Wed, September 16, 2026

سب کی باری لیکن ’’باری باری‘‘

سب کی باری لیکن ’’باری باری‘‘

آسمان میں بلند ہوتے ہوئے آگ کے شعلوں کے ساتھ انسانی جسموں کے اڑتے ہوئے چیتھڑے اور ادھر ادھر گرتے ہوئے لاشے، کوئی تخصیص نہیں۔ چار کھونٹ بربریت و سفاکی اور ظلم و جبر دبیز تہوں کے نیچے دم توڑتی انسانیت۔ یقینا غزہ میں برپا آگ اور خون کے ناقابل بیان کھیل پر شیطانیت بھی شرما گئی ہو گی۔ بلبلاتی مائیں، تڑپتی بچیاں اور بدحواس بچوں کی دل دہلا دینے والی چیخیں انسانی تاریخ کی ایک اور کربلا بنی نوع انسان کے آنکھوں کے سامنے ہے۔ مغرب ہو یا امریکہ انسانیت کا درد رکھنے والا چاہے اس کا میں سب کچھ بھی ہو سراپا احتجاج ہے۔ لیکن یہ کیا 57 مسلم ممالک میں ہُو کا عالم گویا ایک اور کوفہ اہل تماشا ہے۔
غزہ میں دم توڑنے والے بچوں، بوڑھوں، بیٹیوں، بہنوں اور بھائیوں کی آخری سسکیاں، ہچکیاں اور فریادیں بھی مسلم دنیا کے بے حس، سفاک اور مفاد پرست نام نہاد حکمرانوں اور ارباب اختیار کو جھنجھوڑ نہ سکے۔ جاتے جاتے بھی وہ یہ کہہ گئے کہ
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
فلسطین اور غزہ کے ان شہیدوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر اپنے دین اپنی سرزمین اور اپنی قوم سے کیے ہوئے تمام وعدوں کا نہ صرف پاس رکھا بلکہ اپنی جان پر کھیل کر پوری دنیا کو باور کرا دیا کہ روئے زمین پر اس وقت سب سے بہادر قوم اور سچے مسلمان ہیں۔ مسلم دنیا کے ممالک اور ان کے حکمران جو یہ کہتے تھکتے نہیں کہ وہ مسلم امہ اور اپنی عوام کے خیر خواہ ہیں ایسی مجرمانہ غفلت بے حسی اور سفاکیت کا شکار ہیں جس کی تاریخ ہمیں بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا آج غزہ میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کی بدولت گرنے والے بم سے اگر کسی بے گناہ فلسطینی کے جسم کے چیتھڑے اڑتے ہیں یا اس کا گھر زمین بوس ہوتا ہے تو اس میں مسلم دنیا کے حکمران اور ارباب اختیار برابر کے شریک ہیں۔ جانے مسلم دنیا کی وہ مشترکہ فورس کہاں ہے ایک دور میں جس کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف بنائے گئے تھے۔ مسلم دنیا کے صاف دیدہ حکمران چاہے پہلے پاکستان، یا پہلے سعودی عرب یا پھر پہلے ایران جیسے نعرے لگا کر کمال حسی، کھلی بزدلی اور افسوس ناک سفاکیت کچھ چھپانے کے لیے جواز پیش کریں، حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے چہروں سے نقاب اُتر چکے ہیں ویسے ہی جیسے آج کا مغرب جو کتے اور بلیوں کو بچانے کی کئی کئی گھنٹے کی لمبی فلمیں بنا کر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا تھا کہ ان سے زیادہ انسانیت اور جانوروں کوئی خیر خواہ ہے نہیں۔ تاہم غزہ کے سانحہ نے اہل مغرب کے چہرے سے بھی میک اپ اتار کر رکھ دیا ہے اور اب ان کا تاریک، مکروہ اور بھیانک چہرہ سب کے سامنے ہے۔ یہ چہرہ بتاتا ہے کہ آج بھی اہل مغرب پہلے سے زیادہ سفاک، شیطان صفت اور وحشت و بربریت سے اٹے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی فوج اس وقت فلسطین میں براہ راست عام شہریوں کو اپنے مہلک ترین بمبوں اور ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہی ہے۔ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تمام انسانی اقدار بین الاقوامی قوانین اور کسی بھی انسانی معیار اور حدود و قیود کے خلاف ہے لیکن سکیورٹی کونسل ہو یا اقوم متحدہ یا پھر کوئی اور بین الاقوامی فورم نیتن یاہو کی غنڈا گردی کو روکنے میں کوئی بھی کامیاب نظر نہیں آتا۔ مسلم دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے یہ تمام ادارے امریکہ اسرائیل ان کے حواریوں کی حفاظت کے لیے ہیں۔ تیسری دنیا بالخصوص مسلم دنیا میں بسنے والوں پر اگر کوئی ظلم و ستم ہوتا ہے یا پھر کوئی اور ناروا سلوک یہ ان کی حفاظت کے لیے بنے ہیں اور نہ ہی وہ کوئی ایسا اقدام کریں گے جس میں فلسطین ہو یا کشمیر یا دنیا میں کوئی اور علاقہ جہاں مسلمان پس رہے ہیں ان کی حفاظت کی جائے گی یا ان کے حقوق کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھایا جائے گا۔
جنگی جرائم کی اگر بات کی جائے تو فلسطین کے بے گناہ نوجوانوں کے ساتھ جو کچھ اسرائیلی حکومت خانوں میں ہو رہا ہے اور جس طرح کا انہیں ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔ حال ہی میں اسرائیل کی قید سے رہا ہونے والے قیدیوں نے جو تفصیلات بتائی ہیں وہ کسی بھی شخص کو انگشت بدنداں کرنے کے لیے کافی ہے۔ ان میں سے کچھ نے بتایا کہ ان کے کپڑے اتار کر، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہاتھ باندھ کر مارا پیٹا گیا کچھ کو بجلی کے جھٹکے دئیے گئے، کتوں سے ڈرایا گیا اور طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کچھ دیگر قیدیوں کی ہلاکتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ ایک قیدی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سامنے دوسرے قیدی پر جنسی تشدد ہوتے دیکھا۔ ایک نے بتایا کہ اس کا سر کیمیکل میں ڈبویا گیا اور اس کی کمر کو آگ لگا دی گئی۔ ویسے خوفزدہ مسلم دنیا جتنا بھی اپنا دامن بچا لے غزہ میں شروع ہونے والی آتش سوزاں جلد یا بدیر سب کے دروازے پر پہنچتی نظر آتی ہے، ناجائز ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے تو بالکل واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ان کا ایجنڈا کیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد محض غزہ یا ویسٹ بینک نہیں بلکہ وہ پورے مڈل ایسٹ کا نقشہ بدل کے رکھ دے گا۔ کچھ عرصہ قبل اس طرح کا ہی ایک بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کو جہنم بنا کر رکھ دے گا۔
لبنان اور شام میں اسرائیل کارروائیاں کر رہا ہے غزہ پر قبضہ کر کے یہاں کے مہاجرین کو اردن اور مصر بھیجنے کا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ بھی کر چکے ہیں۔ عراق میں بھی امریکہ ہی کی حمایت یافتہ حکومت ہے، سعودی عرب تک بھی پہنچنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا، پاکستان میں تو پہلے ہی گوریلا جنگ شروع کرا دی گئی ہے گویا سب کی باری ہے لیکن ’’باری باری‘‘ ہے۔ جماعت اسلامی اس حوالے سے قابل تحسین ہے اس نے پاکستان میں بجلی سمیت بہت سے عوامی ایشوز کو اجاگر کیا ہے جماعت اسلامی کی طرف سے فلسطین کے حوالے سے پاکستان میں بیداری کی مہم چلانے کا اعلان خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ حکومت پاکستان بھی عوام کی نبض کو سمجھتے ہوئے لب کشائی کرے گی اور خاموشی کا طویل روزہ بھی توڑے گی۔

ٹیگز: