Wed, September 16, 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کی فل کورٹ میٹنگ :اہم عدالتی رولز پر ججز میں اتفاق نہ ہو سکا، خطوط نظرانداز

 اسلام آباد ہائیکورٹ کی فل کورٹ میٹنگ :اہم عدالتی رولز پر ججز میں اتفاق نہ ہو سکا، خطوط نظرانداز

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کی فل کورٹ میٹنگ کی اندرونی کارروائی میں ججز کے درمیان واضح تقسیم سامنے آ گئی۔ ذرائع کے مطابق اہم اسٹیبلشمنٹ اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز بغیر کسی تفصیلی مشاورت صرف اکثریتی رائے سے منظور کر لیے گئے۔

اجلاس میں 6 ججز نے حمایت اور 5 نے مخالفت کی، جب کہ اختلافی رائے رکھنے والے ججز جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق کے خطوط اور تحفظات کو میٹنگ میں زیر بحث ہی نہیں لایا گیا۔

مخالفت کرنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت شامل ہیں۔
حمایت کرنے والے ججز میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب طاہر، جسٹس خادم سومرو، جسٹس اعظم خان، جسٹس آصف محمود اور جسٹس انعام امین منہاس شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق، جسٹس بابر ستار کی میٹنگ مؤخر کرنے کی استدعا کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ فل کورٹ میٹنگ میں ہائیکورٹ کی عمارت کے ڈھانچے میں نقائص سے متعلق معاملہ حکومت کو بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جب کہ فیملی کورٹس کے ججز کے اختیارات پر متفقہ رائے سامنے آئی۔

یہ صورتحال اعلیٰ عدلیہ کے اندرونی نظم و نسق اور فیصلہ سازی کے عمل پر کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

ٹیگز: