Wed, September 16, 2026

نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی اور معاشرہ سازی

نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی اور معاشرہ سازی

ہمارا معاشرہ جس زبوں حالی کا شکار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔ مادہ پرستی، خود غرضی اور عدم برداشت نے اجتماعی زندگی کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ یا شخصیت نوجوان نسل کو سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں کردار سازی کا راستہ دکھانے کے لیے سرگرم ہو تو یہ ہمارے سماجی وجود کے لیے غنیمت سے کم نہیں۔صورت حال یہ ہے کہ ہم نے جدید دنیا کو محض صارفین بھی اچھے نہیں دئیے۔ گزشتہ چند برس میں دنیا کی بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کا ہم سے گریز کرنا اس بات کا ثبوت ہے۔ 
اخلاقی اقدار کے احیا کی خاطر جن لوگوں نے سرمائے کی مرکزیت کو توڑنا تھا وہ اپنے برانڈ کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب ٹوپی سے لے کر کفن تک برانڈڈ ہو چکے ہیں۔جب ایک ہی میدان میں صلہ رحمی کا مقابلہ شرح منافع سے ہو گا تو کون جیتے گا ؟ ہم اس میدان میں سخاوت کو سیونگ (savings) سے لڑاتے تو بچت جیت جاتی ہے۔ یار لوگوں کا احسان ہے کہ ہم نے سٹائل کو سادگی سے ہرا دیا ہے۔ اب دو کروڑ کی نیک اور شریف گاڑی کی عقابی ہیبت سے پیدل چلنے والا ممولا کہاں جیت سکتا ہے ؟ 
آپ نے تربیت کرنی کس سسٹم سے ہے؟ معاشرہ سازی اور شخصیت سازی کے لیے کون سا ماڈل تربیت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے؟؟ تعلیمی نصاب میں عقائد، اصول اور فروع کے مسائل یا تاریخی اور فقہی تنازعات پڑھانے دینے سے تو قوموں کی تربیت نہیں کی جا سکتی، گھٹن ضرور پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیجیے ثمرات میں جاہل عبادت گزار، بے عمل عالم یا احمق دنیا دار پیش خدمت ہیں۔ مادی ترقی کے ثمرات بہتر معاشرہ سازی کے ساتھ ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ معاشرہ سازی تربیت کے بغیر ممکن نہیں اور تربیت تجربے اور تہذیبی شعور سے ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو پہلے ہی کارپوریٹ سیکٹر نے اخلاقی اقدار کے پنپنے کے لیے جگہ کم ہی چھوڑی ہے۔ پھر ہم نے بھی اس مقصد کے لیے تعلیمی نصاب میں بہت ہی کم گنجائش رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی جانا ہوا تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں جو کام کوئی اتھارٹی یا کمیشن نہیں کر پایا وہ رحمت اللعالمین اتھارٹی انجام دے رہی ہے۔ اس اتھارٹی کے منصوبوں سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ ہم مستقبل میں ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کے قابل ہو سکیں گے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ خورشید ندیم صاحب جیسی صاحب بصیرت شخصیت کو اس اتھارٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ خورشید ندیم صاحب نے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی ایک مشکل وقت میں نہایت اہم خدمات انجام دی تھیں۔ ان کے علمی قد کاٹھ اور حکمت کا ایک زمانہ معترف ہے۔ انہوں نے رحمت اللعالمین اتھارٹی کو جس مؤثر انداز میں فعال کیا وہ انہی کا کام ہے۔ 
نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیینؐ اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم نے ’’کریکٹر ایجوکیشن اٹریٹیجی سیریز‘‘ متعارف کرائی ہے جس میں خاندان کے حقوق، تحقیق اور فیصلہ سازی پر مبنی خوبصورت تربیتی نصاب تشکیل دیا گیا ہے جو پرائمری سکول سے لے کر کالج تک کے طلبا کی شخصیت سازی کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ اس سیریز کے ذریعے ایک ایسا وژن پیش کیا ہے جو نہ صرف وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ ایک امید افزا آغاز بھی ہے۔ یہ منصوبہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ تعلیم صرف امتحانات پاس کرنے یا ملازمت کے حصول کا ذریعہ نہیں، بلکہ کردار سازی کرنے اور معاشرے کو اخلاقی بنیادوں پر استوار کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ در اصل بچوں کی ٹریننگ، ورکشاپ اور ایسی مشقیں ہیں جو انہیں ایک اچھا شہری اور ایک اچھا انسان بننے کے لیے تیار کریں۔ ہم نے جاپان سمیت کئی ممالک کے بچوں کو سکول میں ایسی مشقیں کرتے دیکھا ہے جو بنیادی اخلاق اور تہذیب سکھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر یہتربیت سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں دی جائے تو اس کے معیار کا اندازہ کیجئے اور اس معاشرے کا بھی جو ایسے افراد کی بدولت تشکیل پا سکتا ہے۔ ہم نے اسلامیات یا دینیات کی تعلیم سے مراد جو تصور قائم کر لیا ہے اسے وسعت دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں بلا جھجک یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم اور نصاب معاشرے کو باشعور اور مہذب افراد دینے میں کامیاب نہیں رہا۔ ہم نے نوجوان نسل کو تنقید کے نام پر اخلاق باختگی اور سیاسی شعور کے نام پر تعصب اور مذہب کے نام پر نفرت تھما دی ہے۔
نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی کی حکمتِ عملی کی اصل روح نبی اکرمؐ کی سیرتِ طیبہ ہے۔ رسول رحمتؐ کی سادگی، شفقت، دیانت اور انسان دوستی کو نصابِ تعلیم میں شامل کرنا محض ایک تعلیمی قدم نہیں بلکہ ایک تہذیبی انقلاب کی بنیاد ہے۔ اگر یہ اقدار طلبہ کے دل و دماغ میں راسخ ہو جائیں تو یہ معاشرہ نفرت، تعصب اور بددیانتی کی تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
خورشید احمد ندیم اور ان کی ٹیم نے بڑی بصیرت کے ساتھ قومی اقدار کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کیا ہے۔ یوں یہ فریم ورک روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ کاوش واضح پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے ورثے سے جڑے رہتے ہوئے بھی جدید دنیا کے چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔
یقینا یہ ایک مشکل اور صبر آزما راستہ ہے لیکن اگر اس پر خلوص نیت کے ساتھ عمل درآمد ہو گیا تو پاکستان کا تعلیمی نظام صرف گریجویٹس پیدا نہیں کرے گا بلکہ ایسے باکردار انسان پیدا کرے گا جو معاشرے کو محبت، انصاف اور ہمدردی کی بنیاد پر سنوار سکیں۔ یہ سلسلہ صرف سکول کالج تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو رحمت نیشنل اللعالمین اتھارٹی سے استفادہ کرنا چاہیے اور جامعات کی نصاب سازی یا گائیڈ لائن میں اتھارٹی کے منشور یا اس کی تجاویز کے مطابق تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔ جن جامعات میں سیرت چیئر فعال ہے وہاں کے سالانہ پروگرامز میں اتھارٹی کی مشاورت کا شامل ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ کام محض ایک منصوبہ نہیں، بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کے اخلاقی مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس لیے اس کاوش کو قومی سطح پر پذیرائی اور بھرپور عملی تعاون ملنا چاہیے۔ یہ وہ سمت ہے جو ہمیں ایک بہتر، بااخلاق اور مہذب پاکستان کی طرف لے جا سکتی ہے۔

ٹیگز: