Wed, September 16, 2026

ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کو چھوڑ دیا

ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کو چھوڑ دیا

واشنگٹن: مشہور کاروباری شخصیت اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹرمپ حکومت سے اچانک کنارہ کشی اختیار کر لی۔ وہ کچھ عرصے سے امریکی حکومت میں ایک اہم عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، لیکن ٹیکس بل پر اختلافات کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

ایلون مسک نے بغیر کوئی شور شرابہ کیے اپنی ذمہ داریاں 130 دن مکمل ہونے سے دو دن پہلے ہی چھوڑ دیں۔ انہوں نے اس بارے میں صدر ٹرمپ کو براہ راست آگاہ بھی نہیں کیا، تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام نے ان کے استعفے کی تصدیق کر دی ہے۔

مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ "صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے حکومتی اخراجات کم کرنے کا موقع دیا، لیکن اب میری مدت مکمل ہو چکی ہے۔" انہوں نے ٹرمپ کے ٹیکس بل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "بل یا تو بڑا ہو سکتا ہے یا خوبصورت، دونوں نہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں کچھ چیزیں ایسی شامل ہیں جن سے وفاقی اخراجات مزید بڑھ جائیں گے، جو ان کی کوششوں کے بالکل خلاف ہے۔ ایلون مسک اس وقت حکومت کے "محکمہ برائے حکومتی کارکردگی" (DOGE) کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے، جہاں ان کا مقصد سرکاری نظام میں اصلاحات اور فضول خرچی ختم کرنا تھا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ٹیکس کٹوتیوں اور امیگریشن قوانین میں تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہی ہے، مگر ایلون مسک کا ماننا ہے کہ یہ نئی پالیسی موجودہ نظام کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ٹیگز: