Wed, September 16, 2026

این ایف سی کا گیارہواں اجلاس آج، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم پر بات چیت

این ایف سی کا گیارہواں اجلاس آج، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم پر بات چیت

اسلام آباد: وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا گیارہواں اجلاس آج ہو رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کریں گے، اور اس میں آئی ایم ایف بھی شریک ہوگا تاکہ نئے این ایف سی ایوارڈ پر بات چیت کی جا سکے۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ، تکنیکی ماہرین اور کمیشن کے ممبر شرکت کریں گے۔ پنجاب سے ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے اسد سعید، بلوچستان سے محفوظ خان، اور خیبرپختونخوا سے مشرف رسول کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ وفاقی سیکرٹری خزانہ اور دیگر ماہرین بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق، اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات اور ذیلی گروپ بنانے پر بات کی جائے گی، اور مستقبل میں ہونے والے اجلاسوں کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ اجلاس میں پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے صوبوں کے مسائل سنے جائیں گے اور وفاقی حکومت اپنے موقف کو بھی واضح کرے گی۔

یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ 2010 سے نافذ ہے، اور آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد اس پر نظرثانی ضروری ہے، لیکن 2015 کے بعد سے اب تک یہ نظرثانی نہیں ہو سکی ہے۔

خیبرپختونخوا میں این ایف سی کے حوالے سے مشاورتی اجلاس

دوسری جانب، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت این ایف سی کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔ اس اجلاس میں صوبے کے مالی اور آئینی حقوق پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق فاٹا کا انتظامی انضمام تو مکمل ہو چکا ہے لیکن مالی انضمام ابھی تک نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک وفاق نے صرف 168 ارب روپے دیے ہیں، جب کہ 531.9 ارب روپے ابھی تک بقایا ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ضم اضلاع کے حصے کا نہ ملنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ 

ٹیگز: