ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے پیچیدہ اور حساس نوعیت کے مسائل ہیں جن کو حکومتیں چھیڑتے ہوئے بھی کتراتی ہیں کیونکہ حکومتیں ایسے مسائل کو دبائے رکھتی ہیں۔ معاشرے کے کچھ طبقات کی جانب سے ان مسائل کو گاہے بگاہے اجاگر تو کیا جاتا ہے لیکن ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ مریم نواز کی حکومت نے ایسے رویوں کی نفی کر دی ہے۔ جن موضوعات پر لوگ بات کرتے ہوئے خوف زدہ ہوتے تھے منفی رد عمل آنے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے ان موضوعات کو مریم نواز نے حل طلب کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ کی منظوری اس کی بڑی دلیل ہے۔ اب بیٹیوں کو سماجی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانے کا وقت گزر گیا ہے۔ کم عمری کی شادیاں ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہیں۔ اب مریم نواز اس المیہ کے سامنے آہنی دیوار بن کے کھڑی ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر کئی سماجی تنظیمیں مختلف پلیٹ فارم پر بات کرتی رہی ہیں لیکن کبھی ان کی بات کو سنجیدہ نہیں لیا گیا تھا۔ مریم نواز خود ایک ماں ہیں وہ کم عمری کی شادی کو ایک ناقابل معافی جرم سمجھتی ہیں۔ کیا بیٹیوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے؟ کیا بیٹیوں کو اپنی انا کے فیصلوں کی بھینٹ چڑھانا انسانیت ہے؟ کم عمر لڑکیوں کی مرضی کے بغیر جبری شادیاں گناہ کبیرہ سے کم عمل نہیں ہے۔ ایسے حساس معاملے پر قانون سازی کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ الحمدللہ پنجاب حکومت کو اس چیز کا کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ اتنی اہم ترین قانون سازی کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ مریم نواز نے پنجاب کی ہر بیٹی کے سر پر دست شفقت رکھا ہے۔ جب پنجاب کی بیٹیاں مریم نواز کو ماں کا لقب دیتی ہیں تو ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ایک ماں اپنی بیٹی کو کسی کی انا کی بھینٹ چڑھنے دیں گی۔ چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ معاشرتی روایات کے سامنے ایک آہنی دیوار ہے۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات میں کم عمر بچیاں بھی شامل ہیں جن کو مصلحتوں کی خاطر بھینٹ چڑھادیا جاتا۔ لڑکی اور لڑکے کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی اسکے لیے پہلے شناختی کارڈکی شرط لازمی ہے۔ قتل کرے بھائی اور ونی چڑھے کی بچی، وراثت میں بچی کو حصہ نہیں ملے گا، اپنے ہر گناہ کو چھپانے کیلئے کیا ایک بچی چاہیے؟ ہم جنگل کے قانون میں نہیں رہتے۔ بچیوں کی قربانیاں دینا بند کر دیں، ایسا نہیں ہو گا کہ ہر مرد کی غلطی کی سزا ایک بچی کو دی جائے گی۔ ہم نے اس دن کا خواب پچھلے 20 سال سے دیکھا ہے۔ کیا جو لوگ بچی کی شادی 18سال کی عمر میں نہیں چاہتے تو کیا وہ اپنی بچی کی شادی چھ سال یا گیارہ سال کی عمر میں کر سکتے ہیں؟ ہمارے ملک کے قانون کے مطابق کوئی کنٹریکٹ میں آپ داخل نہیں ہو سکتے جب تک آپ کی عمر اٹھارہ سال نہ ہو اور آپ کے پاس شناختی کارڈ نہ ہو۔ یہ زندگی کا اتنا بڑا کنٹریکٹ ہے ایک بچی کی زندگی کا معاملہ ہے۔ کتنی بچیاں کم عمری کی شادی میں مرتی ہیں اسکی فکر کسی کو نہیں ہے۔ خدا جانے ان والدین کی کیا مجبوری ہوتی ہے جو اپنی بیٹی کی کم عمری میں شادیاں کر دیتے ہیں۔ اس قانون کے تحت لڑکا اور لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم 18 سال عمر مقرر کی گئی ہے صنفی امتیاز کو ختم کیا گیا ہے اور قانون کو مساوی بنایا گیا ہے۔ یہ قانون کم عمر بچیوں کے استحصال، جبری شادیوں، چائلڈ ٹریفکنگ جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو بچہ تصور کیا جائے گا جبکہ ایسی شادی جس میں ایک یا دونوں فریق کم عمر ہوں اس کو کم عمری کی شادی تسلیم کیا جائے گا۔ اس ایکٹ کے تحت صرف سیشن کورٹ کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اس قانون کے تحت آنے والے مقدمات کی سماعت کرے۔ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی نکاح رجسٹرار کم عمری کی شادیوں کو رجسٹرڈ نہیں کرے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں اسے ایک سال قید اور ایک سال لاکھ جرمانے کی سزا ہو گی۔ اگر کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے تو اسے کم از کم دو سال یا زیادہ سے زیادہ تین سال قید کے ساتھ پانچ لاکھ جرمانے کی سزا ہو گی۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمری بچے کے ساتھ کسی قسم کے ازدواجی چند تعلقات چاہے اس میں بچے کی رضامندی ہی کیوں نہ ہو چائلڈ میرج تصور کیا جائے گا۔ چائلڈ ابیوز کے جرم میں ملوث افراد کو پانچ سال سے سات سال قید کم از کم 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ اگر کسی بچے کو کم عمری کی شادی کے مقصد سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جائے یا صوبے سے باہر منتقل کیا جائے تو یہ چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہو گی۔ چائلڈ ٹریفکنگ میں ملوث افراد کو پانچ سال سے سات سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا جبکہ ایسے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کو بھی سزائیں دی جائیں گی۔ اس ایکٹ کی منظوری وقت کا تقاضا بن چکی تھی کیونکہ کم عمری کی شادیاں عالمی سطح پر بھی ہمارا امیج خراب کر رہی تھی۔ بیٹیوں کو کم تر اور حقیر سمجھنے کا وقت اب گزر گیا ہے۔ پنجاب میں اب ایک ماں بہن اور بیٹی کی حکومت ہے جو صوبے کی ہر بیٹی کی آواز بلند کرنے والی ہے اور اس کے ہر طرح کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنانے کے لیے پوری طاقت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پنجاب کی بیٹیاں اب خود کو مکمل محفوظ سمجھ رہی ہیں کیونکہ ان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ کسی کو اپنی انا اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے بیٹیوں کو بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آج کی بیٹی کل کی ماں اور آنے والے وقت کی ایک بہترین معمار ہوتی ہے۔ ایک مضبوط اور با ہمت ماں ہی معاشرے کی ترقی کی بنیاد رکھتی ہے اور مریم نواز بطور ماں یہ رول بھرپور ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہی ہیں۔ پنجاب کی ہر بیٹی اور ہر ماں مریم نواز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ کی منظوری پنجاب کی ہر بیٹی اور ہر ماں کے لیے فخر کی علامت ہے۔ اس عظیم قانون سازی پر پنجاب کی ہر بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پنجاب اسمبلی کے ہر رکن کی مشکور ہے جنہوں نے اس تاریخی ایکٹ کی منظوری میں اپنا رول ادا کیا۔