Wed, September 16, 2026

نیوزی لینڈ : گولڈن ویزا اسکیم میں سرمایہ کاری کے شعبوں کا دائرہ وسیع

نیوزی لینڈ : گولڈن ویزا اسکیم میں سرمایہ کاری کے شعبوں کا دائرہ وسیع

 نیوزی لینڈ: نیوزی لینڈ نے اپنی گولڈن ویزا اسکیم میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مزید متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد سرمایہ کاری کے عمل کو سہل بنانا، مالی شرائط کو نرم کرنا اور امیگریشن کی پالیسیوں میں لچک لانا ہے۔

نئے ورژن میں کم از کم سرمایہ کاری کی رقم میں کمی کی گئی ہے تاکہ درمیانے درجے کے سرمایہ کار بھی اس پروگرام کا حصہ بن سکیں۔ ویزا کے لیے درخواست دینے کا عمل اب زیادہ آسان ہے، کاغذی کارروائی میں کمی کی گئی ہے اور مستقل رہائش یا شہریت کی شرائط میں نرمی کی گئی ہے، خاص طور پر اُن سرمایہ کاروں کے لیے جو طویل مدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں کو صرف رئیل اسٹیٹ یا بانڈز تک محدود نہیں کیا جائے گا، بلکہ وہ ٹیکنالوجی، ماحولیاتی منصوبوں اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد نیوزی لینڈ میں نئے ٹیلنٹ اور معیاری سرمایہ لانا ہے تاکہ ملک کی مقامی معیشت کو مزید تقویت دی جا سکے۔

نیوزی لینڈ کی موجودہ Active Investor Plus Visa اسکیم کو ختم کر کے دو نئی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں:


یہ اسکیم اُن سرمایہ کاروں کے لیے ہے جو زیادہ خطرے والے مگر زیادہ منافع بخش منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، جیسے کہ اسٹارٹ اپس، ٹیکنالوجی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ۔
متوقع سرمایہ کاری کی حد: کم از کم 5 ملین نیوزی لینڈ ڈالر رکھی گئی ہے۔

اس اسکیم میں کم خطرے والے شعبے شامل ہوں گے جیسے کہ بانڈز، قائم شدہ کاروبار یا انفراسٹرکچر پروجیکٹس۔
متوقع سرمایہ کاری کی حد: 7.5 ملین نیوزی لینڈ ڈالر رکھی گئی ہے۔ یہ آپشن اُن افراد کے لیے موزوں ہے جو نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

انگریزی زبان کا امتحان اب ضروری نہیں ہوگا، جس سے غیر انگریزی بولنے والے سرمایہ کاروں کے لیے یہ پروگرام مزید قابل رسائی بن چکا ہے۔

یہ نیا ویزا پروگرام اُن سرمایہ کاروں کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے جو بغیر مستقل رہائش کے نیوزی لینڈ میں سرمایہ کاری کر کے ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ٹیگز: