واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی تاجر ایلون مسک کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایلون مسک نے نہ صرف ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ان کی جگہ جے ڈی وینس کو لانے کی تجویز بھی دی ہے۔
ان اختلافات کا اثر ٹیسلا پر بھی پڑا، اور کمپنی کے شیئرز میں 14 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ اسی دوران، ناسا کی سربراہی کے لیے جیرڈ آئزک مین کی نامزدگی بھی واپس لے لی گئی ہے، جو کہ ایلون مسک کی سفارش پر کی گئی تھی۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک تہلکہ خیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ سچ سامنے لایا جائے۔" ان کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین فائلز اس لیے منظر عام پر نہیں آ رہیں کیونکہ ان میں ٹرمپ کا نام شامل ہے۔ مسک نے کہا کہ ٹرمپ کا ان فائلز میں جنسی اسکینڈلز سے تعلق ہے، اور ایک دن یہ حقیقت سامنے آ کر رہے گی۔
اس کے جواب میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ "ایلون مسک پاگل ہو گیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ مسک منشیات کا استعمال کرتے ہیں، اور وہ پہلے ہی انہیں انتظامیہ سے دور رہنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ایلون مسک اب نئی سیاسی جماعت بنانے پر بھی غور کر رہے ہیں، جس سے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔