Wed, September 16, 2026

امریکہ کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

امریکہ کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکہ نے ایک اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق، یہ میزائل کیلیفورنیا کے وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے فائر کیا گیا اور تقریباً 4,200 میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مارشل جزائر میں موجود رونالڈ ریگن بیلسٹک میزائل ڈیفنس ٹیسٹ سائٹ پر کامیابی سے ہدف پر جا لگا۔

یہ تجربہ GT 254 سیریز کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی نظام کی کارکردگی اور درستگی کا جائزہ لینا تھا۔ اس میزائل میں کوئی جوہری مواد نہیں تھا، لیکن اس میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے ایک ری انٹری وہیکل نصب کیا گیا تھا۔

یہ تجربہ اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا جب صدر ٹرمپ نے فوج کو تین دہائیوں بعد جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو اپنی دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے فوری طور پر جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے ہوں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، Minuteman III میزائل امریکہ کے جوہری دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب امریکہ پر کسی دشمن ملک کی جانب سے جوہری حملہ کیا جائے۔

دوسری طرف، روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جوہری تجربات دوبارہ شروع کیے تو روس بھی ایسا ہی کرے گا۔ پیوتن نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: