مخدومی و محترمی پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی تازہ تصنیف ”دُخترِ ملّت بے نظیر شہید۔ فکرو عمل“ گزشتہ دنوں زیرِ مطالعہ رہی۔ پروفیسر صاحب کا عمدہ طرزِ تحریر اور مستند حوالہ جات کے ساتھ تحقیق، اُن کی ہر تصنیف کا خاصہ ہے جو اس کتاب میں بھی حسب روایت موجود ہے۔ مذکورہ کتاب کا انتساب بھی کیا خوب ہے ”روٹی، کپڑا، مکان اور تعلیم سے محروم عوام کے نام“۔ وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ میں بڑے بڑے نام ہیں جنہیں اقتدار تو ملا مگر کسی کی زندگی نے وفا نہ کی اور کوئی عالمی سامراجی عناصر کی سازشوں کا شکار ہوا اور چند ایک عالمی سامراج کے ایجنٹ کے طور پر اقتدار پر قابض رہے۔ جس کے سبب پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات سے آج بھی محروم ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کو جن مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس حوالے سے پروفیسر صاحب نے ایک عمدہ جملہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے لکھا ”اپنے خاندان اور کرب و بلا کے ہر سانحہ پر اُنہیں رہ رہ کر سانحہ کربلا یاد آ جاتا ہے اور یوں وہ اپنے مصائب وآلام کو ایک روحانی تعبیر دیتی چلی آئی ہیں“۔ ان مصائب میں وہ اپنے رفیق ِ حیات جناب آصف علی زرداری کی رفاقت پر وہ ہمیشہ نازاں اور فخرو غرورکا اظہار اپنے اخباری مضامین اور اپنی تصنیف ”دُخترِ مشرق“ میں کرتی رہی ہیں۔
کتاب کے مطالعے ہی سے معلوم ہوا کہ ایک روسی دانشور خاتون محترمہ آنانا سوووروا (Anna Suvorova) نے روسی زبان میں BENAZIR BHUTTO A Multidimensional Portrait تحریر کی، جس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انگریزی زبان میں بھی ترجمہ کر کے شائع کیا گیا۔ روسی دانشور کی اس کتاب میں اسلام میں خواتین کے عملی سیاست میں فعال ہونے پر مذہبی پیشواﺅں کے اعتراض کا جواب اس غیر مسلم خاتون نے اسلامی تاریخ کے حوالوں سے دیا۔ جس میں ملکہ صبا سے لے کر حضرت ِخدیجة الکبری ؓ تک خواتین کے کارِ سرکار اور کاروبار دنیا میں بھرپور کردار پر خوب روشنی ڈالی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ ام المومنین حضرتِِ خدیجة الکبریؓ کی سیرت اور کردار سے سمجھا اور اپنی کتاب Reconciliation: Islam, Democracy and West میں سمجھایا بھی۔
پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے بے نظیر صاحبہ کے علم و دانش پر بھی خوب روشنی ڈالی ہے۔ بے نظیر اصلاح و ترقی نسواں کے لیے کوشاں رہی ہیں۔ جدیدیت اور جمہوریت کی علم بردار اپنی دینی اور قومی شناخت پر نہایت فخر کے ساتھ مغربی اور مشرقی تہذیبوں کے تصادم کی بجائے مفاہمت اور تعاون کی نہ صرف بہترین وکیل رہیں بلکہ عملی طور پر بھی سرگرم رہیں۔ بی بی کی تصنیف Reconciliation: Islam, Democracy and West اس موضوع پر ان کی بے مثال تصنیف ہے۔ جس میں وہ مشرقی اور مغربی تہذیبوں کے مابین تعاون کے ساتھ ساتھ قومی و ملّی زوال کے اسباب سے بھی خوب واقف تھیں۔ انہوں نے طالبان کے جنگ و جدل کو اسلام کے اصولوں سے انحراف قرار دیا۔
اپنے والد سے جہاں سیاسی بصیرت ورثے میں ملی وہاں کتاب بینی کا شوق اور جستجو بھی پائی۔ کتاب میں بی بی کے چچازاد بھائی جناب طارق اسلام کی یادوں سے ایک حوالہ درج ہے ”کھانے کی میز پر بیٹھے اپنی گفتگو کے درمیان بے نظیر نے سیاست کے ساتھ شاعری کی کتابوں کا تذکرہ بھی شروع کر دیا۔ ایسے میں اچانک پوچھا: کیا تم نے روسی شاعرہ اینا خماتوا کو پڑھا ہے؟“ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دنیا کے انقلابی شعراءکے ناموں سے واقف تھیں بلکہ ان کے مجموعہ ہائے کلام پڑھ بھی چُکی تھیں۔ ایک طرف اتنی باشعور اور وسیع المطالعہ قیادت پیپلز پارٹی کا مقدر رہی اور چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک ایسا شخص بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں پہلے وفاقی وزیر پانی و بجلی رہا اور بعد میں وزیر اعظم کے منصب پر بھی فائز ہوا جسے پارٹی کے ابتدائی اور بنیادی ترجمان ہفت روزہ ”نصرت“ سے بھی واقفیت نہیں تھی۔ یہ واقعہ دانشور اور رسالہ نصرت کے ایڈیٹر جناب علی جعفر زیدی صاحب نے اپنی سیاسی خودنوشت ”باہر جنگل اندر آگ“ میں بیان کیا ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد اور بے تعصب ہو کر لکھی گئی تصنیف ہے۔ زیدی صاحب بتاتے ہیںکہ 2007ءمیں جب بے نظیر بھٹو واپس جانے کی تیاری کر رہی تھی تو انہیں ایک محفل میں شرکت کا موقع ملا جس کے مہمان خصوصی مخدوم امین فہیم تھے۔ دوران گفتگو کئی بار ”نصرت“ اور ایڈیٹر ”نصرت“ کا ذکر بھی ہوا۔ امین فہیم صاحب کچھ دیر کے لیے گئے تو ایک صاحب نے اُن سے سوال کیا ”زیدی صاحب آپ نصرت بھٹو صاحبہ کے ایڈیٹر تھے؟“ زیدی صاحب کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا لیکن جب موصوف نے سوال دہرایا تو زیدی صاحب کو انتہائی افسوس ہوا کہ یہ صاحب جو پارٹی کے مرکزی عہدیدار اور ”اہم لیڈر“ کہلاتے ہیں انہیں جہاں یہ معلوم نہیں کہ وہ بیگم نصرت بھٹو نہیں بلکہ ہفت روزہ ”نصرت“ پارٹی کا ترجمان تھے وہاں انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایڈیٹر کسی شخص کا نہیں اخبار یا رسالے کا ہوا کرتا ہے۔ عقلی زوال کی گہرائی میں رہنے والا اور بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی کی تاریخ سے اس بے بہرہ شخص کا نام راجہ پرویز اشرف تھا۔ کیسی بلندی اور ایسی پستی۔
پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی کتاب میں بے نظیر شہید کے خُطبات و مقالات پر مشتمل دو کتابوں WHITHER PAKISTAN: Dictatorship or Democracy? اور Fatih in people کا بھی مختصر تعارف موجود ہے۔ ان خطبات اور مقالات میں بی بی شہید اپنی سرزمین پر بسنے والوں کے سرداری و جاگیرداری نظاموں سے عوامی جمہوری عہد تک کے ارتقا، آمریت کی نفی اور جمہوریت کے حق میں پُرزور اور مو¿ثر دلائل دیتی ہیں، جو ان کی علمی قابلیت، وسیع مطالعے اور سیاسی بصیرت کی معراج کی عکاسی کرتے ہیں۔
پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی بے نظیر بھٹو شہید پر یہ مختصر مگر جامع کتاب، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور نے شائع کی ہے۔