Wed, September 16, 2026

سفارتی جنگ اور اسرائیل کے خلاف تیاری

سفارتی جنگ اور اسرائیل کے خلاف تیاری

آج سب سے پہلے بات ہو گی پاک بھارت سفارتی جنگ کے بارے میں جو اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس وقت ہندوتوا کی نفرت انگیز پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایسے میں اگر دشمن کمینہ، دھوکے باز اور کم ظرف بھی ہو تو اس سے چوکنا رہنا اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے سفارتی محاذ سمیت ہر محاذ پر پاکستان سے نہ صرف شکست کھائی ہے بلکہ دنیا بھر میں اسے ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کا موقف دنیا بھر میں قبول کیا گیا جبکہ مودی سرکار اس وقت بھی اپنے زخم چاٹ رہی ہے اور اس مخمصے سے دوچار ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ جس کی وجہ سے اسرائیل کے علاوہ دنیا بھر میں کسی نے بھی اس کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارتی لیڈرشپ اس پر تلملا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے اعلیٰ سطح کے سات مختلف وفود تشکیل دئیے ہیں تا کہ وہ دنیا بھر میں جا کر سفارتی سطح پر بھارت کے نقطہ نظر کو پیش کر سکیں اور پاکستان کے خلاف ان کی حمایت حاصل کر سکیں۔ یہ وفود امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے دورے کرینگے۔
اسلام آباد نے پہلے ہی صورتحال کو بھانپ لیا ہے اور اس حوالے سے نہ صرف پیش بندی کر لی ہے بلکہ عملی اقدامات بھی شروع کر دئیے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں جہاں چین میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی افغانستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں پاک افغان باہمی تعلقات، دہشت گردی اور سکیورٹی کے معاملات زیر بحث آئے ہیں تو وہاں وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ترکیہ بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے نہ صرف پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے پر ترک قیادت کا شکریہ ادا کیا بلکہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے لیے خطے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز اور اس ضمن میں مزید باہمی تعاون پر بھی بات چیت کی۔ ترکیہ کا دورہ مکمل کر کے شہباز شریف ایران پہنچے اور ایران کی قیادت کے ساتھ خطے میں ابھرتے ہوئے نئے چیلنجز اور دونوں ملکوں کو قریب لانے کے لیے بات چیت کی۔ ایرانی قیادت نے بھی مثبت رد عمل کا اظہار کیا دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن کے ساتھ ساتھ سکیورٹی، دہشت گردی اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ ایران کے حوالے سے بھی اس وقت بھارتی حکومت اور گودی میڈیا بے حد سیخ پا نظر آتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں بڑی انوسٹمنٹ کی اور چاہ بہار بندرگاہ سمیت متعدد پروجیکٹس شروع کیے جن کا مقصد خطے میں اثر و رسوخ بڑھا کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا۔ تاہم حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران باقی ممالک کی طرح ایران نے بھی اس جنگ میں انڈیا کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی حامی سے بڑھ کر کچھ نہ کیا۔ مودی سرکار کو اس وقت داخلی طور پر بھارتی عوام اور کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شدید دباو¿ اور تنقید کا سامنا ہے۔ بھارت پاکستان کو تنہا کرنے کے چکر میں خود تنہا نظر آتا ہے، بھارت اس وقت ایسے ہمسایوں میں گھر گیا ہے جو اس کی ہندوتوا، انتہا پسندی اور ریاستی دہشت گردی کی پالیسیوں کے باعث بیزار نظر آتے ہیں، بنگلہ دیش ہو یا سری لنکا، بھوٹان ہو یا نیپال یا پھر چین سب بھارت مخالف نظر آتے ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے تو ٹرمپ کے ان بیانات کو بھی بھارت ماننے کو تیار نہیں کہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران کردار ادا کرتے ہوئے اسے کم کرایا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان وقتی طور پر سیز فائر ہوا۔ یوں بھارت ٹرمپ کو بھی ناراض کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ پاکستان بھی سفارتی محاذ پر بہت سرگرم نظر آتا ہے۔ حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں وفود مختلف ممالک میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ سفارتی سطح پر پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑ سکیں۔ جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے تو انہوں نے ماضی میں بھی دنیا بھر میں پاکستان کا نقطہ نظر بخوبی پیش کیا جس کے باعث اس وقت بھی بھارتی قیادت اور میڈیا تلملا اٹھا تھا اور ان کے اس کردار پر سخت برہم نظر آتا تھا۔ اس بات کی کبھی امید ہے کہ بلاول بھٹو اس بار بھی پاکستان کا مقدمہ دنیا بھر میں بڑی کامیابی سے پیش کرینگے۔ یہاں پاکستان اس وقت بھارت کی چال بازیوں، مکاریوں، جھوٹ اور دھمکیوں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پیش بندی کر رہا ہے تو اسے اس وقت خاص طور پر اسرائیل پر بھی نظر رکھنا ہو گی جس نے پاک بھارت جنگ کے دوران کھل کر بھارت کا ساتھ دیا۔ خود شہباز شریف نے قوم کو آگاہ کیا کہ ڈیڑھ سو سے زائد تربیت یافتہ اسرائیلی اس موقع پر بھارت میں موجود تھے۔ پاکستان کو اپنی دفاعی پالیسی میں اسرائیل کے خلاف اپنی بھرپور حکمت عملی تیار کرنا ہو گی۔

ٹیگز: