پاکستانی ڈراموں میں کزن میرج کا موضوع اکثر دکھایا جاتا ہے، اور حالیہ ڈرامہ سیریل ’بریانی‘ نے اس مسئلے پر دوبارہ روشنی ڈالی ہے۔ ڈرامے میں گُل مہر اپنے شوہر میر میران سے کہتی ہیں ’’ہمارے ماں باپ اسی حویلی میں ساتھ پلے بڑھے، انھوں نے رشتے جوڑے، ان کے بچے بھی ہوئے۔‘‘ یہ مکالمہ نہ صرف خاندانی رشتوں کی پیچیدگی بیان کرتا ہے بلکہ پاکستانی سماج میں کزن میرج کے رواج کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ڈرامے کے ردعمل میں ملا جلا اثر نظر آیا۔ کچھ لوگوں نے اسے حقیقت پسندانہ اور دلچسپ قرار دیا، جبکہ دیگر نے کزن میرج کے حق میں تبصرے کیے۔ اس موضوع پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرامے سماج کی عکاسی تو کر سکتے ہیں، لیکن بار بار اس کا تکرار صحت کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
اعداد و شمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں قریبی رشتوں میں شادی کا رجحان انتہائی زیادہ ہے۔ پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے مطابق تقریباً دو تہائی پاکستانی شادیوں میں کزنز شریک ہوتے ہیں، جبکہ گیلپ کے سروے میں 15 سے 29 سال کی خواتین کی تقریباً نصف شادی فرسٹ کزن کے ساتھ ظاہر ہوئی۔ طبی تحقیقات کے مطابق کزن میرج کے بچوں میں جینیاتی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جیسے سسٹک فائبروسس اور سکل سیل بیماری۔
ڈرامہ ساز مہرین جبار اور مصنفہ آمنہ مفتی دونوں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ڈراموں میں کزن میرج کو کم دکھایا جائے تاکہ معاشرتی شعور پیدا کیا جا سکے۔پاکستانی ڈرامے اس وقت معاشرتی حقیقت کی عکاسی تو کر رہے ہیں، لیکن یہ سوال باقی ہے کہ کیا انہیں روایت کو فروغ دینے یا شعور اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈراموں کے ذریعے اس مسئلے پر شعور پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر اسے عام اور معمولی دکھانے سے معاشرتی اور طبی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔