Wed, September 16, 2026

پانی کی سیاست، خطے کا مستقبل اور پاکستان کی آواز

پانی کی سیاست، خطے کا مستقبل اور پاکستان کی آواز

پاکستان، جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ خطے کے امن و امان ، ترقی و خوشحالی اور استحکام کیلئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ دفاعی حکمت عملی ہو یا خطے میں پائیدار سرمایہ کاری سے سفارتکاری تک کا سفر، پاکستان نے اپنی شناخت کو معتبر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اقوام عالم دفاعی، سفارتی اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں پاکستان کا رخ کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ تاہم پاکستان کسی بھی ممکنہ اندیشے کے پیش نظر عالمی برادری کو خبردار کرنا مناسب سمجھتا آیا ہے۔
حال ہی میں برسلز میں انڈو پیسفک منسٹریل فورم کے دوران پاکستان نے جس جرأت مندانہ اور مدلل انداز میں سندھ طاس معاہدے (IWT) کی یکطرفہ بھارتی معطلی پر عالمی برادری کو متوجہ کیا، وہ صرف سفارتی ضرورت نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کی بقا کا تقاضا بھی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا خطاب محض ایک انتباہ نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کے ایک ایسے مستقل بحران کی نشاندہی تھی جو اگر آج نہ سمجھا گیا تو کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ محض ایک قانونی دستاویز نہیں ہے ،یہ دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی سمجھوتوں میں سے ایک ہے، جو سرد جنگ کے شدید تناؤ، 1965 اور 1971 کی جنگوں اور نئے سیاسی تنازعات کے باوجود قائم رہا۔ اس معاہدے نے چھ دہائیوں تک نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کو شفاف رکھا بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کو منظم، مطمئن اور محفوظ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ایسے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سفارتی ڈھانچے اور کثیرالجہتی اعتماد کو ہلا دینے والا عمل ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان نہ صرف اس معاہدے کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا جیسے حساس، آبادی سے بھرپور اور موسمیاتی تبدیلی کے شکار خطے میں پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ دریاؤں کو دباؤ کا ذریعہ بنانا پورے بیسن میں زرعی نظام، فصلوں کی بقا، معاشی استحکام اور انسانی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گا۔ اس ہائیڈرو پولیٹکس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے، یہ لاکھوں خاندانوں کی ہجرت، خوراک کے بحران اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی طرف سے اٹھایا گیا بنیادی نکتہ نہایت واضح ہے کہ پانی کو سیاست کا ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔ ملک کئی دہائیوں سے معاہدے کے ہر طریقہ کار مثلاً مذاکرات، ثالثی، تکنیکی جائزے اور ورلڈ بینک کی نگرانی پر عمل کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مؤقف کو دنیا میں اخلاقی برتری حاصل ہے۔ یہ وہ اصولی پالیسی ہے جو بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ ہے اور اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ مشترکہ وسائل کو انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔برسلز میں پاکستان کی پوزیشن اس سے بھی زیادہ اہم اس لیے ہے کہ دنیا تیزی سے پانی کے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے خطے میں بارشوں کے پیٹرن کو بدل دیا ہے، گلیشیئر اپنی رفتار سے پگھل رہے ہیں، اور آبادی میں اضافہ پانی کی مانگ کو کئی گنا بڑھا چکا ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدے جیسے تصفیہ شدہ ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی انصاف اور پائیدار ترقی کے اصولوں سے براہِ راست متصادم ہے۔لہٰذا پاکستان کی طرف سے اٹھایا گیا یہ مؤقف بھی بھرپور اہمیت رکھتا ہے کہ بھارت کا یہ قدم پچھلی کئی مثالوں کی توسیع ہے جن میں وہ معاہدات اور وعدوں کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایسے اقدامات اس کے علاقائی ذمہ داری کے دعوؤں کو کمزور کرتے ہیں اور اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری اور تیسرے فریق کی مؤثر ثالثی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان نے نہ صرف مسئلہ اٹھایا بلکہ حل بھی تجویز کیاکہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو محض دو ممالک کا باہمی تنازع نہ سمجھے بلکہ پوری وادی سندھ کے مستقبل، بیسن کی ماحولیاتی سلامتی اور خطے کی انسانی بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھے۔ پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ مذاکراتی ڈھانچہ بحال کیا جائے، ورلڈ بینک کی نگرانی کو دوبارہ فعال کیا جائے، اور پانی کی تقسیم کو تکنیکی بنیادوں پر، نہ کہ سیاسی تناؤ کے ذریعے، آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان اپنی داخلی سطح پر بھی پانی کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ ڈیموں کی تعمیر، آبپاشی کے نظام کی اصلاح، ذخیرہ بڑھانے کے منصوبے اور زرعی جدید کاری جیسے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان صرف شکایت نہیں کر رہا بلکہ علاقائی پائیداری اور قومی خود انحصاری کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔برسلز میں پاکستان نے دنیا کو یہ بھی بتایا کہ مشترکہ پانی کے وسائل کی حفاظت صرف ایک ملک کی ذمہ داری نہیں، بلکہ انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔ عالمی نظام کے لیے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ ایسے معاہدوں کی پاسداری کیسے یقینی بناتا ہے جو کروڑوں انسانوں کی زندگی سے جڑے ہیں۔
بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پانی کسی ملک کے سیاسی بیانیے یا دباؤ کی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتا۔ پانی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور ایسے حقوق کی حفاظت قومی وقار، اخلاقی اصولوں اور قانونی ذمہ داریوں کا لازمی حصہ ہے۔پاکستان نے بروقت، مضبوط اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام، انصاف اور پائیدار امن کا علمبردار ہے۔ برسلز کی آواز دنیا تک ضرور پہنچے گی اور اگر دنیا نے اس وارننگ کو سنجیدگی سے لیا تو خطے کے پانی، امن اور مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ پانی کے تنازعات جب جنگوں میں بدلتے ہیں تو اُن کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کی یہی کوشش ہے کہ ہم اس قیمت سے بچ جائیں اور دنیا کو بھی بچا لیں۔

ٹیگز: