Wed, September 16, 2026

ایران سے متعلق تمام راستے کھلے ہیں، تفصیلات نہیں بتاؤں گا: جے ڈی وینس

ایران سے متعلق تمام راستے کھلے ہیں، تفصیلات نہیں بتاؤں گا: جے ڈی وینس

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ اور مذاکرات کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے خلاف امریکا کے پاس کئی ممکنہ اقدامات موجود ہیں، تاہم واشنگٹن فی الحال ان کی نوعیت سامنے لانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران سے متعلق امریکی منصوبہ بندی کی تفصیلات بتانا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمتِ عملی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ رابطوں کا مستقبل کیا ہوگا اور معاملات کس نتیجے تک پہنچیں گے، اس بارے میں وہ کوئی پیش گوئی یا تفصیل شیئر نہیں کریں گے۔

نائب صدر نے کہا کہ ایرانی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کے لیے امریکا کے پاس مختلف ذرائع موجود ہیں، جن میں اقتصادی پابندیاں اور فوجی دباؤ بھی شامل ہیں، اور واشنگٹن ان راستوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں سوال پر جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فعال اقدامات کررہا ہے اور آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے تحفظ پر کام جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی کارروائیوں اور تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں، بالخصوص گیس کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران سے مذاکرات کے لیے اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گا جب تک ایرانی جانب سے بحری جہازوں پر حملے اور فائرنگ کا سلسلہ ختم نہیں کیا جاتا۔ جے ڈی وینس نے دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کے حوالے سے واشنگٹن نے کسی ایک راستے کو محدود نہیں کیا، تاہم آئندہ اقدامات کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔

عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے سوال پر امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا شہری آبادی کو ہدف بنانے کی پالیسی کا اعلان نہیں کرتا۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے ایک شادی کی تقریب کو امریکی حملے کا نشانہ قرار دیے جانے کے دعوے پر بھی جے ڈی وینس نے تحفظات کا اظہار کیا۔

ادھر عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علی الطاہر کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ایک سرنگ کے داخلی مقام کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران حزب اللہ کے کئی ارکان ہلاک ہوئے جبکہ بعض اہلکار وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علی الطاہر کا علاقہ اس کے زیرِ کنٹرول ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس کارروائی سے قبل ایران نے امریکا کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں علی الطاہر کے علاقے کو نشانہ بنایا تو تہران کی جانب سے سخت فوجی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

ٹیگز: