لگتا ہے قانون کی آنکھ نیم وا ہے کیونکہ یہ جو تکلیف دہ حالات دکھائی دیتے ہیں اس کا ثبوت ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہمارے کرتا دھرتا اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ لوگ پْر آسائش زندگی سے لطف اندوز نہ ہو سکیں انہیں سہولتیں میسر آتی ہیں تو وہ سر اٹھانے کے قابل ہو سکتے ہیں لہٰذا اٹھہتر برسوں میں اسی خیال کے پیش نظر عوام کو بنیادی حقوق نہیں دیے گئے۔ آج وہ کسمپرسی سے دو چار ہیں جس میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اْدھر آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے ذرائع پیدا وار میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔توانائی کے بحران اور انتظامی معاملات نے صورت حال کو مزید تقویت دی ہے لہذا مجموعی طور سے پورے ملک میں ایک ایسی کیفیت نے جنم لیا ہے جس نے ایک دوسرے کو لاتعلق کر دیا ہے۔ ہمدردی محبت اور دوستی کے جذبات کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ ہم ایک صدی گزرنے کے بعد بھی وہ آسائشیں حاصل نہیں کر پائیں گے جو جمہوری معاشروں کو حاصل ہیں اگرچہ انہیں بھی یہ صدیوں بعد مل سکیں مگر ہمارے ہاں تو اس کے حصول کے لئے کوئی کوشش ہی نہیں کی جا رہی۔عوام کا یہ کہنا ہے کہ انہیں حکمرانوں نے ہی سہولتیں وغیرہ فراہم کرنی ہیں مگر انہیں یہ کیوں علم نہیں کہ اگر انہوں نے ان کو بنیادی حقوق دینے ہوتے تو کب کے دے چکے ہوتے ویسے ایک بات ہے کہ لوگ بھی کچھ کچھ عادی ہو چکے ہیں کہ جیسے گزرتی ہے گزارو ان کی اسی سوچ نے اہل اقتدار کو حوصلہ بخشا ہے لہذا وہ اپنے مطابق امور مملکت چلا رہے ہیں عوام کی کیا حیثیت ہے ان کی کسی بھی معاملہ میں کیا رائے ہو سکتی ہے اس کی پروا نہیں۔
بہرحال یہ بھی ہے کہ عوام کے مکمل طور سے مایوس ہونے کے عمل کو روکنے کے لئے وقتاً فوقتاً گونگلوؤں سے مٹی بھی جھاڑی جاتی پے یعنی چھوٹے موٹے ریلیف دئیے جاتے ہیں تاکہ یہ تاثر ابھارا جا سکے کہ حکومت ان کی مشکلات کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے مگر مسائل کے حجم کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات
نہیں کیے جاتے یہی وجہ ہے کہ اب وہ مسائل گمبھیر شکل اختیار کر چکے ہیں جنہیں انقلابی بنیادوں پر ہی حل کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے کبھی بھی کچھ نہیں کیا گیا بات وہی ڈنگ ٹپاؤ پروگرام ہی ترتیب دئیے گئے ہیں جنہیں ہر سیاسی جماعت نے انتخابات سے پہلے گنوایا اور لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہیں۔ہمارے عوام بڑے سادہ ثابت ہوئے ہیں کہ وہ عارضی منصوبوں پر بھی خوش ہو جاتے ہیں اور انہیں غنیمت سمجھتے ہیں کیونکہ وہ کسی جد و جہد کرنے کے حق میں نہیں لہٰذا ان کے اس رویے کے پیش نظر ہی اٹھہتر برس میں بھی ہماری زندگیوں میں بہتری نہیں آسکی وہی رونا دھونا ہے جو پہلے تھا ہاں چند فیصد کے دن ضرور پھرے ہیں وہ لاکھ پتی سے کروڑ ارب اور کھرب پتی بن گئے چونکہ وہ امرا ٹھہرے لہذا عالمی سطح پر انہیں ہی معتبر تصور کیا گیا اور اقتدار کے اہل سمجھا گیا لہذا وہ ووٹوں سے نہ بھی حکمران بنیں ان کا راستہ ہمیشہ صاف ہوتا ہے نجانے کیوں اہل زر کی دولت کی ہوس کم اور اقتدار کی خواہش ختم نہیں ہوتی آخری سانس تک وہ مارے مارے پھرتے ہیں دراصل وہ جانتے ہیں کہ ان کے کندھوں پر اہل یورپ و مغرب کی طرح کی ذمہ داریاں نہیں ہوتیں لہٰذا وہ اپنی زندگی کو خوب سے خوب تر بناتے چلے جاتے ہیں عوام کا کیا ہے وہ حالات کیسے بھی ہوں جی لیتے ہیں۔
بہر کیف ارتقائی عمل جاری ہے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں پوری دنیا میں آرہی ہیں اِدھر بھی منظر بدل رہا ہے کیونکہ معیشت کی بہتری کے بغیر ملک کا نظام نہیں چلایا جاسکتا اور معیشت کے توانا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پچیس کروڑ عوام متحد ہوں اہل اقتدار مخلص ہوں اور موسمی پرندوں کی طرح نہ سوچیں کہ جو موسم ان کے لئے موافق ہوا ادھر کا رخ کر لیں گے بصورت دیگر وہ ارتقاء کو نہیں روک سکتے کہ جس میں حالت موجود باقی نہیں رہتی تبدیل ہو جاتی ہے۔ آپ دیکھ لیجئے کہ آج کا امریکا سیاسی پلیٹ فارم سے نیچے اتر چکا ہے اور جنگ میں اپنی بقا قرار دے رہا ہے اس کی معیشت کمزور ہو چکی ہے جس کے لئے وہ کبھی کسی کو دباتا ہے اور کبھی کسی کو ‘ مقصد یہی کہ اس ملک سے ہر نوع کا خام مال اپنے ملک میں لے جایا جا سکے مگر اسے مزاحمت کا بھی سامنا ہے کیونکہ اب دنیا بہت کچھ جان چکی ہے شعور کی ترقی میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا گفتگو ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں کبھی امریکا تنہا اودھم مچائے ہوئے تھا اب اس کے مقابل چین آن کھڑا ہوا ہے اس کے ساتھ روس شمالی کوریا اور ایران بھی ہیں جو اس کی تھانیداری کو قبول نہیں کر رہے یورپ بھی اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے لہٰذا اس کا الگ پروگرام ہے مگر ضد اور ہٹ دھرمی نے امریکا کی جمہوریت اور انسانی حقوق کا پول کھول دیا ہے اس کے عوام امن چاہتے ہیں مگر ان کے حکمران لڑائی جھگڑا کو اپنے لئے سود مند خیال کرتے ہیں جس سے پوری دنیا میں خوف کی ایک لہر ابھر چکی ہے۔
بات کا رخ ذرا دوسری طرف مڑ گیا
ہمیں مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خزاں کے بعد بہار یقیناً آتی ہے حکومتیں حالات کے ہاتھوں مجبور بھی دکھائی دیتی ہیں کہ وہ اپنا طرز سیاست تبدیل کریں عوام کو سہولتیں دیں تاکہ انہیں مایوسی کی آخری حد تک نہ پہنچنے دیا جائے کیونکہ جہاں کہیں بھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں بہت بڑی تبدیلی آجاتی ہے کوئی نہ کوئی لیڈر نعرہ مستانہ بلند کرتا ہے تو لوگ اس کے پیچھے وہ دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عوام تن آسان ہو گئے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ انہیں ہاتھ بھی نہ ہلانا پڑے اور آسائشیں ساری میسر ہوں مگر چین کے افیمی لوگوں کی مثال موجود ہے کہ جب وہ جاگے تو وہاں انقلاب آگیا لہذا کہا جا سکتا ہے کہ اہل اختیار کے دل ایک نہ ایک روز پسیج ہی جائیں گے اور ایسا ہونے کا آغاز ہو بھی چکا ہے۔ صوبہ پنجاب میں ایسے فلاحی منصوبے دیکھنے کو مل رہے ہیں جو کسی حکمران کے دور میں نہیں دیکھے گئے ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ سماجی سطح پر نگاہ ڈالی گئی ہے اگرچہ لوگ کچھ مضطرب بھی ہوئے ہیں مگر آہستہ آہستہ وہ تسلیم کریں گے کہ جو ہوا ٹھیک ہی ہوا لہذا سیاسی منظرنامہ ہو یا معاشی یہ ضرور تبدیل ہو گا !۔