Wed, September 16, 2026

ہم مسلسل سبسڈی نہیں دے سکتے، لیکن وزیراعظم کا عزم ہے جب تک عالمی حالات ٹھیک نہیں ہوتے، مستحق افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا: وفاقی وزراء

ہم مسلسل سبسڈی نہیں دے سکتے، لیکن وزیراعظم کا عزم ہے جب تک عالمی حالات ٹھیک نہیں ہوتے، مستحق افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا: وفاقی وزراء

لاہور : وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک اور عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی جنگی صورتحال کے باوجود حکومت نے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا، پٹرولیم قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے 129 ارب روپے کی بھاری سبسڈی دی گئی ہے۔ لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزراء نے حکومتی ترجیحات اور معاشی اقدامات کی تفصیلات جاری کر دیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ایک بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزراء نے اپنی 6 ماہ کی تنخواہیں عوامی ریلیف کے لیے وقف کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے ان وسائل کو غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ "ہم مسلسل سبسڈی نہیں دے سکتے، لیکن وزیراعظم کا عزم ہے کہ جب تک عالمی حالات ٹھیک نہیں ہوتے، مستحق افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
حکومتی ریلیف اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ    موٹر سائیکل مالکان کو پٹرول پر 100 روپے فی لٹر کی خصوصی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے۔
    کسانوں کو زراعت کی بہتری کے لیے 1500 روپے کی براہِ راست سبسڈی فراہم کی گئی۔    شہریوں کی سہولت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی ہے اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ایک لاکھ روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خطے میں جنگ کی وجہ سے سپلائی لائنز متاثر ہوئی ہیں، لیکن پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی پیشگی منصوبہ بندی کی بدولت تیل کا بحران پیدا نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شہری پٹرول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں، جبکہ پاکستان میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی جاری ہے۔
عطا تارڑ نے عوام سے اپیل کی کہ ان مشکل حالات میں توانائی کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صاحبِ حیثیت افراد کے لیے قیمتیں بڑھا کر غریب آدمی کو تحفظ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ٹیگز: