میں نے اپنے گزشتہ کالم میں گھرکی ہسپتال کے شعبہ امراض دل میں اپنے وزٹ کا ذکر کیا تھا ، میں نے بڑے اداس دل سے عرض کیا تھا دوران وزٹ میں نے وارڈ اور آئی سی یو میں جن مریضوں کو زیر علاج دیکھا ان میں اکثر کی عمریں بہت کم تھیں ،حتی کہ جس پہلے مریض کی اس شعبے میں اوپن ہارٹ سرجری ہوئی اس کی عمر بھی صرف بیالیس برس تھی ، میں نے اس شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احسن عارف سے پوچھا ”ہمارے نوجوانوں کے دل اتنے کمزور کیوں ہو گئے ہیں ؟ آج کل اکثر سننے کو ملتا ہے فلاں شخص یا فلاں نوجوان ہارٹ اٹیک یا ہارٹ فیل کی وجہ سے انتقال فرما گیا ، ایسا کیوں ہو رہاہے ؟ انہوں نے اس کی کئی وجوہات بتائیں جو میں اپنے گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں،ان میں سب سے بڑی وجہ ”سٹریس“ ہے ، المیہ یہ ہے ہمارے ہاں سٹریس مینجمنٹ کا کوئی رحجان نہیں،نہ ہی بڑے پیمانے پر سٹریس مینجمینٹ کا سرکاری سطع پر کوئی اہتمام ہے، جو کہ ”تم ہی نے درد دیا ہے تم ہی دوا دینا“ کی صورت میں ہونا چاہئے، البتہ کچھ سرکاری ہسپتالوں میں سائیکائٹرسٹ موجود ہیں جہاں مریضوں کا علاج ہوتا ہے، کچھ ہسپتالوں میں باقاعدہ وارڈز بھی ہیں، ہمارے اکثر نوجوان یا لوگ اپنے ڈیپریشن یا انگزائٹی کا علاج ہی نہیں کرواتے ، بے شمار لوگ خصوصاً نوجوان اپنے سٹریس کو کم یا ختم کرنے کے لیے مختلف نشہ آور ادویات کا استعمال ازخود کرنا شروع کر دیتے ہیں ،کچھ شراب اور دوسرے نشوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں،کچھ تعویذ دھاگوں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں ، ان کے برعکس کچھ ایسے بھی ہیں جن پر اللہ اپنی خاص رحمت فرماتا ہے، وہ اپنا علاج دعا اور عبادت سے کرتے ہیں ، ان لوگوں کا سٹریس بہت جلد ختم یا کم ہو جاتا ہے ا±ن لوگوں کے مقابلے میں جو اپنا سٹریس کم یا ختم کرنے کے لیے نشہ آور ادویات ، شراب یا دیگر ایسی خرافات کا سہارا لیتے ہیں اور بالاآخر مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے ہیں ، پاکستان کے اس وقت جو حالات ہیں یہاں ہر کوئی سٹریس میں ہے ، سٹریس کی مختلف اقسام ہیں، عام آدمی اس سٹریس میں مبتلا ہے ا±س کے پاس دولت یا سفارش اگر نہیں ہے، اس عالم میں ا±س کے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہو جائے کوئی ایک ادارہ یا فورم ایسا نہیں ہے جو مفت میں ا±س کی مدد کرے گا، عدم تحفظ کے اس احساس سے بےشمار لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں ، بیشمار لوگ م±لک چھوڑنے کے لئے کوشاں ہیں ،کچھ دولت مندوں کا ”سٹریس“ یہ ہے جو مال انہوں نے جائز ناجائز طریقوں سے کمایا ہے اس میں مسلسل اضافہ اب کیوں نہیں ہو رہا ؟ ملکی حالات ٹھیک ہونے کی دعا وہ محض اس لیے کرتے ہیں ان کی جائز ناجائز ضرورتیں پوری ہوتی رہیں اور ان کے جائز ناجائز مال میں مسلسل اضافے ہوتے رہیں، اگلے روز ایک اعلیٰ پولیس افسر مجھ سے ملنے آیا، شدید پریشانی کے عالم میں شیشہ ٹائپ سگریٹ پر سگریٹ پیئے جا رہا تھا، اس دوران وہ گہرے گہرے سانس بھی لیتا رہا،کبھی اٹھ کر ڈرائنگ روم میں ٹہلنا شروع کر دیتا،کبھی صوفے پر بیٹھ جاتا تھا کبھی اس طرح لیٹ جاتا تھا جس طرح اپنے اصلی آقاوں کے آگے وہ لیٹ جاتا ہے ، میں نے اس سے پوچھا ”تم اتنے بڑے پولیس افسرہو ، لاہور میں قبضے کروا کروا کر جائز ناجائز مال و زر اور جائیدادوں کے تمہارے پاس انبار لگے ہیں ، پھر اتنی بے سکونی کیوں ہے ؟ میں نے سوچا ہو سکتا ہے اس وقت اس بے ضمیری کا ضمیر چند لمحوں کے لئے جاگا ہو اور وہ میرے اس سوال کا جواب یہ دے کہ ”اس ملک کے اصلی حکمرانوں کے حکم پر ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں پر جو ستم میں نے اپنی فورس کے ذریعے یا خود ڈھائے، لوگوں کی ماوں بہنوں کو رسوا یا بے عزت کرنے کے جو اہتمام میں نے کئے، چادر چاردیواری کا تقدس پامال کرنے کی جو انتہا میں نے کی ، ا±س وجہ سے میں سٹریس میں ہوں روز حشر اللہ کو کیا جواب دوں گا ؟ مگر aس کے سٹریس کی وجہ اور تھی ،وہ کہنے لگا ”میں نے اپنے ایک جاننے والے کے ذریعے بے شمار پیسہ جو کروڑوں اربوں میں ہے بیرون ملک بھجوایاہے ، جس شخص کے پاس پیسہ بھجوایا ہے مجھے بعد میں پتہ چلا وہ ایک روایتی فراڈیاہے ، اب مجھے خدشہ ہے وہ کہیں میری رقم ہڑپ نہ کر جائے یا میرے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بن جائے ، بس یہی سٹریس ہے جس نے آج کل میری رات کی نیندیں اور دن کا سکون حرام کیا ہوا ہے“ ، میں نے عرض کیا ”تم نے بھی تو حرام مال ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں پر ظلم ڈھانے کی اخیر کرنے کے صلے میں کھایا ہے ، کسی نے تمہیں نہیں پوچھا ،بلکہ جنہوں نے تمہیں پوچھنا تھا وہ تمہارے ساتھ مل کر خود انی پاتے رہے ہیں ، چنانچہ تمہارا حرام مال کوئی حرام خور اگر کھا بھی گیا تو اچھا ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی کی صورت میں تمہارا کچھ حساب کتاب د±نیا میں ہی ہوجائے گا، یہ تو تھی ایک بے ایمان افسر کی داستان ، اب ذرا ایماندار افسروں کے سٹریس کا بھی س±ن لیں ، ا±ن کا سٹریس یہ ہے کہ اس بے ایمان معاشرے میں ا±نہیں ا±ن کے کسی ناکردہ گناہ کی سزا نہ مل جائے ، ا±ن کی ایمانداری کی وجہ سے کوئی بے ایمان افسر ان کے خلاف کوئی سازش کر کے انہیں ملازمت سے برطرف ہی نہ کروا دے ، یا ا±نہیں کوئی اور ایسی سزا نہ دلوا دے جس سے ا±ن کے لیے پریشانیاں پیدا ہو جائیں ، ہمارے بیشمار نوجوان اس وجہ سے سٹریس میں ہیں ان کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں انہیں ان کی اہلیت اور قابلیت کے مطابق جاب نہیں مل رہی ، نہ غیر ملکی ویزے مل رہے ہیں جہاں جا کے وہ اپنی اہلیت اور قابلیت کے مطابق کوئی جاب تلاش کر سکیں ، ہمارے والدین بیچارے اس سٹریس میں ہیں ان کی بچیوں اور بچوں کے مناسب رشتے نہیں مل رہے ، لوگ باہر سے کچھ اور اندر سے کچھ اورہوتے ہیں ، بچیاں بیچاری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں، جہیز کے مسائل الگ ہیں ،یہ تو میں نے آپ کو عام لوگوں کے سٹریس بارے بتایا ہے ، سٹریس سے ہمارے کچھ بڑے بڑے حکمران بھی محفوظ نہیں ہیں ، پچھلے دنوں میں برطانیہ میں تھا پاکستان کے ایک بہت بڑے سیاسی حکمران کا معالج ایک ڈنر میں مجھ سے ملا ، اس نے بتایا اس کا یہ حکمران مریض پہلے ہی نیند بہت کم آنے کی”بیماری“ میں مبتلا تھا، اب رات کو نیند کی تین تین گولیاں کھا کے ایک گھنٹہ بھی وہ نہیں سو سکتا ، میں نے عرض کیا”نیند آئے نہ آئے حرام کا مال بس آتے رہنا چاہئے“،باقی ستے خیراں نے ، نیند نہ آنے کا سٹریس حرام مال نہ آنے کے سٹریس سے بڑا نہیں ہوسکتا۔