اقوام متحدہ کے اجلاس میں مسلم اور بعض غیر مسلم ممالک کے سربراہان کی طرف سے مسئلہ فلسطین اور غزہ میں ہونے والے مظالم پر موثر انداز میں آواز بلند کی گئی۔ سائیڈ لائن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ آٹھ مسلمان سربراہان مملکت کی ملاقاتوں کے دوران ’’امن منصوبہ‘‘ سامنے آیا جس کے بعد امید ہو چکی تھی کہ اب ایک دیرینہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کی خوب تعریف ہوئی جس سے پاکستان میں یہ تاثر ابھرا کہ ہماری قیادت مسئلہ فلسطین کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مقدمہ جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا بھی بڑھ چڑھ کر اس کامیابی کا جشن منا رہا تھا کہ اچانک امن منصوبے کا وہ ڈرافٹ سامنے آگیا جس میں سب کچھ تھا مگر فلسطین نہ تھا بلکہ اہتمام نظر آیا کہ فلسطینیوں سے سب کچھ چھین کر اسرائیل کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس ڈرافٹ کے منظر عام پر آتے ہی کھلبلی مچ گئی۔ پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم قومی اسمبلی تشریف لائے اور انہوں نے حیران کن انکشاف کیا کہ امن منصوبے کا ڈرافٹ تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی صدر ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ آٹھ مسلمان سربراہان مملکت کو یہی ڈرافٹ پیش کیا گیا اور سب نے اسی پر دستخط کئے۔ ڈپٹی وزیراعظم نے معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر پاکستان کا وہی موقف ہے جو بانی پاکستان حضرت قائداعظم کا تھا۔ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے، نہ ہی ہم نے اس حوالے سے اسرائیل سے کوئی بات چیت کی ہے۔ ہم صرف امریکہ کے ساتھ رابطے اور مذاکرات میں تھے۔ بات یہاں تک تو ایسے ہی ہے جیسے بیان کی گئی ہے۔ امریکہ، اسرائیل کے نمائندے کی حیثیت سے جبکہ مسلمان ممالک فلسطین کی طرف سے مسئلے کے حل کیلئے سرگرم نظر آئے۔ معاملہ جس طرح کھلا ہے وہ ظاہر کرتا ہے فریقین میں سے ایک جھوٹا مکار اور دغاباز ہے۔ جھوٹے کے گھر تک پہنچنا مشکل نہیں نقش پا دیکھتے جائیے اور جھوٹے کے گھر تک پہنچ جایئے لیکن ذرا کچھ دیر کیلئے رکیے۔ امن منصوبہ منظر عام پر آنے سے قبل ہی اس کی تعریف و توصیف میں کئے گئے متعدد شخصیات کے ٹویٹ بھی ایک کہانی بیان کر رہے ہیں جبکہ تین مسلمان ملکوں کے انٹیلی جنس چیف، حماس قیادت کے پاس پہنچ کر انہیں اس منصوبے کو تسلیم کرنے کیلئے منانے ڈرانے اور دھمکانے میں لگے تھے۔ وہ اسے حماس اور فلسطین کیلئے ایک آخر موقع قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کے اس بیان سے خوفزدہ کر رہے تھے جس میں اس نے چار روز کا وقت دینے اور امن معاہدہ تسلیم نہ کرنے پر اسرائیل کو کھلی چھٹی دینے کا اعلان کر دیا تھا۔
یہاں یہ بھی سوال سامنے آتا ہے کہ مسلمان ممالک کے انٹیلی جنس چیف کون سے ڈرافٹ کے ساتھ کھڑے تھے یقینا امریکی ڈرافٹ کے ساتھ جو دراصل اسرائیل ڈرافٹ تھا کیونکہ پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم واضح کر چکے کہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر اس ڈرافٹ سے لاتعلقی کے اظہار کی نوبت ہی نہ آتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امن منصوبے کیلئے ’’پیکٹ‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ ان کے مطابق آٹھ مسلمان سربراہان مملکت کے ساتھ بات چیت مکمل ہوئی اس پر دستخط ہوئے پھر اسرائیلی وزیراعظم کو یہ ڈرافٹ دکھایا گیا جس نے امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اپنی قوم سے عبرانی زبان میں خطاب کرتے ہوئے اس امن منصوبے کے پرخچے اڑا دیئے اور واضح کیا کہ وہ کسی امریکی امن منصوبے کو نہیں مانتے۔ وہ غزہ سے فلسطینیوں کا مکمل انخلا اور فقط اسرائیل کا قیام چاہتے ہیں۔ وہ فلسطین نامی کسی مسلمان مملکت کو تسلیم نہیں کرتے۔ نیتن یاہو کے اس خطاب کے بعد امن منصوبہ ہوا میں اڑ گیا تھا، کوئی مسلمان ملک اس کا پابند نہ رہا تھا۔ ننانوے کے عدد پر پہنچتے ہی لڈو کا سانپ امن معاہدہ نگل گیا۔ جوا کھیلنے اور کھلانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ یہ کام انتہائی دیانتداری سے کرتے ہیں۔ شاید کسی زمانے میں ایسا ہی ہو لیکن مشاہدے میں آیا جوئے کی میز پر بیٹھ کر دیانتداری سے یہ کھیل کھیلنے والوں میں ایک ایسا شخص بھی موجود ہوتا ہے جو ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہوئے تاش کے پتے تبدیل کر دیتا ہے یوں بازی الٹ جاتی ہے۔
فلسطین کے حوالے سے امن معاہدے میں بھی ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمان سربراہان مملکت کا دستخط شدہ معاہدہ بھی منظرعام پر لے آنا چاہئے جس پر ان کا اصرار ہے کہ اسے تبدیل نہیں کیا گیا اور سب اس پر دستخط کر کے اٹھے ہیں۔
دنیا بھر میں متنازع امور پر معاہدے ایک ہی انداز میں ہوئے ہیں پہلے فریقین اپنا اپنا ڈرافٹ پیش کرتے ہیں پھر دونوں مسودات میں سے کچھ جمع تفریق کے بعد ایک فائنل ڈرافٹ تیار ہوتا ہے جس کے ایک ایک لفظ ایک ایک شق پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد اسے حتمی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدے عام کاغذ پر ’’نوٹری پبلک‘‘ کے سامنے تحریر نہیں کئے جاتے، نہ ہی ان پر فریقین اپنے ہاتھ پائوں کے انگوٹھے لگاتے ہیں۔ ایسے معاہدوں کیلئے خاص قسم کا کاغذ استعمال ہوتا ہے جس پر جو لکھ دیا جائے اسے کاٹنے پیٹنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ فریقین اس پر دستخط کرتے ہیں۔ فریقین کو اس کی ایک ایک کاپی فراہم کی جاتی ہے، اس کی ویڈیو بنتی ہے۔دستخط کرنے سے قبل اسے متعدد مرتبہ پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ فریقین اپنے ہاتھوں میں موجود کاپی سے اس کا موازنہ کرتے ہیں اور پھر اس پر دستخط ہو جاتے ہیں۔ امن مذاکرات میں شامل تمام سربراہان تجربہ کار تھے ، سب کی نظر اور سماعت درست تھی، تمام گفتگو انگریزی میں ہوئی۔ ڈرافٹ بھی انگریزی میں تیار ہوا اگر کسی کی انگریزی کچھ کمزور بھی تھی تو وہاں انگریزی پر عبور رکھنے والا معاون سٹاف و وزراء موجود تھے، کسی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ میرے وطن کی فوجی اور سول قیادت محب وطن باہوش اور جذبہ شوق شہادت سے سرشار ہے۔ پاکستان اور امت مسلمہ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ دفاع پاکستان کے حوالے سے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ افسوس یہ ہے کہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ہاتھ آگے بڑھایا لیکن ہاتھ کی صفائی دکھانے والوں نے امن ڈرافٹ تبدیل کر دیا۔ پاکستان کو اور تمام اسلامی ممالک کو چاہئے کہ امن معاہدہ ڈرافٹ دنیا کے سامنے لانے کا مطالبہ کریں جس پر انہوں نے دستخط کئے ہیں۔ امریکہ نہیں مانتا تو عالمی عدالت انصاف میں دہائی دیں۔ مکار امریکی قیادت کا کردار عراق، کویت، لیبیا، سوڈان، افغانستان، فلسطین اور پاکستان کے ساتھ ماضی میں کئے گئے سلوک کے آئینے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی بھی جھوٹے کو خوب پہچانتے ہیں۔ آج ایک مرتبہ پھر اس کے دروازے پر پہنچ چکے ہیں۔ بس ہمت کر کے دروازہ کھٹکھٹائیں اور آواز دیں، اوئے جھوٹے باہر نکل اور امن معاہدہ دکھا جس پر ہم نے دستخط کئے ہیں۔