Wed, September 16, 2026

سوڈان: آر ایس ایف کا حملہ، 46 بچوں سمیت 116 افراد ہلاک

سوڈان: آر ایس ایف کا حملہ، 46 بچوں سمیت 116 افراد ہلاک

دارفور : سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے جنوبی کردفان کے کالوگی علاقے میں شہری آبادیوں پر حملہ کیا، جس میں 46 بچوں سمیت کم از کم 116 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ بچے ایک پری سکول میں موجود تھے جب آر ایس ایف نے حملہ کیا۔ فوجی ذرائع نے تصدیق کی کہ سکول پر حملہ کرنے کے بعد، آر ایس ایف نے امداد کے لیے آنے والے شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔

کالوگی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ شہر کے ہسپتال اور ایک سرکاری عمارت بھی تباہ ہو گئیں۔ مواصلاتی نظام کی بندش کی وجہ سے ہلاکتوں کی درست تفصیلات جمع کرنا مشکل ہو رہا ہے، اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

یونیسیف کے نمائندے شیلیڈن ییٹ نے اس حملے کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ میں بچوں کو کبھی بھی اس کی قیمت نہیں ادا کرنی چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے فوری طور پر حملے بند کرنے اور انسانی امداد کی آزادانہ رسائی دینے کی اپیل کی۔

سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے ابتدائی طور پر نو ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی، جن میں چار بچے اور دو خواتین شامل تھیں، جب کہ آر ایس ایف اور اس کے اتحادی گروپ SPLM–N (الحلو) نے خودکش ڈرون حملے کیے۔ اس حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

یہ حملہ سوڈان کی جاری خانہ جنگی میں آر ایس ایف کے ہاتھوں شہریوں پر ہونے والے مظالم کی ایک اور مثال ہے۔ جنگ کا تیسرا سال جاری ہے، جس میں سوڈانی فوج اور آر ایس ایف ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور دونوں طرف سے مظالم کی شکایات ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں میں کردفان میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، خاص طور پر دارفور کے شہر الفاشر میں آر ایس ایف کی فتح کے بعد۔ کردفان ایک اسٹریٹجک مقام ہے، جو آر ایس ایف کے زیر قبضہ دارفور اور حکومتی علاقوں کے درمیان ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، کروڑوں بے گھر ہو چکے ہیں اور تقریباً تین کروڑ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹورک نے خبردار کیا ہے کہ کردفان میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کا خطرہ موجود ہے، جیسا کہ دارفور میں ہوا تھا۔ٹورک نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ کردفان میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، خاص طور پر الفاشر میں ہونے والی ہولناک پیشرفت کے بعد۔

ٹیگز: