Wed, September 16, 2026

دہشت گردی، دہشت گردی ہے، چاہے پانی روکو یا چھوڑو

دہشت گردی، دہشت گردی ہے، چاہے پانی روکو یا چھوڑو

پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کے کئی طریقے ہیں کبھی پانی روکنے کی دھمکی، کبھی عملی طور پر پاکستان کی طرف پانی کو چھوڑنا، کبھی جعفر ایکسپریس، کبھی سپانسرڈ دھماکے۔ دنیا کا کوئی ملک اگر کسی پڑوسی یا کسی اور ملک کے عوام اور اسکی سرزمین کو نقصان پہنچائے دنیا کے قوانین چاہے جو کچھ کہیں وہ جارحیت میں بھی شمار ہوتے ہیں اگر پانی کو دوسرے ملک کی طرف دھکیلنا جو کہ بھارت غیر اعلانیہ کرتا ہے اگر پہلے سے اطلاع دیکر بھی کرے اور اس سے دوسرے ملک کی املاک، انسانوں اور فصلوںکی تباہی ہو تو اسے ’’آبی دہشت گردی‘‘ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟؟ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون اوردنیا کی حکومتوںکے نظام کے ٹھیکیدار اسے دہشت گردی نہیں کہتے، قدرتی آفات کے آگے ہمارا زور نہیں بد انتظامی اور ڈیم نہ بنانے کی ہماری نا اہلی اپنی جگہ، رہا سوال کہ بین الاقوامی قانون اسے دہشت گردی نہیںکہتا، یہ بین الاقوامی ٹھیکیدار تو کشمیر، غزہ، فلسطین میں بھارت اور اسرائیل کی دہشت گردی کو بھی دہشت گردی نہیں مانتے صرف بیان داغ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ بھارتی کی آبی جارحیت سے آنے والے سیلابی ریلے پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد اب (اللہ نہ کرے) سندھ کا رخ کرینگے۔ پنجاب میں تو مریم نواز اور مرکزی حکومت کے ادارے ہمہ تن گوش تھے دن رات محنت کی، نقصان کو کم سے کم کی کوشش کی، سندھ یا کراچی میں پچھلے دنوں بارشوںکے دوران عوام اور دنیا نے دیکھ لیا کہ کراچی جس کی ہنڈیا تین لوگوں میں تقسیم ہے پی پی پی، ایم کیوایم اور جماعت اسلامی عوام مدد کے منتظر تھے اور وہ لوگ صرف اور صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کے علاوہ کچھ نہیںکر رہے تھے۔ سترہ سال سے زائد سندھ میں حکومت کرنے والی جس کے سربراہ کو صدر پاکستان نے کارکردگی ایوارڈ بھی دیا ہے وہاں اندرون سندھ ہو شہری سندھ وہاں عوام کی پریشانیاں ہی ہیں مگر بھلا ہو ہمارے جاگیردارانہ نظام کا ووٹ شہیدوںکے نام پر لے لیا جاتا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی سندھ میں سپر فلڈ کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 4 سے 5 ستمبر تک گڈو اور سکھر بیراج کی جانب پانی کا بڑا ریلہ پہنچے گا، جہاں یہ کم سے کم 7 اور زیادہ سے زیادہ 11 لاکھ کیوسک تک ہو سکتا ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کی بابت سکھر بیراج کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ سے 9 لاکھ کیوسک تک سپر فلڈ سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی ہے 948 ریلیف کیمپس قائم کر رہے ہیں چلیں اللہ خیر کرے اور انکی یہ بات سیاسی نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ مئی کے واقعات کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عسکری ہیرو کا درجہ پا چکے ہیں انکی کامیابوںکو ہماری وزارت خارجہ نے بہتر انداز میں کیش کرایا۔ فیلڈ مارشل خود بھی ملکوں ملکوںگئے اور داد پائی، پہلے پانی بند کرنے والی بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ نے مؤثر آواز اٹھائی، اسی طرح انہیں پانی چھوڑنے کے حوالے سے بھارتی دہشت گردی کو دنیا میں بتانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت الحمدللہ عالمی اداروں میں ہمارے موقف کی بھارتی دہشت گردی کے حوالے واہ واہ ہے۔ یہ بہتر موقع ہے کہ تمام امور پر مؤثر انداز میں وزارت خارجہ آواز اٹھائے، شائد کشمیرکے مسئلے پر بھی دنیا کو ہمارا موقف سمجھ آ جائے، عالمی طور پر بقول از خود بھارتی میڈیا کے بھارت تنہائی کا شکار ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ اس مایوسی میں اسکا وزیر اعظم غلطیوں پہ غلطیاںکر رہا ہے۔ بھارتی عوام بھی اب نالاں ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں شنگھائی تنظیم اجلاس کے میزبان ملک چین کے علاوہ کانفرنس میں شریک ترکیہ اور آذربائیجان کی مکمل اور پُرجوش اخلاقی و سفارتی حمایت حاصل رہی جبکہ پاکستان کی نسبت بھارت سے زیادہ دیرینہ اور گہرے روابط رکھنے والی عظیم ریاست روس نے بھی پاک بھارت جنگ میں بھارتی موقف کی حمایت نہیں کی، پھر جنگ کے بعد بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے خلاف اپنے موقف کے درست ہونے کا یقین دلانے کیلئے بھارت کی سفارت کاری بھی بُری طرح ناکام رہی۔ ان اسباب کی بنا پر اس اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی آئو بھگت بلاجواز جارحیت کو شکست دینے والے ایک فاتح ملک کے سربراہ کی حیثیت سے ہوتی نظر آ رہی ہے جبکہ وزیر اعظم مودی پر شکست خوردگی کے سائے چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شنگھائی کانفرنس کے دوران جس طرح پروٹوکول توڑ کر روسی رہنما وزیر اعظم شہباز شریف سے مصافحہ کرنے آئے وہ دنیا نے دیکھا اور بھارتی میڈیا ’’بونگیاں‘‘ مارنے لگا۔ اس کے باوجود یہ سمجھنا خوش فہمی ہو گی کہ بھارت کی عالمی اہمیت ختم ہو گئی ہے اور پاکستان کو اقوام عالم میں مستقل بنیادوں پر بلند مقام بنانے کیلئے اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سفارتی سطح کے اس زعم میں ہم اپنا ہدف نہ بھولیں، ہمارا ہدف اپنی معیشت کی درستی ہونا چاہئے دوست ملک چین کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں مرتب کریں مسلسل جدو جہد سے چین نے جس کی تشکیل تقریباً پاکستان کے ساتھ ہی عمل میں آئی تھی۔ معیشت، تعلیم، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی اور صنعت و زراعت سمیت تمام شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے اور اس سمت میں کامیاب پیش رفت کیلئے پاکستانی قوم کو بھی مصور پاکستان علامہ اقبال کے الفاظ میں یقینا گفتار کے نہیں کردار کے غازیوں کی ضرورت ہے۔ اسوقت آبی دہشت گردی کو لے کر ہمیں فوری دنیا سے رجوع کرنا چاہئے، یہ آبی دہشت گردی اور ماحولیاتی دہشت گردی ہے۔ آج تک کی سیلاب کی تباہ کاریوں میں 1000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جو فصلیںتباہ ہوئی ہیں، ہزاروں مویشی جو روزگار کا ذریعہ تھے ہلاک ہو گئے اور مالی نقصان کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہو گا۔ مون سون کی تباہ کاریاں اب ماحولیات تبدیلیوں کے حوالے سے معمول بن گئی ہیں یہ سب 
کچھ آئندہ سال بھی ہو گا اس وقت حکومت پاکستان کو امداد مانگنے کے بجائے ایسے اقدامات پر غور کرنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے جو ان قدرتی آفات سے نپٹنے کے لیے ہماری استعداد کار میں اضافہ کریں۔ مون سون کی بارشیں ہوں یا بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے مستقبل کی پیش بندی کا بندوبست کریں۔ عالمی فورم پر آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اندرونی انفراسٹرکچر اور نظم میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ڈیم بنانے سے کس نے روکا ہے؟؟ یہ ڈیم نہ بننا ہمارے اندرونی خلفشار، الزام تراشیوں، سیاست کا نتیجہ ہے، افسوس ناک حد تک ہر حکومت صرف اپنے دور حکومت کو دیکھتی ہے یعنی اپنی ناک سے نیچے نہیں دیکھتی، پاکستان کو ضرورت ہے پائیدار پالیسیوںکی کہ اگر آج کی حکومت ملک کی فلاح بہبود کیلئے کوئی کام شروع کرتی ہے تو آنے والی حکومت اسے یہ بھول کر وہی پالیسی جاری رکھے، آنے والی کوئی بھی حکومت پچھلی حکومت کی افتتاحی تختیوں کو مٹا کر اپنی تختی لگا دیتی ہے۔

ٹیگز: