Thu, September 17, 2026

پاکستانی تاجروں کے لیے شاندار موقع، ازبکستان میں دہائی بھر ٹیکس فری سہولت

پاکستانی تاجروں کے لیے شاندار موقع، ازبکستان میں دہائی بھر ٹیکس فری سہولت

اسلام آباد: ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ایک غیر معمولی سہولت متعارف کرواتے ہوئے ازبکستان میں کاروبار پر 10 سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

یہ اعلان پاکستان ازبکستان بزنس کانفرنس میں کیا گیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، دونوں ممالک کی قیادت، اعلیٰ افسران اور کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی وسعت دینا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فورم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور نجی شعبے کے ذریعے تعلقات کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ بزنس فورم کے بعد اربوں ڈالر کے معاہدوں پر پیشرفت ہوئی جس سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی۔

ان کے مطابق گزشتہ ایک برس میں دونوں ممالک کے درمیان سینکڑوں ملین ڈالر کی تجارت ہوئی جبکہ مستقبل میں باہمی تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بزنس کانفرنس سرمایہ کاروں کو مواقع فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، آئی ٹی، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے، شرح سود کم کی گئی ہے اور کاروباری ماحول بتدریج مستحکم ہو رہا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

وزیراعظم نے ازبک صدر کی معاشی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ازبکستان نے گزشتہ دہائی میں قابلِ ذکر ترقی حاصل کی اور لاکھوں افراد کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔

صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ازبکستان تعلقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سفارت کے ساتھ ساتھ معیشت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی کاروباری طبقے کو ازبکستان میں سرمایہ کاری پر خصوصی سہولتیں دی جا رہی ہیں جن میں 10 سال تک ٹیکس سے مکمل چھوٹ شامل ہے۔

ازبک صدر نے صحت، ادویات، ٹیکسٹائل، زرعی پیداوار، لائیو اسٹاک اور آلات جراحی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

تقریب کے اختتام پر کان کنی، معدنی وسائل، زراعت، طبی ترقی اور صنعتی تعاون سے متعلق مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

ٹیگز: