Wed, September 16, 2026

محمد کمال پاشا… وقت رخصت ٹھہر نہ سکا!

محمد کمال پاشا… وقت رخصت ٹھہر نہ سکا!

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پے بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مَر جاتے ہیں
لفظ کبھی نہیں مرتے، انسان مر جاتے ہیں، کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی، کہانی کے کردار امر رہتے ہیں، زندگی صرف دو لفظوں کی کہانی ہے یعنی زندگی اور موت اور دونوں برحق ہیں اور دونوں نے انسان کو چکر دے رکھا ہے اور انسان ہے کہ نہ تو زندگی سے سیکھ رہا ہے اور اس کے نشے میں بھول جاتا ہے کہ موت نے بھی آنا ہے ۔ کل وہ قلم ہمیشہ کیلئے خاموس ہوگیا جس نے فلم انڈسٹری کی 300فلمیں لکھیں محمد کمال پاشا میرے اور اس کے درمیان دو رشتے تھے۔ ایک میرا وہ دوست جس سے میری دوستی عشروں پر محیط رہی، دوسرا وہ بڑا قلمکار اور میں اس کے مقابلے میں ایک چھوٹا لکھاری… ماضی کے نامور ڈائریکٹر اور پروڈیوسر مصطفے کمال پاشا جس نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو عروج دیاپھر ان کے بیٹے محمد کمال پاشا نے جن کے لئے لکھیں وہ نامور لوگ اس عظیم لکھاری اور اپنے اس باغ کے مالی کو بھول گئے جس نے ان کے باغ کو پھولوں کی طرح  سجایا… زندگی کا اتفاق دیکھیں کہ باپ نے فلم کی دنیا بسائی تو بیٹے نے اس دنیا کو چار چاند لگا دیئے۔ میں بہت دکھی ہو کر یہ کالم لکھ رہا ہوں عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم مرنے والے کے بارے میں کالم، مضامین اور اس کی یاد میں ریفرنس برائے فوٹو شوٹ کراتے ہیں اور زندگی میں وہ انسان جو زمانے کا ہیرو تھا، یاروں کی محفلوں میں جاتا، رونقیں لگاتا۔ان کے دکھ درد بانٹتا جب وہ بستر مرگ پر ہوتا ہے تو کوئی اس کا حال تک پوچھنے کی زحمت نہیں کرتا یہی کچھ محمد کمال پاشا کے ساتھ ہوا۔ 
کمال پاشا ایک بڑے باپ کا بڑا بیٹا دونوں نے ہماری فلم انڈسٹری کو خون دیا، بڑے چہرے دیئے، یادگار فلمیں بنائیں، معاشرے کے سلگتے انگاروں کو اپنی قلم کی زینت بناتے ہوئے سکرین پر خود کو منوایا اور کمال پاشا کے لکھے ڈائیلاگ نے بہت سے ہیرو کو شہرت دی۔ آج وہ کئی ماہ کی بیماری کے ساتھ لڑتے لڑتے اپنے خالق حقیقی کے روبرو حاضر ہوگیا یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب ہم یہ لکھتے ہیں کہ فلاں اداکار یا اداکارہ کسمپرسی کی حالت میں مر گیااور اسی بیمار حالت میں حکومت پنجاب نے لاکھوں روپے کی مددکر دی یعنی اس کی زندگی کا معاوضہ صرف چند لاکھ روپے اور فری علاج بس… یہ ہے اس عظیم انسان کی قدر جس نے اپنی ساری زندگی دوسروں کو بناتے بناتے گزار دی۔ یہی تو میرا سب سے بڑا دکھ، کرب اور پریشانی ہے کہ ہمارا کس قوم اور اس کے راہنمائوں کے ساتھ واسطہ ہے۔ اتنی لاپرواہی، اتنی بے حسی کہ ہم سب اپنی آنکھوں کے سامنے عظیم مصطفی کمال کے بیٹے  کمال پاشا کومرتے دیکھتے رہے اور بھول گئے کہ یہ وہی نام ہے جس کے بغیر کبھی فلم بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھایہ ایک نہیں کئی ایسے واقعات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے جنہوں نے ہمیں قدر کرنا سکھایا، آج وہی لوگ ہمارے ہی سامنے ناقدری کا شکار نظر آئے۔ 
اے وقت رک جا، تھم جا، ذرا دوڑ پیچھے
وقت تو گزر جاتا ہے یہ نہ رکتا ہے نہ تھمتا ہے۔ کہیں بہت دلفریب تو کہیں بہت دردناک قصے چھوڑ جاتا ہے۔ اگر ہم ماضی میں شاہ نور، ایورنیو، باری اور شباب سٹوڈیوز کی صبحوں، دوپہروں، شاموں اور راتوں کو فلوروں پر لگے مختلف فلموں کے سیٹوں کا ذکر کریں تو وہاں مجھے مصطفی کمال پاشا جیسے نامور فلمساز و ہدایتکاراور لکھاری نظر آتے ہیں جو فلمی مست بھری جوانیوں، ڈانس، ڈائیلاگ کے درمیان آئوٹ، کٹ، ریڈی، سائلنس اور ایکشن کی آواز میں بڑے سپر سٹاروں کے ساتھ حکمرانی کرتے تھے وہ جب دنیا سے پردہ کر گئے تو ان کے بیٹے نے والد کے سلسلے کو اپناتے ہوئے کہانیاں لکھنا شروع کر دیں اور لکھتے لکھتے وہ تین سو سے زائد فلمیں لکھ گیا۔ ایک سے بڑھ کر ایک فلم جو ہماری فلمی تاریخ کی لائبریری میں محفوظ ہے۔کمال پاشا جو بھی لکھا کرتے تو زمانہ انہی کی کہانیاں خریدتا اور انہی کہانیوں پر فلمیں بنیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے کمال پاشا بارے خبریں آ رہی تھیں کہ وہ جان لیوا بیماری میں مبتلا ہیں اور اس اثناء میں حکومت پنجاب کی طرف سے کچھ مالی مدد بھی آ گئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی مدد جو ہم یا حکومت کرتی ہے یہ زندگی بچانے کے لئے کافی ہے؟ کمال پاشا جیسے بیٹوں کو جنہوں نے قوم کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیں پاکستان کے لئے فلم انڈسٹری کی کامیابی کے لئے عمریں گنوا دی، وہ علاج کے لئے بھیک مانگتے۔دنیا سے پھر وہ کرگئے جب بھی کوئی فنکار دنیا سے جاتا ہے تو پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ یہ تو بے بسی کی موت مر گیا، وہ فنکار تھایارووہ میاں منشاء نہیں کہ وہ کاروباری ہے وہ فنکارتھا خدا کے لئے یہ بات کہنا اور لکھنا چھوڑ دیں۔
پاکستان میں آرٹسٹ کی کوئی قدر نہیں وہ جب تک ہے تو ہے جیسے ہی وہ پردہ سکرین سے ہٹا ہم نے بھی آنکھیں پھیر لیں جبکہ پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا وہاں تو قدر ان کے مجسمے لگا کر کی جاتی ہے۔ فلاحی اور رفاعی ادارے میدان میں اتر آتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں دو تین تک سوشل میڈیا پر مرنے والے کا تماشا لگا دیا جاتا ہے اور پھر خاموشی… جاوید کوڈو کو وفات پائے ابھی دن ہی کتنے گزرے۔ سوشل میڈیا پر کس قدر شور تھا کس قدر اس کی غربت کی تذلیل کی گئی۔ ایک عظیم انسان کو لاچار اور بے مدد یارو کے طعنے دیئے گئے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ آپ ان کے لئے کچھ کر نہیں سکتے تو پھر موت کے نام پر ان کی تذلیل کرنے کا بھی کسی کو حق نہیں۔ اپنی دکانداری چمکانے کی آڑ میں لاشوں کی بے حرمتی نہ کریں، بند کریں یہ بکواس بازیاں… ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ایم محمد کمال پاشا کوجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ وہ ہمارا ایسا اثاثہ تھے جن کے نام اور کام سے دنیائے فن کو معراج ملی اور وہ نامور ٹھہرائے گئے۔ 
اور آخری بات…
اگر مصطفیٰ کمال پاشا کے بعد ان کے جگر گوشے محمدکمال پاشا(مرحوم) کی خدمات کا اعتراف کروں تو میرے پاس وہ لفظ نہیں جو ان کی خدمات کا اعتراف کر سکیں۔ 
سراپا راز ہوں میں کیا بتائوں کون ہوں کیا ہوں
سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا 

ٹیگز: