ہم آج ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں زندگی کی ہر سہولت تو موجود ہیں مگر زندگی خود یہاں خطرے میں ہے۔ تہذیب کی ترقی نے ہمارے بازاروں کو وسیع کیا، ٹیکنالوجی نے زندگی کی ہر سہولت فراہم کی لیکن انسان کے لالچ نے اس کے رزق کے گرد زہر کی ایک ان دیکھی تہہ بچھا دی۔ شاید یہ انسانی تہذیب کا وہ تاریخی موڑ ہے جہاں خلوصِ غذا جو کبھی رزق کی سب سے بنیادی شرط تھی آج بازار کی مکاریوں میں ایسے گم ہو گئی ہے جیسے صحرا میں کوئی چشمہ ریت کے نیچے دب جائے۔ گناہانِ کبیرہ میں سے چوبیسواں گناہ جس کے کبیرہ ہونے کی صراحت موجود ہے وہ ناپ تول میں کمی کرنا ہے۔ اس کا حرام ہونا قرآن، احادیث اور عقل سے ثابت ہے۔ امتِ محمدیﷺ سے قبل کئی نبیوں کی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل ہوئے۔ جن میں قوم شعیب کا ذکر بھی نمایاں ہے۔ حضرت شعیب ؑ کی قوم بھی عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوئی جن کی سب سے بڑی بُری خصلت ناپ تول میں کمی اور ناقص چیزوں کی فروخت تھی۔ ناقص چیزوں کی فروخت آج کل ہمارے معاشرے میںبھی عام ہے۔ گھی میں ناقص تیل کی ملاوٹ کرنا، مرچوں میں سرخ مٹی کی ملاوٹ کرنا، دودھ میں پانی اور دوسری چیزوں کی ملاوٹ، پیٹرول میں ملاوٹ، سونے میں ملاوٹ، عرض یہ کہ زندگی بچانے والی ادویات تک میں ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ جب خریدار ایک چیز کا پورا دام ادا کر رہا ہے تو اس کا حق ہے کہ اسے مطلوبہ چیز بغیر کمی اور نقصان کے پوری پوری حاصل ہو۔ لیکن اب تو شاید ہی بازار میں کوئی ایسی چیز موجود ہو جو پوری طرح ملاوٹ سے پاک ہو۔ آج ہمارے معاشرے میں وہ تمام بُرائیاں اظہر من الشمس ہیں جن کی وجہ سے قومِ شعیب عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوئی۔ انسان جب اپنی خوراک کے معاملے میں ہی دھوکہ کھانے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرے کا بوجھ اس کے کاندھوں پر نہیں بلکہ اب اس کے خون میں اتر کر رگوں میں بہنے لگا ہے۔ یہ زوال کا وہ لمحہ ہے جہاں دھوکہ بھی خوراک کی صورت میں فروخت ہونے لگتا ہے۔
ایک وقت تھا جب دودھ کو قوت، صحت اور طہارت کا استعارہ سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ بیماریوں، ملاوٹ اور تجارتی مکاریوں کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔ وہ سفید محلول جسے ہم دودھ سمجھتے ہیں دراصل کیمیائی اجزاء کی وہ بے رحم ترکیب ہے جسے انسان نے معصوم بچوں کے حلق میں انڈیلنے کے لیے ایجاد کیا۔ یوریا، نشاستہ، ریفائنڈ آئل، کیمیکل فلیورز یہ سب وہ عناصر ہیں جو کبھی لیبارٹری کے ریجیکٹڈ کچرے میں پھینک دئیے جاتے تھے مگر آج انہی کی بنیاد پر شہروں میں تازہ دودھ کا کاروبار چل رہا ہے۔ یہ صرف دودھ کا نہیں بلکہ معاشرتی روح کا انحراف ہے۔ غذا کا خلوص وہ معیار ہے جو صرف جسمانی صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ معاشرتی ذہنیت، تہذیبی رویوں اور انسانی ضمیر کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے بازار آج ایسے لوگوں کے قبضے میں ہیں جن کے لیے رزق نہیں بلکہ منافع ہی اصل حقیقت ہے۔ جب کوئی معاشرہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ اس کے ہاں دودھ کے نام پر موت بیچی جانے لگے، انڈوں میں پلاسٹک گھول دیا جائے، پھلوں میں بیماری اور سبزیوں میں زہر ملایا جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس معاشرے میں تہذیب نہیں بلکہ تجارت سانس لیتی ہے۔ یہ صرف زہر نہیں بلکہ منظم معیشت ہے ایک ایسا کاروبار جس میں کسان غریب سے غریب ہو رہے ہیں اور زہر بنا کر بیچنے والے امیر۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کے زوال کی ابتدا ہمیشہ اخلاقی شکست سے ہوتی ہے۔ ایسی قومیں کبھی کسی جنگ سے نہیں ہارتیں بلکہ وہ اپنی نیت سے ہارتی ہیں، اپنے رویے سے ہارتی ہیں۔ بقول شاعر
تیرے اعمال سے ہے تیرا پریشاں ہونا
ورنہ مشکل تو نہیں مشکل کا آساں ہونا
پورے عالم پہ حکومت ہو تیری، اے مسلم!
تو سمجھ جائے گر اپنا مسلماں ہونا
ملاوٹ ہماری تاریخ کا ایک ایسا پناہ گزین جرم ہے جس نے رزق کی میز پر بیٹھ کر ہمارے وجود کی جڑیں کاٹ دیں۔ جب کسی قوم کا رزق ہی غیر معتبر ہو جائے تو پھر اس قوم کا کردار کیسے معتبر رہ سکتا ہے؟ یہ زوال کا صرف آغاز ہے اصل زوال وہاں شروع ہوتا ہے جب معاشرہ ملاوٹ جیسے جرم کو معمولی سمجھنے لگے۔ ہم آج اس مقام پرکھڑے ہیں جہاں جرم چھپایا نہیں جاتا بلکہ جرم کو معاشی مجبوری کا نام دے کر جواز عطا کیا جاتا ہے۔ چینی، دودھ، گھی، مرچ، مسالے اور ادویات ہر شے میں ملغوبہ دراصل تشنگیِ ضمیر کا وہ سیال ہے جو پورے معاشرے میں رینگ رہا ہے۔ یہ مسئلہ سائنسی سے زیادہ عقلیاتی ہے، قانونی سے زیادہ اخلاقی ہے اور ظاہر سے زیادہ باطنی۔ ہماری ریاست میں ضابطے کمزور نہیں بلکہ ارادے کمزور ہیں، قوانین بے بس نہیں ہیں ان پر عملدآمد نا ہونے کے برابر ہے۔ خوراک کی یہ ملاوٹ ہمارے کردار، ہماری سیاست، ہماری عدالتوں، ہماری گفتگو حتیٰ کہ ہمارے مذہبی شعور تک کی ملاوٹ کا عکس ہے۔ جب لیڈر وعدوں میں ملاوٹ کریں، جب تاجر اپنے مال میں ملاوٹ کرے، جب استاد تربیت میں ملاوٹ کریں، جب میڈیا اطلاعات میں ملاوٹ کرے، جب سماج رواداری میں ملاوٹ کرے تو خوراک کا ملاوٹ زدہ ہونا وہاںکوئی حیران کن بات نہیں، یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ہماری داستانِ زوال میں ملاوٹ اب صرف ایک صفحہ نہیں بلکہ مکمل باب بن چکی ہے۔ یہ وقت ہماری قوم کے لیے ایک آئینہ ہے وہ گھڑی جب ہمیں خود سے سوال کرنا ہو گا کہ ہم کون ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں۔ مشکلات، بحران اور دھوکہ دہی صرف اشیاء یا قوانین تک محدود نہیں بلکہ ہمارے روزمرہ کے رویوں، فیصلوں اور ہمارے اعمال میں چھپی ہوئی حقیقت کا اظہار ہیں۔ کسی بھی تبدیلی کے لیے معاشرے کے ہر فرد کی بیداری انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی زمین، معیشت اور زندگی کے ہر گوشے میں سچائی، انصاف اور دیانتداری کی قدر نہ کی تو ترقی کے خواب کبھی حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکیں گے۔ صرف الزام تراشی اور شکایات کے بجائے اپنے کردار، نظام اور اپنے فیصلوں پر نظر ڈالنا ہو گی۔