ایک زمانے میں چھٹی کا دن عید کے دن کی طرح ہوتا تھا اب عید کا دن چھٹی کے دن کی طرح گزر جاتا ہے، کئی لوگ عید کی نماز بھی نہیں پڑھتے وہ سمجھتے ہیں نماز کی بھی چھٹی ہے، ہم جب چھوٹے تھے عید کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے ارد گرد کھڑے تمام نمازیوں سے چاہے وہ ہمارے جاننے والے نہیں بھی ہوتے تھے ہم ان سے گلے ملتے تھے اور ویسے ہی تین بار ملتے تھے جو عید ملنے کی روایت کے مطابق تھا، اب اکثر میں دیکھتا ہوں اور کڑھتا ہوں عید کی نماز پڑھتے ہی لوگ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں، کچھ خطبہ بھی نہیں سنتے، صرف جاننے والوں کو گلے لگاتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ پتہ ہی نہیں چلتا گلے سے لگا رہے ہیں یا گلے سے اتار رہے ہیں ؟ ہم جب اپنے والد محترم کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے جاتے تھے، نماز کے بعد جانے انجانے لوگوں سے گلے ملتے ہوئے مسجد سے باہر نکلتے تو بہت کم تعداد میں مسجد سے باہر کھڑے”مستحقین“ کو عیدی دینے سے پہلے انہیں گلے لگاتے تھے، والد محترم فرماتے تھے ان مستحقین کو آپ کی دی ہوئی عیدی بطور ایک نیکی کے اس صورت میں قبول ہوگی جب آپ انہیں گلے سے لگا کر ان سے ویسے ہی عید ملیں جیسے آپ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملتے ہیں، اب حالت یہ ہے لوگ عید کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل کے یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے کتنے”مستحقین“ ان کے منتظر ہیں ؟ انہیں گلے سے لگانا دور کی بات ہے پانچ دس روپے کی عیدی بھی انہیں نہیں دیتے جو، ان پر احسان نہیں ان کا حق بنتا ہے، جن لوگوں کے پاس مال و زر کے انبار ہیں انہوں نے ان کے حق مارے ہوئے ہیں، ان کے حق ان کو واپس لوٹا دیں اس کے بعد شاید ہی سڑکوں پر کوئی بھیک مانگتا آپ کو نظر آئے گا، مجھے یاد ہے ہم جب بچپن میں کسی کو”غریب“ کہتے تھے والد محترم فرماتے تھے انہیں غریب مت کہو انہیں مستحق کہو، ہمارے بزرگ بہت عظیم تھے، ہم ا±ن جیسے نہیں بن سکے، ایک بار میں اپنے والد محترم کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں گیا میں نے ویٹر سے کہا”آرڈر لے لو “، والد محترم کو میری یہ بات بہت ناگوار گزری کہنے لگے ” پتر آرڈر صرف اللہ دا چل دا اے آئندہ آپ نے کسی سے یہ نہیں کہنا آرڈر لے لو “، میں نے پوچھا ”ابا جی پھر میں نے کیا کہنا ہے ؟“ فرمایا”تم نے کہنا ہے ہماری ریکویسٹ نوٹ کر لیں “ وہ دن اور آج کا دن ہم جب بھی کسی ریسٹورنٹ میں گئے یہی کہا”ہماری ریکویسٹ نوٹ کر لیں “، اور بچوں کو بھی سختی سے اس کا پابند بنایا، اسی طرح ایک بار میں نے کہا ”ابا جی میں نے یہ فیصلہ کیاہے۔۔ میری بات ابھی ادھوری تھی وہ بیچ میں بول پڑے فرمایا “بیٹا آپ کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے ؟ یہ صرف اللہ کا اختیار ہے آپ ارادہ نہیں کر سکتے فیصلہ تو بہت دور کی بات ہے، آپ صرف سوچ سکتے ہیں یا دعا کر سکتے ہیں“، اکثر یہ ہوتا تھا میرے بچے میرے کاندھے یا ٹانگیں وغیرہ دباتے تھے میں ان سے کہتا تھا آپ کی خدمت کا یہ انداز بھی ٹھیک ہے لیکن اگر آپ صحیح معنوں میں میری خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اپنے موبائل بند کر کے سائیڈ پر رکھ دیں اور مجھ سے میرے بزرگوں کی باتیں سنیں، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں آپ کے پردادا اور دادا کتنے عظیم لوگ تھے آپ کے نانا اور پرنانا کتنی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مالک تھے، آپ کی نانی دادی کتنی خوبصورت روایات کی حامل تھیں“، اب معاشرہ بداخلاقی کے جس مقام پر پہنچ گیا ہے یوں محسوس ہوتا ہے ہمارے بچے ہمارے نوجوان اور بزرگ سب خرابی ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، عمروں کا فرق مٹ گیا ہے، عدم برداشت کا یہ عالم ہے عید کے روز بھی سڑکوں پر لوگوں کو میں نے لڑتے جھگڑتے دیکھا، جبکہ یہ ایک دوسرے کو گلے سے لگانے کا دن تھا، مجھے ایک واقعہ یاد آیا، بچپن میں ہمارا جائنٹ فیملی سسٹم تھا، ایک گھر تھا جس کی نچلی منزل پر ہم اور اوپر والی منزل پر میرے تایا رہتے تھے، ایک بار میرے تایا نے کسی بات سے ناراض ہو کر میرے والد کے سر پر تانبے کا گلاس مار کر ا±ن کا سر پھاڑ دیا، ہم اپنے لہو لہان والد کو لے کر قریبی کلینک پر گئے جہاں ان کے سر پر چار ٹانکے لگے، اس واقعے کے دو روز بعد عید تھی، ہم نماز پڑھ کر گھر آئے والد محترم فرمانے لگے ”جاو اوپر تایا ابو کو سلام کر کے آو“، ہم بہن بھائیوں کو والد صاحب کی اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ابھی دو روز پہلے تایا ابو نے ان کا سر پھاڑا اور یہ کہہ رہے ہیں ”جاو¿ اوپر انہیں سلام کر کے آو“، میں نے گستاخی کی میں نے کہا ”ابو جی ہم نے نہیں جانا“، وہ غصے میں آگئے کہنے لگے ”آج عید کا دن ہے وہ آپ کے بڑے ہیں آپ کو جانا چاہئے“، ہم چلے گئے، تایا ابو ہمیں دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ہمیں پیار کیا ہمیں عیدی دی ہمیں گلے سے لگایا گود میں بیٹھایا اور پھر ہمارے ساتھ نیچے آکر اپنے چھوٹے بھائی ( ہمارے والد) کو گلے سے لگا کر ان سے کہنے لگے ”یار وڈا میں نئیں وڈا ت±وں نکلیا ایں“، آج دل دکھتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض بہن بھائی اور دوست احباب عید پر بھی ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے انہیں مناتے نہیں ہیں، شاید اسی لئے عید کی خوشیاں اب پھیکی پھیکی رہتی ہیں، اس عید پر میں اپنے کچھ رشتہ داروں کچھ اساتذہ اور دوستوں وغیرہ سے ملنے گیا چھوٹی چھوٹی باتوں پر میں نے انہیں اتنا فکر مند دیکھا مجھے لگا یہ ان کے لئے عیدالفطر نہیں عیدالفکر ہے، ایک صاحب فکر مند تھے کہ انہوں نے سیر کے لئے امریکہ جانا ہے، پتہ نہیں ان کا ویزہ لگتا ہے یا نہیں ؟ ایک دوست کو فکر مند تھے انہوں نے نئی گاڑی بک کروائی ہے ابھی تک نہیں ملی، ایک اور دوست فکرمند تھے ان کے بچے کا داخلہ ایچی سن میں ہوسکے گا یا نہیں ؟ ایک پولیس افسر فکر مند تھے عید کے بعد تبادلے ہونے ہیں پتہ نہیں وہ آر پی او لگتے ہیں یا نہیں ؟ میرے گھر کے سامنے ایک کمشنر صاحب رہتے ہیں میں عید کی نماز پڑھ کے واپس آیا ان سے آمنا سامنا ہوگیا، کہنے لگے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے میرا تبادلہ کیا جا رہا ہے پتہ نہیں میرا کیا بنے گا ؟، میں نے ان سب سے کہا ” یار آج عیدالفطر ہے خدا کا خوف کریں آپ اسے عیدالفکر بنا کے بیٹھے ہوئے ہیں ؟ کم از کم آج کے دن تو کچھ خو ش ہو لیں“، افسوس اب لوگ بڑی بڑی خوشیاں نہیں مناتے چھوٹے چھوٹے د±کھ لے کر بیٹھ جاتے ہیں، شاید اسی لئے ان کی زندگیوں سے برکتیں اور رونقیں ختم ہوتی جا رہی ہیں، غیر ضروری فکروں نے بچوں کو بوڑھا کر دیا ہے، بیس بیس پچیس پچیس سالہ نوجوانوں کو ہارٹ اٹیک ہورہے ہیں، ناشکری بڑھتی جارہی ہے عمریں کم ہوتی جا رہی ہیں، اللہ جانے ہمارا کیا بنے گا ؟