Wed, September 16, 2026

اسرائیل کو جنگ سے بھاگنا ہو گا

اسرائیل کو جنگ سے بھاگنا ہو گا

وطن سے محبت انسان کے لہو میں دوڑتی ہے اورجنم بھومی سے تو انسان کبھی خود کو جدا نہیں کرسکتا خواہ اُس کی کتنی ہی تلخ یادیں اپنے بچپن سے جڑی ہوں ۔ انسان کی حب الوطنی اُس کے اعمال اور افکار سے جھلکتی ہے کہ وہ اپنے وطن کے بارے میں کیا خیالات رکھتا ہے اور اُس کے رہن سہن میں وطنیت کی جھلک کس قدر ہے ۔راجہ ناصر عباس نے سینٹ میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کی نوبل پرائز کیلئے پاکستانی سیاستدانوں کی طرف سے نامزدگی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کوبدترین قاتل قرار دیا ۔یقینا اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے گٹھ جوڑ نے جتنے انسانوں کو قتل کیا ہے وہ جدید دنیا کے بدترین قاتلوں میں ہی شمار ہو ں گے ۔ پاکستانیوں کی اکثریت کا یہی نقطہ نظر ہے اور یہی ہونا بھی چاہیے کہ غزہ اور ایران میں ہونے والے سانحات نے تو امریکی عوام سے بھی ہمدردی ختم کردی ہے جبکہ اسرائیل سے تو مسلمانوں کیلئے کوئی نرم گوشہ رکھنا ہی حماقت ہو گی ۔ سوچ یہ رہا ہوں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو تو یقینا ویسے ہی ہیں جیسے راجہ ناصر عباس نے ذکر کیا ہے لیکن اُنہوں نے اپنی گفتگو میں تحریک طالبان اور افغان طالبان کو شامل نہیں کیا جن کے خلاف پاکستان کھلا آپریشن کر رہا ہے اور جنہوں نے ایک لاکھ کے نزدیک پاکستانی شہید اور لاکھوں زخمی کیے ہیں جن میں ہمارے فوجی افسران اورجوانوں کے علاوہ رینجر اور پولیس کے جوان بھی شامل ہیں ۔راجہ ناصر عباس نے صرف سینٹ کی ایک سیٹ لے کر عمران نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ تحریک طالبان اور اُن کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں ایک جملہ بھی نہیں ہے ۔کیا طالبان قاتل نہیں ہیں؟ کیا انہوں نے پاکستان کی مساجد ٗ امام بارگاہ ٗگرجا گھر اور سرکاری عمارتوں پر خود کش حملے نہیں کیے ؟ آج جب افواج پاکستان انہیں آڑے ہاتھوں لے رہی ہے اور وہ بھاگ کر بامیان سے بھی آگے نکل گئے ہیں تو کیا راجہ ناصر عباس نے تحریک طالبان اوراُن کے حواریوں کے حوالے سے جاری آپریشن کے بارے میں ایک جملہ بھی کہا ؟ سینٹ میں اُن کی تقریر سن کر محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ایران کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بول رہے ہیں ۔پاکستان اور طالبان تو شاید اُن کا موضوع ہی نہیں تھے البتہ محترمہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ’’ اگر آپ افغانستان کو چھیڑیں گے تووہ کیوں آپ کو جواب نہیں دے گا؟ بمباری پاکستان نے پہلے شروع کی ٗ وہ بیچارا ملک تو پچاس سال سے حالت ِ جنگ میں ہے۔‘‘ یہی حقیقی بیانیہ ہے پی ٹی آئی کا اور علیمہ خان کے علاوہ عمران نیازی کا کوئی ترجمان نہیں کیونکہ باقی سب کو تو وہ غدار ڈکلیئر کرچکی ہیں اور عمران نیازی کی طرف سے اس کی تردید بھی نہیں آئی  ۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کیلئے جب بڑے عمامے اور جبے اپنے بنیادی بیانیوں سے منحرف ہو جائیں تو یہاں سے ذلت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے باقی سب بعد کی باتیں ہیں ۔ ایران اور ایرانی مجھے جان کی طرح عزیز ہیں لیکن پاکستان مجھے جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اورجو حالت ِ جنگ میں پاکستان کی جنگ کو بھول کر اپنے مسلکی ساتھیوں کی جنگ کو اہمیت دے کیونکہ پاکستان پر حملہ کرنے والے طالبان اُسی عمران نیازی کے ساتھی ہیں جس نے 9مئی کو افواجِ پاکستان کے ادارے پر حملہ کیا تھا ۔ایران برادر اسلامی ملک ہے لیکن پاکستان کی دیوار افواج پاکستان ہے اُسے ریت کی کسی دیوار کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پاکستان کی طرف منہ کرنے والوں کی نسلیں اگر بچ گئیں تو آنے والی نسلوں کو بھی سمجھا جائیں گی کہ پاکستان ہمیشہ رہنے کیلئے بنا ہے ۔ اُس کے خلاف سازش یا پراکسی بنانا بدترین غلطی ہوتی ہے ۔ پاکستانی قوم کو اللہ کی ذات اور اپنی افواج پرمکمل بھروسہ ہے ۔ ہمارے ساتھ جنگ کرنے کا سوچنے والوں کوزندہ رہنے کیلئے دن یا ہفتے نہیں گھنٹے یا منٹ ہی میسر آئیں گے ۔
ٹرمپ اپنے پاگل پن میں حماقت کر بیٹھا ہے اب یہ جنگ یا تو طویل ہو جائے گی یا پھر امریکی ہزیمت پر ختم ہو گی یہی اس کا منطقی انجام ہے ۔ گو کہ ٹرمپ نے اس جنگ کو اپنے کھاتے میں ڈال کر اسرائیل کو بچانے کی کوشش کی ہی لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایران جنگ میں اسرائیل ہی امریکہ کو گھسیٹ کر لے آیا ہے اور اب اُس کی حالت اُس بزرگ جیسی ہو چکی ہے جو کسی بدتمیز بچے کو بزرگی کے رعب میں تھپڑ لگا دے اور بچہ گالیاں بکنا شروع ہو جائے ۔ جس کے بعد بزرگ ادھراُدھر دیکھنا شروع کردیتا ہے کہ کوئی آئے اور اس نا ہنجار کو لے جائے لیکن ابھی تک تو کوئی آگے نہیں بڑھ رہا لیکن شنید ہے کہ اسرائیل نے روس سے جنگ بندی کیلئے رابطہ کیا ہے لیکن علی خامنہ ای کی شہادت نے امریکی سفارت خانوں اور اُس کے شہریوں کو دنیا بھر میں غیر محفوظ کردیا ہے ۔اسرائیلی میڈیا ایرانی حملوں کے پیچھے پاکستانی ہاتھ کی نشاندہی کررہا ہے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستانی جوانوں کا ہاتھ جس دن اس جنگ کے پیچھے آ گیا یہ 1973ء کی جنگ میں ہونے والی ٹھکائی بھی بھول جائیں گے ۔
جنگ مسلط کی گئی ہے تو لڑنا پڑے گی لیکن مہا سامراج اور مہاسرمایہ داری کیلئے یہ جنگ منافع بخش ہی ہو گی لیکن ترقی پذیر ممالک میں جنگوں کا بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ جنگوں میں میزائیل یا جہاز نہیں گرتے انسانوں کی بڑی تعداد خطِ افلاس سے بہت نیچے گر جاتی ہے ۔ عوام پر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں ٗ ضروریات زندگی قوت ِ خرید سے باہر ہو جاتی ہیٗ ادویات کی عدم دستیابی ہزاروں لاکھوں زندگیوں سے کھیل جاتی ہے لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگوںمیں سب سے زیادہ نقصان مزدور اور کسان کا ہوتا ہے جو دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں ہیں ۔ سامراج کی آخری شکل سرمایہ داری کی ہوتی ہے جہاں وہ منڈیوں اور کمزور قوموں کے وسائل پر قبضہ اور نئی تقسیم چاہتا ہے جس کی زند ہ مثال وینز ویلا ہمارے سامنے ہے لیکن پاکستان کے وسائل تک پہنچنے کیلئے اُسے صراط کے جتنے پل عبور کرنا ہوں گے اُس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ امریکہ یقینا اپنی عالمی سامراجی بالادستی کے بحران کا شکار ہے اور اسرائیل اُس کی وہ ماسٹر پراکسی ہے جو کسی کے خلاف بھی جنگ میں استعما ل ہو سکتی ہے ۔ ڈوبتے ہوئے اس عالمی سامراجی سورج سے روشنی مستعار لینے کیلئے مسٹر مودی بھی اسرائیل سے ہو آئے ہیں جہاں انہوں نے بھارت کو دھرتی ماں اور اسرائیل کو باپ ڈکلیئر کیا ہے جبکہ ہندوستانیوں کو یہ باپ قابل ِ قبول نہیں ۔ انسان خطرے میں ہے سو اسرائیل کو یا تو بھاگنا ہو گا یا پھر زمین انسان کو ترس جائے گی۔

ٹیگز: