غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے لیے نئے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ حماس ایک سنجیدہ اور مستقل جنگ بندی معاہدے کے لیے بات چیت پر تیار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز کو مکمل طور پر رد نہیں کیا بلکہ ان میں چند نکات پر نظرثانی اور تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ خلیل الحیا کا کہنا تھا کہ حماس اب بھی ثالثی کرنے والے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں اسرائیل نے امریکہ کی تجویز کردہ جنگ بندی پلان کو قبول کر لیا تھا، لیکن حماس نے اس پر حتمی منظوری نہیں دی تھی۔
ادھر لبنان کے دارالحکومت بیروت کے نواحی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے ہیں، تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
غزہ میں صورتحال بدستور خطرناک ہے۔ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پناہ گزین کیمپوں اور الالہی ہسپتال پر شدید بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں مزید 52 فلسطینی شہید ہو گئے۔ یوں اب تک اس جنگ میں شہدا کی مجموعی تعداد 54,677 تک پہنچ چکی ہے۔