ایسے غیر محسوس انداز سے معاشرہ تبدیل ہو رہا ہے جس کا شعوری سطح پر تو ہمیں پتہ بھی نہیں چل رہا۔ حالیہ مومنہ اقبال و ثاقب چدھڑ کیس میں مومنہ کے وکیل نے نہایت نپے تلے الفاظ میں ایکٹریس اور ایم پی اے کی ریلشن شپ کا نہایت منطقی انداز سے اعتراف کرتے ہوئے کہانی کو آگے بڑھایا ہے لین دین الزامات اور ہراسمنٹ کے علاوہ سب سے غیر ضروری چیز اعتراف محبت تھا جس کی بنیاد شادی کی نیت تھی نیت اچھی تھی محبت شادی کی سمت بڑھ رہی تھی مگر طویل تعلقات میں اتار چڑھاﺅ حقیقت رنگ دار دھنک سے پھوٹ پھوٹ کر باہر نکلتی ہے۔ دوران محبت ہی دونوں فریقوں کی گزشتہ یا مبینہ شادیاں جس کا انہیں اتنے برس پتہ ہی نہ چلا سامنے آگئیں یہ جو ماضی ہے نا یہ کبھی جان نہیں چھوڑتا جب بھی کچھ اچھا ہونے لگے ڈھول پیٹتا سامنے آجاتا ہے اپنا شعر یاد آگیا۔
کتنا مشکل ہے ماضی میں جاکر اس کا حصہ بننا
پھر سے کاسہ¿ پکڑ کے خود کو اس کے حد پہ سائل کرنا
دونوں عدالت کے احاطے میں سچ بول رہے تھے اور ان کے وکیل بھی میں اس منافق معاشرے کے ماضی پر حیران ہو رہی تھی کہ یہاں چھپ چھپا کر دیور بھابی، سسر بہو، عورتوں مردوں کی بے وفائیاں اور دن میں شرافت کے ڈرامے پورا برصغیر منافقت کا شکار رہا ہے اور اب بھی پسماندگی میں مقدس رشتوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ حالیہ خبر کے مطابق ایک گھٹیا شخص نے بیان دیا کہ چونکہ بیوی بیمار رہتی تھی اس لئے بیٹی سے کام لیتا رہا وڈیوز اعتراف جرم چل رہے ہیں اس پر شیطان غالب آجانے کا کہہ کر شاید تھوڑی بہت سزا دے کر چھوڑ دیا جائے مگر اس معاشرے میں اعتراف محبت گناہ سمجھا جاتا رہا ہے آج کے لوگوں میں غیر محسوس انداز میں یہ ہمت پیدا ہوئی ہے کہ وہ اپنی پانچ سالہ ریلشن شپ کے احترام میں اعتراف کی طاقت رکھتے ہیں ورنہ منافقت کا یہ عالم رہا ہے کہ بڑے سے بڑے شاعر کو بھی محبوب کو مذکر کہہ کر مخاطب کرنا پڑا چند ایک کو چھوڑ کر باقی معاشرتی مجبوری سے ایسا کہنے پر مجبور تھے خاتون شاعرہ کے لیے یہ بھی مشکل کہ وہ مذکر بنا کر مخاطب کرے اور مو¿نث بنا کر تو بالکل ہی نہیں کر سکتی مگر اب ”یار“ کہہ کر یا ”یار“ کی ردیف رکھ کر تو عام شاعری کر رہی ہیں۔
کچھ لوگ معاشرے کی ٹھیکیداری میں مومنہ اور چدھڑ کے محبت سے نہ مکرنے کو اپنے معاشرے کی تباہی کہہ رہے ہیں اور اس کے کھلم کھلا اعتراف کو برا سمجھ رہے ہیں حالانکہ وہ معاشرے میں اس وقت شوگر ڈیڈی اور ہنی ٹریپ سے نہ صرف بخوبی آگاہ ہیں بلکہ لاہور ہی میں پڑھی لکھی لڑکیوں لڑکوں کے (Live In) ”لیو اِن“ ریلشن شپ سے بخوبی آگاہی ہیں۔
کبوتر کے ذریعے پیغام رسانی کرنے والے عاشق معاشرے کے ہاتھ جب موبائل فون لگ گیا ہے عمیری جیسی وڈیوز اور انٹرنیٹ پر دھندہ لائیویشن پوری پوری فیملی وی لاگ ٹک ٹاک لائیو پر لوگ لڑکیاں اور لڑکے خود بٹھا کر ”عزت“ کی روزی کما رہے ہیں۔
یہاں عاشق بھی گردہ فروش اور محبوبہ بھی خواتین کے حقوق سے آگاہ اوپر سے چلتی پھرتی ”سی سی ڈی“ ایسے میں جو بات نئی ہے وہ یہ کہ گاڑیاں، پیسہ بیرونی دورے اور دی گئی آسائشیں زیادہ اہم ہیں اور ان کا تبادلہ یا واپسی ہونی چاہئے۔ کیونکہ یہ سیاست دان اور ایکٹر کی محبت ہے ہمارے جیسے پاگل شاعر ہوتے تو اپنے گزرے ہوئے پانچ سال مانگتے یہاں تو تیس تیس سال معاشرے کی رسموں قسموں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ عورتیں شوگر بلڈ پریشر بیماریاں لگا کر آخری جنازے کی خاطر پوری زندگی چولہے میں جھونک دیتی ہیں۔ آخر میں اولاد باپ کو حج مان کی آنکھوں کا آپریشن کروا کر فرائض سے نہ صرف عہدہ برآ ہو جاتی ہے بلکہ اچھا کپڑا، عمدہ کھانا اور سیروتفریح بھی بزرگی کے نام پر چھین لی جاتی ہے عمر کا طعنہ تو تیس برس کی عمر سے پڑنا شروع ہو جاتا ہے باپ کو آرام کا کہہ کر بیٹے دکان دفتر سے فارغ کر دیتے ہیں۔ بہوئیں ماﺅں کو دُعاﺅں والی چوکی پر بٹھا کر ہاتھ میں تسبیح پکڑا کر خود پالروں میں چلی جاتی ہیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے معاشرے میں ریلشن شپ کو پازیٹو کر دیا گیا ہے کہ جھگڑا تو مالی معاملات پر ہوتا ہے جبکہ بریک اپ وہ بھی طویل بریک اپ کے بعد اس سے بھی زیادہ اچھا رشتہ مل جاتا ہے وہ زمانے گئے جب لڑکیوں کی ٹوٹی ہوئی منگیاں اور پرانے عاشق چھپائے جاتے تھے جو محبوبہ کی بارات پر گلی میں تنبو لگاتے تھے اور جن کی آخری ملاقات چھت پر سہیلیاں کرواتی تھیں گانے بھی تب ایسے تھے....
جب ترے غم میں پھرے چاک گریباں ہو کر
تیرے کوچے سے نہ گزریں گے پریشان ہو کر
ہم کبھی تم کو لب بام نہ آنے دیں گے
ہم ترے پیار پہ الزام نہ آنے دیں گے
مجھے تو اچھا لگا یہ آخری کوٹھریوں میں جھوٹی غیرت کے نام پر ماں بھائی باپ مل کر لڑکی پھندہ لگا رہے ہوتے تھے انہیں اعتراض لڑکی کے تعلقات پر نہیں تھا لڑکی کی پسند سے مسئلہ تھا ورنہ اپنے کئے گئے قتل کی بخشش کے لیے یہی بھائی بہنوں کو پورے پورے مقتول گھرانے کے ”ٹبر“ کے حوالے کر دیتے تھے کہ جاﺅ دن رات اس کا بیڑہ غرق کرو مگر ہمارے بیٹے بخش دو.... ونی، سوار، وٹہ سٹہ لڑکیوں کا قتل نہیں تو کیا ہے۔
میں ریلشن شپ کی وکیل نہیں لیکن ہاں اعتراف محبت مجھے اچھا لگا....
پوچھا جو کسی نے بھی سنا دیں گے فسانہ
ہم سے تو ترے پیار کی تردید نہ ہو گی