انسانی تہذیب کی بلندیاں کبھی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتیں کہ اس کی بقا کا انحصار قدرت کے بے شمار وسائل پر ہے۔ ان میں سب سے اہم اور بنیادی عنصر پانی ہے، جو نا صرف زندگی کی بقا کا ضامن ہے بلکہ زمین پر ہر حرکت، ہر نشو و نما اور ہر ارتقا کا سب سے اہم محرک بھی ہے۔ اولادِ آدم نے آسمان پر کمند ڈال دی، چاند کو چھو لیا، مگر زمین کے زخموں کو نظر انداز کر دیا۔ جب فطرت کی آغوش میں بیٹھ کر کبھی انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے تو بار بار ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہم نے اپنے عہدِ زیست میں ان عطیوں کی لاج رکھی جو قدرت نے ہمیں بے دام عطا کیے۔ پانی جو زندگی کی ابتدائی اساس اور موسم جو اس کی گردش کا ضامن ہے، آج انسان کی کوتاہیوں کی بھینٹ چڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند سال میں دنیا جن چیلنجز سے دوچار ہوئی ہے ان میں موسمیاتی تبدیلی اور پانی کا بحران سب سے اہم اور فوری توجہ طلب مسائل میں شامل ہیں۔ قیام ِ پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان کے بے شمار علاقوں میں عوام پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کے بے شمار علاقوں کے انسان جانوروں کے ساتھ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ سورۃ انبیاء میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے۔‘‘ پانی سے پیار ہی زندگی سے پیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی زندگی میں پانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں اس کرہ ارض اور ہمارے اپنے جسم کا ستر فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ ماضی قریب میں صنعتی ترقی اور شہری وسعت نے جہاں انسان کو سہولیات سے آراستہ کیا وہیں اس نے قدرتی نظامِ حیات کو جس طرح سے الٹ پلٹ کیا اس کے اثرات اب ناقابلِ انکار صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ موسم کی ترتیب تبدیل ہو چکی ہے، برسات بے وقت اور بے مہار ہو چکی ہے، گرمی کا جبر ناقابلِ برداشت حد کو چھو رہا ہے اور سردی کبھی غیر حاضر اور کبھی بے مہاری کی صورت نظر آتی ہے۔ پانی جو زمین کی جان ہے آج ناپیدگی کی دہلیز پرکھڑا ہے۔ ہماری ندیاں سسک رہی ہیں، دریا دم توڑ رہے ہیں، زیرِ زمین آبی ذخائر رفتہ رفتہ خشک ہو رہے ہیں۔ پاکستان جو ایک زمانے میں پانی کی فراوانی والے ممالک میں شمار ہوتا تھا آج موسمیاتی انقلاب سے شدید متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ یہاں کے دریا سوکھ رہے ہیں، زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے اور آبی ذخائر کے انتظام میں سنگین سقم ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پانی زندگی ہے اور سایہ زندگی کی بقا ہے۔ اس جملے میں اس قدر گہرائی ہے کہ شاید ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ پانی وہ قدرتی مادہ ہے جو ٹھوس مائع گیس یعنی بخارات کی شکل میں ہر جاندار کے جسم میں پایا جاتا ہے جو خون کو گاڑھا ہونے سے بچانے اور خون کے نظام کو بحال اور روانہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کے پاس پانی کے بڑے بڑے ذخائر اور وسائل موجود ہیں اگر انہیں بروقت بروئے کار لایا جاتا تو پاکستان دنیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا تھا لیکن افسوس کہ حکمران طبقے کی لوٹ مار اور خودغرضی کے باعث وطنِ عزیز کے یہ ذخائر گویا اپنے خاتمے کی طرف جا رہے ہیں۔ پانی کا یہ مسئلہ نیا نہیں ہے لیکن آہستہ آہستہ سنگین نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہم دنیا کے ان 36 ممالک میں شامل ہیں جو پانی کے سنگین بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ دنیا میں پانی کے بحران کا شکار ممالک میں پاکستان آج تیسرے نمبر پر ہے۔ پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید ہوتا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث تمام جانداروں کی بقا خطرے میں ہے۔ پا کستان بارش، برف اور گلیشیر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے کیونکہ ملک کا 92 فیصد حصہ نیم بنجر ہے۔ پانی نعمتِ الٰہی ہے اور بارش رحمتِ الٰہی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا پاک کرنے والا تاکہ ہم اس سے زندہ کریں مردہ شہر کو اور اسے پلائیں اپنے بنائے ہوئے بہت سے چوپائے اور آدمیوں کو اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے ہیں تا کہ وہ دھیان کریں مگر بہت سے لوگوں نے نا مانا اور ناشکری کی۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی قومی آمدنی کا سب سے کم حصہ عوام کو صاف پانی فراہم کرنے اور نکاسی آب کا نظام بہتر کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں صاف پانی اور نکاسی آب نہ ہونے سے پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے ہمارے ملک میں ہر سال 52 ہزار بچے ہیضہ اور 842000 ہزار لوگ پیٹ کی دیگر بیماریوں کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ زمین پر زندگی کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ ضرورتِ وقت ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔ بارش کے پانی کو مختلف طریقوں سے محفوظ کر کے استعمال میں لایا جائے۔ اس بات کے ادراک کی اشد ضرورت ہے کہ یہ مسئلہ فرد یا حکومت کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ پانی کا انتظام، قدرتی وسائل کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مضبوط اتفاقِ رائے اورعملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ انسان اور زمین کا رشتہ عارضی نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہرا اور ہم آہنگ تعلق ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ موقع کی نزاکت اور سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کو احتیاط سے استعمال کرنے کی عادت اپنا کر کچھ بہتری لا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے چند سال میں پانی کی قلت کے باعث صنعت و زراعت سمیت متعدد شعبے تباہ ہو جائیں گے جس کے باعث ملک میں قحط کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔