استنبول :ترکیہ کے ثقافتی و اقتصادی مرکز استنبول میں منعقدہ "یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ 2026" میں پاکستان ایک بڑی تعلیمی قوت بن کر ابھرا ہے۔ سمٹ کے باقاعدہ آغاز پر قائم کردہ ’پاکستان پویلین‘ نے بین الاقوامی مندوبین کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ اس اہم پویلین کا افتتاح استنبول میں متعین پاکستانی قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم اور ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان (APSUP) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کی قیادت میں 42 رکنی پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرینِ تعلیم "تعلیمی سفارت کاری" کا ایک بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ اس وفد میں سپیریئر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اقرا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف فیصل آباد سمیت پاکستان کی 12 سے زائد ممتاز جامعات کے سربراہان شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی (Ranking) کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر مشترکہ تحقیق اور اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگراموں کے لیے بھی راہیں ہموار کرے گا۔
سمٹ کے دوران چیئرمین ایپ سپ نے مختلف ممالک کے وفود سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستانی تعلیمی نظام میں ہونے والی جدید اصلاحات سے آگاہ کیا۔ وفد کے ارکان ترکیہ کی صفِ اول کی جامعات کا دورہ بھی کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں دوطرفہ تعلیمی تعاون کو ٹھوس شکل دی جا سکے۔
قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستانی جامعات کا اس عالمی فورم پر متحد ہو کر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری اعلیٰ تعلیم کا معیار عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار ہے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ یہ شرکت پاکستان کے لیے دور رس نتائج لائے گی۔پاکستان پویلین میں موجود اداروں، جن میں یونیورسٹی آف سیالکوٹ، لاہور لیڈز یونیورسٹی، گفٹ یونیورسٹی، آئی او بی ایم اور دیگر شامل ہیں، نے اپنے اسٹالز کے ذریعے پاکستان کے تعلیمی و تحقیقی کلچر کو بہترین انداز میں اجاگر کیا ہے۔