اسلام آباد: وفاقی وزراء شزا فاطمہ اور بلال اظہر کیانی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمتِ عملی واضح کر دی ہے۔ حکومت نے عوامی سہولت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کو فیول پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے سبسڈی کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا کی شفافیت کے لیے ایکسائز رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف وہی گاڑیاں سبسڈی کی حقدار ہوں گی جو قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں، تاکہ حکومتی ریلیف براہِ راست متعلقہ شعبوں تک پہنچ سکے۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا کوئی بحران نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی بلاتعطل فراہمی کے لیے متبادل انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت قیامِ امن اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ اس سبسڈی کا مقصد بسوں اور ٹرکوں کے کرایوں میں اضافے کو روک کر عوام کو مہنگائی سے بچانا ہے۔
وفاقی وزراء کے مطابق، حکومت ایک طرف ڈیجیٹل ڈیٹا (رجسٹریشن) کے ذریعے سبسڈی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا رہی ہے اور دوسری طرف سپلائی چین کو مضبوط کر کے مارکیٹ میں استحکام لا رہی ہے۔