پارک، یا بازار کی نکڑ پر لکھے دیکھے ہوں گے۔ بعض جگہوں پر بورڈز کے ساتھ، بعض اوقات دیوار پر پینٹ کر کے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عموماً جہاں یہ جملہ لکھا ہوتا ہے، وہیں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو صفائی کو پسند تو کرتے ہیں، مگر اس کیلئے خود کو ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ ہمیں صرف اپنے گھر کا صحن صاف دکھائی دیتا ہے، لیکن گلی، محلہ، چوک اور سڑک جیسے جیسے ہماری دیوار سے دور ہوتے جاتے ہیں، ویسے ویسے ہماری ذمہ داری بھی ہوا ہو جاتی ہے۔
کوڑا پھینکنا ایک عادت بن چکی ہے، چپس کا ریپر، جوس کا ڈبہ، پان کی پچکاری، یہ سب ہم سڑک کے کنارے پھینک کر آگے بڑھ جاتے ہیں، جیسے کوئی فرض ادا کیا ہو۔ پھر انہی گلیوں سے گزرتے ہوئے ناک پر رومال رکھ کر کہتے ہیں: ’’کیا گندا شہر ہے!‘‘۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ شہر گندہ نہیں، ہم گندے ہیں؟۔ کوڑا صرف کچرے کے ڈبے میں نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے ذہن میں بھی ہوتا ہے۔ سوچ کی صفائی جب تک نہیں آئے گی، سڑک کی صفائی ممکن نہیں۔ چپ سائیں کہتے کہتے خاموش ہو گئے۔ صاحبو! جب تک ہم اس سوچ سے باہر نہیں نکلیں گے کہ ’’صرف میں صاف رہوں، باقی جو مرضی ہو‘‘، تب تک یہ سائن بورڈز، یہ جرمانے، یہ مہمات سب بے اثر رہیں گی۔ جرم ہم کرتے ہیں، سزا وہ بھگتتے ہیں جو کوڑے کے ڈھیر کے پاس سے گزر بھی نہیں سکتے۔
گندگی پھیلانا قانوناً جرم ہے۔ مختلف شہروں میں بلدیاتی ادارے ’’کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘ کی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ خود بھی صفائی کا خیال رکھے اور دوسروں کو بھی ترغیب دے۔ کوڑا ہمیشہ ڈسٹ بن میں ڈالیں، بچوں کو صفائی کی عادت سکھائیں۔ گندگی کرنے والوں کو نرمی سے سمجھائیں۔ بلدیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا شہر، ملک اور ماحول خوبصورت، صحتمند اور ترقی یافتہ ہو، تو ہمیں ’’کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘ کو صرف بورڈ پر لکھا جملہ نہیں، بلکہ اپنے رویے کا حصہ بنانا ہو گا۔ یہ نہ صرف ہماری صحت کی حفاظت ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا کی ضمانت بھی۔ اگر ہم ماحول کو صاف رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خود کو صاف رویے کا حامل بنانا ہو گا۔
دوستو! یہاں سوال یہ ہے کہ کوڑا پھینکنا منع ہے، یہ سوال کس سے کیا جا رہا ہے اور کس کو بتایا جا رہا ہے۔ عوام سے؟ حکومت سے؟ یا شاید صرف ان لوگوں سے جو پہلے سے ہی قانون کے پابند ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جس کے لیے یہ جملہ لکھا جاتا ہے، وہ اسے کبھی پڑھتا ہی نہیں، اور اگر پڑھ بھی لے، تو دل ہی دل میں ہنس کر گزر جاتا ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم صفائی کو صرف خاکروب کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے چاکلیٹ کا ریپر باہر پھینک دیتے ہیں اور پھر فخریہ کہتے ہیں، ’’شہر بہت گندا ہے۔ ذرا سوچئے، کیا ہم اپنے گھر میں کوڑا زمین پر پھینکتے ہیں؟ نہیں! تو پھر گلی، پارک یا سڑک کو کیوں کوڑے دان سمجھتے ہیں؟۔ کیا یہ ملک ہمارا گھر نہیں؟، وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سطروں کو صرف پڑھیں نہیں، عمل کریں۔ ’’کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘ یہ سچ مچ منع ہو، صرف لکھا ہوا نہ ہو۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے، تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف تاریخ کی ایک گندی تصویر سمجھیں گی۔ صفائی صرف دیواروں پر لکھنے کا نہیں، کردار میں لانے کا وقت ہے۔ اگر ہم ماحول کو صاف رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خود کو صاف رویے کا حامل بنانا ہو گا۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!