پاکستان میں حالیہ مہینوں میں جعفر ایکسپریس کا اندوہناک واقعہ سوراب میں نہتے شہریوں ، بچوں اور املاک پر دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دودل اور جنرل بکرم سنگھ کے بیانات کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے ۔جو بھارت کی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ اجیت دودل مودی کا Right Hand اور پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا منصوبہ ساز بھی ہے۔ جبکہ جنرل بکرم سنگھ بھارت کے سابق چیف آف آرمی سٹاف رہے ہیں۔
اجیت دودل پاکستان سے متعلق کہتا ہے کہ ” پاکستان ہمارا دشمن ہے۔ دہشت گردوں کو پہلے سے زیادہ مالی امداد دینا ہو گی، کیونکہ دہشت گرد کرائے کے قاتل ہیں“۔ملاحظہ کریںکہ اجیت دودل بلا امتیاز مذہب و قومیت (فتنہ الہندوستان و بلوچ علیحدگی پسندوں) کو بیک وقت دہشت گرد اور کرائے کے قاتل کہہ رہا ہے ۔ جو خود ساختہ اسلام و پرفریب آزادی کے لبادے میں اپنے ہی مسلمانوں کا خون بہانے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ کہ اسلام کے بدترین دشمن بھی ان سے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں ؟۔ جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ ”پاکستان کی علیحدگی پسند تنظیموں اور تحریکوں خصوصاََ بلوچستان میں تیل چھڑکنے کی ضرورت ہے ۔ اور بلوچستان میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کرنا ہو گا۔تاکہ پاکستانی فوج کی توجہ ان تحریکوں اور ان کے تدارک میںصرف ہو۔ اس طرح پاکستانی فوج کشمیر اور بھارت کی طرف نہیں دیکھے گی۔اس لیے پاکستان وبلوچستان میں خون بہانا ضروری ہو گا۔اور یہی ہماری اسٹریٹجی ہے“۔ بکرم سنگھ نے مزید کہا کہ ”پاکستانی فوج کو کشمیر سے دور رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پاکستان کی عوام کے ساتھ الجھا دیا جائے۔ اس طرح بھارت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ پاکستانی عوام میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پیسے کے عوض اپنی فوج اور ملک کے خلاف سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے“۔
بکرم سنگھ بے شک ہمارا بدترین دشمن ہے لیکن کبھی کبھار شیطان بھی سچی بات کر جاتا ہے ۔ بکرم سنگھ کا بیان ایسے عاقبت نااندیشوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں سے پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈہ کرنا اپنا قومی فریضہ جانا ہوا ہے ۔انہی صفحات پر کئی دفعہ دہرا چکا ہوںکہ اگر دشمنوں کے فتنہ وفساد، منافقانہ نعروں ، دجل وفریب پالیسیوں و میڈیائی ہائبرڈ وار کے شر سے بچنا ہے ۔ تو اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے ۔ پورے خلوص سے دین اسلام ( قرآن وسنت ) پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اجیت دودل اور جنرل بکرم سنگھ کے بیانات کا اگر strategic point of view سے جائزہ لیا جائے ۔ تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دشمن اندر سے شدید خوف زدہ ہے ۔ وہ کشمیر اور بھارت کو بچانے کے لیے پاک فوج کو ہر صورت میں اندرون ملک شورشوں میں مصروف رکھنا چاہتا ہے ۔ جس کے لیے اس نے کئی دہائیوں سے پڑوسیوںکے ساتھ مل کر پاک فوج اور نہتی عوام کے خلاف پراکسیز کو لانچ کیا ہوا ہے ۔کیونکہ دشمن اور اس کے اتحادیوں کو اچھی طرح ادراک ہے کہ بھارت سے کشمیر کی علیحدگی کا مطلب بھارت کے کم از کم دس ٹکڑے ہونا ۔ بھارت کے خوف کو کیش کرنے کا وقت آ گیاہے ۔ کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ افغانستان سے فتنہ الہندوستان اور ایران کے راستے سے کلبھوشن یادیو، چکرویدی کی گرفتاری اور کلبھوشن یادیو کے نائب رضوان یادیو کی حوالگی سے ایرانی حکومت کے انکارسے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت گذشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان اور ایران کو دوسرے اور تیسرے محاذ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
1971 میں پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھارت اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آیا ۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی پاکستان اور اس کی پرامن عوام کے ساتھ دشمنی و تعصب دن بدن بڑھتا گیا۔ 9\11 کے بعد گائے کا پیشاپ پینے والوں نے اس موقع کو غنیمت جانا۔ جس کے ساتھ ہی پاکستان کی معیشت، امن وامان ، اقتصادی راہداریCPEC ، پانی، معدنی وسائل اور چینی شہری ہدف بن چکے تھے ۔ لیکن اس میں شدت 2000 کے بعد آئی۔ جب بھارت نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بیک وقت اپنی تمام پراکسیز ( فتنہ الخوارج ، اسلامک خراساں، سندھو لبریشن آرمی ،بلوچ علیحدگی پسند مسلح جتھوں سمیت فرقہ وارنہ گروپوں کو لانچ کر دیا )۔ دشمنوں اور دوست نما دشمنوں کی طرف سے جاری دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہمارے پالیسی سازوں کو دو تلخ زمینی حقائق کو ہمیشہ پیش نظر رکھناچاہیے۔ ”دہشت گردوں سے بڑے دہشت گرد سہولت کار اوران کے مقامی پشتی بان ہوتے ہیں۔جب تک ان سہولت کاروں اوران کے مقامی پشتی بانوں کو کیفرکردار نہیں پہنچایا جائے گا ۔دہشت گردی کا ناسور ملک کی سلامتی کو کھوکھلا کرتا رہے گا“۔ ” پاکستان کے مدمقابل محض ایک ملک یا ریاست ( بھارت ) ہی نہیں بلکہ اس کے فطری و نظریاتی اتحادی اسرائیل و امریکہ بھی ہیں ۔ جب بھی بھارت کی بات ہو گی، تو اس سے مراد اسرائیل ہے اور جب اسرائیل کی بات ہو گی، تو اس سے مراد امریکہ ہے“ ۔ جسے راقم پاکستان کے خلاف بین الاقوامی دہشت گردی کا نیٹ ورک قرار دیتا ہے ۔ جن کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان کودرجنوں دہشت گرد تنظیموں اور ان کے آقاﺅں کے رچائے گے شیطانی کھیل کا سامنا کرتے ہوئے 5 دہائیاںگزر گئی ہیں ۔لیکن ابھی تک وہ پاک فوج و غیور عوام کے بلند حوصلوں اور قربانیوں کی بدولت شکست نہیں دے سکے ۔ جنرل ساحر شمشاد نے پاکستان کی سلامتی سے متعلق دوٹوک مﺅقف کو دہراتے ہوئے کہا ” اگر یہ دوبارہ دہرایا گیا تو پھر یہ متنازع علاقے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے بھارت تک پھیل جائے گا ۔تب عالمی برادری کے لیے مداخلت کا وقت بہت کم ہو گا “۔